ذوالحجہ کے پہلے دس دن فضائل ۔۔۔احکام

ذوالحجہ کے پہلے دس دن فضائل ۔۔۔احکام

محمد ہاشم یزمانی

اللہ کا خاص فضل اور احسان ہے کہ ہماری زندگی میں ذوالحجہ کے فضیلتوں اور برکتوں والے ایام دوبارہ آ رہے ہیں۔ ان دنوں کی شریعت اسلامیہ میں بڑی اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے، جو اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم انہیں عام دنوں کی طرح گزارنے کی بجائے ان میں خصوصی طور پر اللہ تعالی کی عبادت کا اہتمام کریں ؛کیونکہ معلوم نہیں کہ آئندہ یہ دن ہمیں نصیب ہوتے ہیں یا نہیں۔

ان ایام کی فضیلت کی بدولت ہی اللہ تعالی نے سورہ الفجر کی ابتدائی آیات میں ان کی راتوں کی قسم اٹھائی ہے۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

ایک روایت میں آپؐ نے ان دس دنوں کو دنیا بھر کے تمام دنوں سے زیادہ فضیلت والا قرار دیا ہے۔ چنانچہ بلا استثناء یہ سال کے باقی تمام دنوں سے بہترین اور افضل ترین ایام ہیں۔ ان دس دنوں جیسا کوئی دوسرا مجموعہ سال بھر میں نہیں ملتا، حتی کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کے دنوں سے بھی یہ مجموعہ زیادہ فضیلت کا حامل ہے۔

جب اللہ تعالی نے ان دنوں کو اتنی فضیلت بخشی ہے تو سچے مسلمان کے دل میں جذبۂ عبادت اور شوقِ بندگی کا ابھرنا طبعی امر ہے، چنانچہ وہ چاہے گا کہ اسے وہ اعمال بتائے جائیں جن کے ذریعے وہ ان دنوں کی برکات حاصل کر سکے۔ ذیل میں چند اہم اعمال بیان کیے جا رہے ہیں جو انسان کو اللہ کے قریب کردیں گے۔

1۔ توبہ : ان ایام کی خیر وبرکت سمیٹنے سے پہلے انسان اپنے سابقہ گناہوں کا اقرارِ کر کے اللہ تعالی کے سامنے اظہارِ ندامت کرے اور ان گناہوں سے سچے دل سے توبہ کرے۔ کیونکہ صدقِ دل سے توبہ کرکے برائیاں ترک کرکے نیک اعمال شروع کرنے والے انسان کی نہ صرف اللہ تعالی خطائیں معاف فرما دیتا ہے بلکہ اپنے فضل و کرم سے انہیں نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ نیز توبہ و استغفار سے درجات بھی بلند ہوتے ہیں۔ خود رسول اللہؐ (گناہ نہ ہونے کے باوجود) ایک دن میں اللہ تعالی سے ایک سو مرتبہ توبہ کیا کرتے تھے۔

2۔ ذکر اور تکبیرات: ذکر کی سب سے بہترین شکل قرآن مجید کی تلاوت ہے۔ اس کے علاوہ ان دس دنوں میں عمومی طور پر اللہ تعالی کا ذکر کثرت کے ساتھ کرنا چاہیے۔ لا الٰہ الا اللہ، الحمد للہ اور اللہ اکبر کا ورد کرنا چاہیے۔حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے بارے میں آتا ہے کہ وہ ان ایام میں بازار کی طرف نکل جاتے اور با آوازِ بلند تکبیرات کہتے اور لوگ انہیں دیکھ کر تکبیرات پڑھنا شروع کر دیتے۔ اس کے علاوہ انسان کو چاہیے کہ ان دنوں سے فائدہ اٹھاتے ہوے صبح شام اور دیگر مقامات کے اذکار اور دعائیں یاد کرے اور اللہ تعالی سے اپنا تعلق مضبوط کرنے کی کوشش کرے۔اسی طرح قربانی کے آخری دن یعنی تیرہ ذوالحجہ کی عصر کی نماز تک فرائض کی ادائیگی کے بعد مخصوص الفاظ سے تکبیرات کہنا بھی صحابہ کرام کا عمل ہے۔ معروف الفاظ یہ ہیں:

اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الااللہ واللہ اکبر اللہ اکبرو للہ الحمد

