وراثت غصب کرنا گناہ کبیرہ ہے

وراثت غصب کرنا گناہ کبیرہ ہے

مولانا امیرالدین مہر

مسلمانوں میں مالی معاملات کے بارے میں جو بڑی کوتاہیاں اور غلطیاں ہو رہی ہیں ان میں سے ایک میراث کا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہؐ کے احکام و ارشادات کے مطابق تقسیم نہ کرنا، بلکہ ایک وارث یا چند وارثوں کا اسے ہڑپ کرجانا اور دوسرے وارثوں کو محروم کر دینا ہے۔

قرآن مجید میں اسے کافروں کا فعل اور کردار بتایا گیا ہے۔ ارشاد ہے:

’’اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو اور مال کی محبت میں پوری طرح گرفتار ہو‘‘۔(الفجر: 20-19)

عرب جاہلیت کے دور میں عورتوں اور بچوں کو میراث کے مال سے محروم رکھا جاتا تھا، اس کے علاوہ جو زیادہ طاقت ور اور بااثر ہوتا وہ بلاتامل ساری میراث سمیٹ لیتا تھا اور ان سب لوگوں کا حصہ مار کھاتا تھا جواپنا حصہ حاصل کرنے کا بل بوتا نہ رکھتے تھے۔

میراث اور ورثہ کی تقسیم کے بارے میں دنیا کی مختلف قوموں کے نظریات، خیالات اور طور طریقے کئی طرح کے رہے ہیں۔ ان طریقوں میں سے کسی میں بھی اعتدال اور انصاف نہیں تھا۔ بعض قومیں میراث میں عورتوں اور بچوں کوبالکل حصہ نہیں دیتی تھیں۔ عرب جاہلیت کی قومیں، برصغیر کی قومیں اور بعض دیگر علاقوں کے لوگ عورتوں کوبالکل حصہ دارنہیں سمجھتے تھے۔ پھر بیٹوں میں بھی انصاف و برابری نہیں تھی۔ کسی بیٹے کو تھوڑا تو کسی کو اور زیادہ دیا جاتا تھا۔ بعض اقوام نے میراث دینا شروع کی تو پرانے جاہلیت کے طریقے کو چھوڑ کر نئی جاہلیت اپنائی اور عورتوں کو مردوں کے برابر لا کھڑا کیا۔ یہ دوسری زیادتی ہے جس میں انصاف کے تقاضے مدنظر نہیں رکھے گئے۔ میراث کی تقسیم میں افراط و تفریط دنیا کے بہت بڑے حصے میں پایا جاتا تھا اور آج بھی پایا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے تقسیم میراث کے احکام بالکل واضح متعین اور دو اور دو چار کی طرح مقرر کر دیئے ہیں اس میں کوئی الجھاؤ اور شبہ تک نہیں چھوڑا۔ قرآن مجید میں جتنی تفصیل تقسیم میراث کے سلسلے میں بیان ہوئی اور کسی حکم میں نہیں ہے۔ اس لئے کہ مال پسندیدہ اور دل لبھانے والی چیز ہے جسے انسان چھوڑنا نہیں چاہتا۔ اگرچہ معاشرتی دباؤ کی بنا پر کوئی زبان نہ کھولے تو الگ بات ہے، لیکن دل میں اپنا حق حاصل کرنے کی تمنا اور خواہش ضرور موجود رہے گی۔ میراث کی تقسیم، وارثوں کے حصے کی تقسیم اور حصوں کی حکمت میراث سے قرض کی ادائیگی، وصیت پوری کرنے اور اس حکم پر عمل کرنے والوں کے لئے جنت کی خوشخبری اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے دوزخ کے دردناک عذاب کی خبر سورۃ نساء کی آیات نمبر 7 تا 12 میں دی گئی ہے، وہاں ملاحظہ کریں۔

تقسیم میراث میں حصہ پانے والوں کے حصے مقرر کرتے ہوئے کچھ باتیں کلام کے درمیان بیان کی گئی ہیں، جن سے اس مسئلے کی پوشیدہ حکمتیں، اہمیت فرضیت اور اس پر عمل کرنے والوں کے لئے خوشخبری اور اسے چھوڑ دینے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے عذاب بیان کیا گیا ہے۔

الف: میراث کی تقسیم میں جو حصے مقرر کئے گئے ہیں ان کی مقدار کی حکمت و مصلحت اللہ ہی بہتر جانتا ہے، اس لئے کہ ہماری عقل و شعور کو اس گہرائی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس لئے فرمایا:

