بابِ دوستی کھولنے کا باوقار انداز

بابِ دوستی کھولنے کا باوقار انداز

پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے چمن بارڈر پر ’’بابِ دوستی‘‘ کو بالآخر چودہ روز بعد کھول دیا۔اِس سلسلے میں پاکستان اور افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کی پانچویں فلیگ میٹنگ کامیاب رہی۔ 18اگست کو افغانستان کی حدود میں بعض شرپسندوں نے پاکستان کے قومی پرچم کی بے حرمتی کی، اشتعال انگیز نعرے لگائے اور بابِ دوستی پر پتھراؤ بھی کیا تھا، جس کے بعد پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے بابِ دوستی کو بند کر دیا۔ چمن بارڈر سے روزانہ بڑی تعداد میں ہیوی ٹرالرز اور ٹرکوں کے علاوہ افغان باشندے بھی پاکستانی علاقے میں آتے ہیں، اِسی طرح پاکستان کی حدود سے بھی باربرداری کی گاڑیاں اور افغان شہری واپس افغانستان جایا کرتے ہیں۔ بابِ دوستی بند ہونے سے ان لوگوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ پھل اور سبزیاں وغیرہ خراب ہونے سے تاجروں کو نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ افغان سیکیورٹی فورسز پر پاکستان کی طرف سے واضح کر دیا گیا کہ 18اگست کو ہونے والے قابلِ مذمت واقعہ پر معافی مانگنے تک بابِ دوستی نہیں کھولا جائے گا۔ جب افغان سیکیورٹی فورسز نے دیکھا کہ صورتِ حال پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور اس میں کسی صورت لچک پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں تو پانچویں فلیگ میٹنگ میں افغان سیکیورٹی فورسز نے تحریری طور پر معافی نامہ پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاک افغان دوستی کے دشمنوں نے سازش کی تھی،آئندہ ہر ماہ باقاعدگی سے فلیگ میٹنگ کرنے کے علاوہ ہاٹ لائن پر بھی رابطہ قائم رکھا جائے گا۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی طرف اصولی مؤقف پیش کیا گیا، جو قومی غیرت کے تقاضوں کے عین مطابق تھا، جن شرپسندوں کی اشتعال انگیزی کی وجہ سے بابِ دوستی بند رہا، ان کی بھی افغان سیکیورٹی فورسز کو نشاندہی کر کے ایکشن لینا چاہئے تاکہ آئندہ کسی کو پاک افغان دوستی کے خلاف سازش کرنے کی جرأت نہ ہو۔ دراصل جب سے امریکہ اور بھارت کے درمیان محبت کی پینگیں بڑھی ہیں، افغانستان کی حکومت ، بھارت کے اشاروں پر پہلے سے زیادہ فرمائشی پروگرام پر عمل کرنے لگی ہے، مودی حکومت آج کل پاکستان کے خلاف نت نئی سازشیں کر رہی ہے ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ہر وقت چوکس رہنا ہو گا اور اِس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہئے۔ پاکستان کی طر ف سے یہ مطالبہ ضرور ہونا چاہئے کہ 18اگست کے شرمناک اور قابل مذمت واقعہ میں ملوث لوگوں کو تلاش کر کے سخت کارروائی کی جائے۔ افغان حکومت کی طرف سے محض مذمت ہی کافی نہیں ہے۔

مزید : اداریہ


loading...