مقصد اللہ تعالی کی بڑائی اور کبریائی بیان کرنا ہے، الفاظ کوئی بھی ہوں۔

3۔ صدقہ

انسان کی پریشانیوں اور مصیبتوں کا بہترین علاج صدقہ ہے، اس لیے ان مبارک دنوں میں زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا چاہیے۔ ہر کسی کو اپنی اپنی استطاعت کے مطابق فقراء4 و مساکین اور ضرورت مندوں پر صدقہ و خیرات کرنا چاہیے تاکہ عیدِ قربان کی خوشیوں میں وہ بھی ہماری خوشی کے ساتھ خوش ہو سکیں۔اپنے بیوی بچوں کی خوشیوں کے لیے بے دریغ مال لٹاتے ہوے ہمیں اپنے گرد و نواح میں بسنے والی بے سہارا بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں پر بھی نگاہ ڈالنی چاہیے اور ان کی ضروریات کا بھی ہمیں خیال رکھنا چاہیے۔

4۔نفلی روزہ اور دیگر عبادات

ان مبارک ایام میں نوافل کی ادائیگی ، قرآن مجید کی تلاوت اور نفلی روزوں کا خصوصی اہتمام کریں۔ہو سکے تو پہلے نو دنوں کے ملسل روزے رکھے جائیں ورنہ عرفہ، یعنی نو ذوالحج کہ جس دن حجاج کرام میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں اور اسی دن اللہ تعالی سب سے زیادہ تعداد میں لوگوں کو جہنم سے آزادی نصیب کرتا ہے،اس دن کا تو روزہ ضرور رکھیں ؛کیونکہ اسی کے بارے میں رسول اللہؐ نے فرمایا تھا کہ اس ایک روزے کے بدلے میں مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہ معاف فرما دے گا۔ ویسے بھی اللہ کی رضا کے لیے رکھا گیا ایک روزہ ستر سال کی مسافت کے برابر انسان کو جہنم سے دور کرنے کا سبب بنتا ہے۔اگر کسی مرد یا خاتون کے ذمے فرضی روزوں کی قضاء4 باقی ہے تو وہ ان دنوں میں قضائی بھی دے سکتا ہے کیونکہ اصل مقصد توان ایام کو عبادتِ الہی میں صرف کرنا ہے۔

5۔ قربانی

دس ذو الحجہ کو اللہ کے لیے قربانی کا جانور ذبح کرنا، اس کاگوشت خود کھانا، رشتہ داروں ، ہمسایوں اور ضرورت مندوں کوکھلانا بھی بڑا نیکی والا عمل ہے۔ رسول اللہؐ نے تو قربانی کے دن کو ایامِ حج (اور اس عشرہ) کا عظیم ترین دن قرار دیا ہے۔

جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو ذو الحجہ کا چاند نظر آ جانے کے بعد سے لے کر دس تاریخ کو قربانی کر لینے تک وہ سر یا جسم کے کسی حصے سے بال نہیں کاٹ سکتا اور نہ ہی ناخن تراشنے کی اسے اجازت ہے۔

دس ذوالحجہ کا دن یوم النحر اور گیارہ، بارہ اور تیرہ تاریخ کے دن ایام التشریق کہلاتے ہیں۔ ان چار دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے کیونکہ رسول اللہ ؐ نے ان دنوں کو کھانے پینے اور ذکر کے ایام قرار دیا ہے۔

6۔ فرصت کے لمحات کی قدرکریں

رسول اللہ ؐ نے ایک حدیث شریف میں ارشاد فرمایا ہے کہ: پانچ چیزوں کے آنے سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت سمجھو: بڑھاپا آنے سے پہلے جوانی ، بیماری آنے سے پہلے تندرستی، فقیری آنے سے پہلے تونگری، مصروفیت سے پہلے فرصت کے لمحات اور موت آنے سے پہلے زندگی سے بھرپور فائدہ اٹھا لو۔

چنانچہ ہمیں ان مبارک دنوں کو فضول کاموں اور بے مقصد باتوں میں ضائع کرنے کی بجائے ان کے ایک ایک پَل کی قدر کرنی چاہیے تاکہ قیامت کے دن کسی قسم کی ندامت اور شرمندگی کا ہمیں سامنا نہ کرنا پڑے۔ اللہ تعالی ہمیں نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے اعمال کو شرفِ قبولیت سے نوازے!

مزید : ایڈیشن 1