’’تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون نفع کے لحاظ تمہارے قریب تر ہیں۔ یہ حصے اللہ نے مقرر کر دیئے ہیں اور اللہ یقیناًسب حقیقتوں سے واقف اور تمہاری مصلحتوں کا جاننے والا ہے‘‘۔ (النساء:11)

ب: تقسیم میراث کی آیات میں وصیت اور ادائیگی قرض کے الفاظ متعدد مرتبہ آئے ہیں۔ لہٰذا تقسیم میراث کے وقت سب سے پہلے متوفی کے ذمہ جو قرض ہے اسے ادا ہونا چاہئے۔ نبی کریمؐ نے مقروض کا جنازہ تک نہیں پڑھایا۔ اس لئے نفلی اور رسمی خیروخیرات اور دیگر صدقات کرنے سے پہلے فرض کی ادائیگی لازمی ہے۔ بیوی کا مہر بھی قرض میں شامل ہے۔

ج: متوفی کو اپنی ملکیت میں سے ایک تہائی تک کی وصیت کرنے کا حق حاصل ہے۔ جس محسن کی میراث لی جا رہی ہے اس کا اتنا تو حق ہونا چاہئے کہ اس کا کہا مانتے ہوئے اس کی یہ وصیت پوری کی جائے۔ اگر وصیت ایک تہائی میراث سے زیادہ ہے تو اسے پورا کرنا لازم نہیں۔ اگر سب بالغ وارث راضی ہوں تو پورا کر دیں ورنہ زیادہ کو چھوڑ دیں۔

ص: جب تک میراث تقسیم نہ ہو تو تمام وارثوں (بشرطیکہ بالغ ہوں) سے اجازت لئے بغیر خیرات و صدقات نہ کئے جائیں، اور اگر وارث کمسن اور نابالغ ہوں تو کسی صورت میں خیرات نہیں کرنا چاہئے۔ ایسی خیرات کھلانے والے، کھانے والے اور برادری سسٹم میں برادری کے بڑوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ لوگ یتیم کا مال کھا کر اپنے پیٹوں میں آگ تو نہیں بھر رہے ہیں اور دوزخ کے ایندھن سے شکم پری تو نہیں کر رہے ہیں!

ہ: میراث کے احکام کی آخری دو آیات (13 اور 14) بہت ہی اہم ہیں۔ ان سے میراث کی اہمیت، فرضیت اور اس پر ثواب و عذاب کا اندازہ ہوتا ہے۔ آیت 14 کے بارے میں ایک مفسر قرآن تحریر کرتے ہیں: ’’یہ ایک بڑی خوف ناک آیت ہے جس میں ان لوگوں کو ہمیشگی کے عذاب کی دھمکی دی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے قانونِ وراثت کو تبدیل کریں، یا ان دوسری قانونی حدوں کو توڑیں جو خدا نے اپنی کتاب میں واضح طور پر مقرر کر دی ہیں، لیکن سخت افسوس ہے کہ اس قدر سخت وعید ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں نے بالکل یہود کی جسارت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے قانون کو بدلا اور اس کی حدود کوتوڑا اس کے قانون وراثت کے معاملے میں جو نافرمانیاں کی گئیں وہ اللہ تعالیٰ کے خلاف کھلی بغاوت کو پہنچتی ہیں۔

میراث کو قرآن مجید کے احکام کے مطابق تقسیم کرنا وارثوں پر فرضِ عین ہے اور دوسروں رشتہ داروں اور برادری اور خاندان کے بزرگوں پر فرض کفایہ ہے۔ اگر کچھ لوگ میراث کو اللہ اور رسول اکرمؐ کے احکام کے مطابق تقسیم کرنے کی تلقین کریں اور ترغیب دیں تو ان پر سے فرض کفایہ اتر جائے گا اور وارثوں پر فرض عین ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ تمام کے تمام خوش دلی اور رضا و خوشی سے میراث کی شریعت کے مطابق تقسیم پر متفق ہو جائیں تو سب پر سے یہ فرض اتر جائے گا۔

آج مسلم معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں اور برصغیر کے مختلف علاقوں کو دیکھتے ہیں تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر امت میں بمشکل دس سے بارہ فیصد لوگ میراث شریعت کے مطابق تقسیم کرتے ہیں اور اٹھاسی فیصد اللہ کی نافرمانی اور رسول اللہﷺ کی سنت سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ بہت تھوڑے مسلمان ایسے ہیں جو تقسیم میراث کے شرعی قانون پر عمل پیرا ہیں۔ شریعتِ مطہرہ کے مطابق تقسیم میراث کی برکتیں اور رحمتیں اور اجروثواب بہت زیادہ ہے اور اس سے اجتماعی و انفرادی فائدے حاصل ہوتے ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

1۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے اور ایسے بندے سے اللہ محبت کرتا ہے۔

2۔ میراث کے شرعی حکم پر عمل کرنے والا جنت کا حق دار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اسے بہت بڑی کامیابی بیان فرمایا ہے۔

3۔ قیامت کے دن رسول اللہﷺ کی شفاعت نصیب ہو گی اور اس دن کے عذاب سے نجات حاصل ہو جائے گی۔

4۔ ایسے شخص کا مال حلال ہونے کی وجہ سے مالی عبادتیں قبول ہوتی ہیں جوآخرت کے دن بڑا سرمایہ ہو گا۔

5۔ جن عزیز و اقربا اور عورتوں کومیراث میں سے حصہ ملتا ہے وہ اس کے لئے دل سے دعائیں کرتے ہیں اور محروموں کوجب حق ملتا ہے تو وہ ایسے شخص کے ہمدرد بن جاتے ہیں۔

6۔ تقسیم میراث سے تقسیم دولت ہوتی ہے جو اسلام کا ایک مقصد ہے۔ میراث کو شرعی طریقے پر تقسیم کرنے کی حکومت ذمہ دار ہو گی اور زبردستی میراث تقسیم کرائے گی۔ تقسیم میراث کے لئے حق دار عورتوں کومطالبہ کرنا چاہئے۔ چونکہ میراث میں عورتوں، بیٹیوں، بہنوں، ماں اور بیویوں کا حق ہے۔ لہٰذا انہیں اپنے حق کا نہ صرف مطالبہ کرنا چاہئے، بلکہ آگے بڑھ کر زوردار تقاضا کر کے اپنا حق لینا چاہئے اور قرآن مجید کیاس حکم (فرضِ عین) پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو عورتیں جاہلیت کی رسم اور معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اپنا حصہ چھوڑ دیتی ہیں وہ بھی اللہ اور اس کے رسول اکرمؐ کی نافرمانی کی مرتکب ہو رہی ہیں۔

میراث تقسیم نہ کرنے اور مستحقین کو محروم رکھنے کے کئی خطرناک پہلو ہیں جن میں میراث کھانے والے مبتلا ہوتے ہیں۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

1۔ میراث کو قرآن و سنت کے مطابق تقسیم نہ کرنا اور دیگر وارثوں کا حق مارنا کفار، یہودونصاریٰ اور ہندوؤں کا طریقہ ہے۔

2۔ میراث کا شرعی طریقے پر تقسیم نہ کرنا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کی نافرمانی ہے۔ یہ صریح فسق ہے ، لہٰذا ایسا شخص فاسق ہے، خاص طور پر برسہابرس اس رویے پر اصرار کرنا اور توبہ نہ کرنا تو اور بڑا گنا اور اللہ تعالیٰ سے بغاوت ہے۔

3۔ میراث کے حقداروں کا مال کھا جانا یا کسی ایک وارث کی طرف سے تمام میراث پر قبضہ کر لینا بہت بڑا ظلم ہے، اگر کوئی دنیا میں ادا نہیں کرے گا تو آخرت میں لازماً دینا ہو گا۔

4۔ ایسا مال جس میں میراث کا مال شامل ہو اس سے خیرات و صدقہ اور تقرب کے طور پر انفاق کرنا، حج و عمرہ کرنا اگرچہ فتویٰ کے لحاظ سے جائز ہے اور اس سے حج کا فریضہ ادا ہو جائے گا لیکن ثواب حاصل نہیں ہو گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ پاک و طیب مال قبول کرتا ہے۔

5۔ جومیراث کا مال کھا جاتا ہے اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔

6۔ میراث شریعت کے مطابق تقسیم نہ کرنے والا دوزخ میں داخل ہو گا۔

7۔ میراث مستحقین کو نہ دینے والا بندوں کے حقوق ضائع کرنے کا مجرم ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...