تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹ کونسلر کی ضرورت

تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹ کونسلر کی ضرورت

عتیق الرحمان سرگودھا

اللہ تعالیٰ نے وطن عزیز کو بیش بہا قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ باصلاحیت نوجوانوں سے بھی نوازا ہے ۔ پاکستان اس وقت دنیا کے ان چند خوش قسمت ممالک میں سے ایک ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ پاکستانی نوجوانوں نے تحریک پاکستان سے لے کر آج تک ہر میدان میں پاکستان کا نام رہتی دنیا تک روشن کرنے کے لئے کوششیں کیں ہیں اس بات سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تحریک پاکستان کے دوران طلباء سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم ؒ نے فرمایا تھا کہ "میں آپ لوگوں کی طرح جوان نہیں ہوں لیکن آپ کے جوش و جذبے نے مجھے بھی جوان کر رکھا ہے آپ کے ساتھ نے مجھے مضبوط بنا دیا ہے" تعلیمی میدان میں پاکستان کے باصلاحیت طلبا وطالبات نے عالمی سطح پر ریکارڈ قائم کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستانی طلبا وطالبات کسی بھی لحاظ سے دیگر ممالک کے طلبا وطالبات سے پیچھے نہیں۔

پاکستانی خواندہ اور ناخواندہ نوجوانوں بالخصوص طلبہ ء میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں صرف ان کے ہنر کو تراشنے کے لئے مناسب راہنمائی درکار ہے۔جیسا کہ سابق امریکی صدر فرینکلن ڈیلنوروز ویلٹ (Franklin Delano Rozevelt) نے بھی کہا تھا کہ"ہم اپنے نوجوانوں کا مستقبل نہیں بنا سکتے لیکن انہیں مستقبل کے لئے تیار ضرور کر سکتے ہیں" دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی ادارے اپنے طلبہء کی خفیہ صلاحیتوں کو نکھارتے اور SLO's (Student Learning Outcomes) کی بنیاد پر کونسلنگ کرتے ہیں مگربد قسمتی سے پاکستانی تعلیمی ادروں میں طلبہ کو SLO'sکی بنیاد پر گائیڈ کرنے کے لئے کونسلنگ ڈیپارٹمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہم ہر سال پاکستان کا بہت سارا ٹیلنٹ سمت کا صحیح تعین نہ کرنے کی وجہ سے ضائع کر رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ فرض کیا اگر طالبعلم میٹرک میں اچھے نمبر حاصل کرلیتاہے تو والدین بغیر سوچے سمجھے بچے کی دلچسپی والے مضامین کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹوٹل نمبرز کی بنیاد پرایف۔ایس۔سی (F.Sc)پری میڈیکل یا پری انجنئیرنگ میں داخل کروا دیتے ہیں زبردستی میں اس بات کو نہیں دیکھا جاتا کہ بچے نے اچھے نمبر کس کس مضامین میں لئے ہیں اور کون کونسے یونٹس تیار کر کے نمبر حاصل کئے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ طالبعلم صرف اسلامیات، مطالعہ پاکستان، اُردو اور انگلش کی پوری پوری کتاب تیار کر کے زیادہ سے زیادہ نمبر لے رہا ہو۔ اور دوسری طرف سائنس مضامین میں صرف سلیکٹیو یونٹس یا (گیس) تیار کر کے مشکل سے پاس ہوا ہو اور یہ طالبعلم ایف۔ایس۔سی میں اتنا اچھا نہ پڑھ سکے جتنا کہ وہ دلچسپی والے دوسرے مضامین کو پڑھنا چاہتا ہو اور ہو سکتا ہے وہ دلچسپ مضامین پڑھ کے ایک اچھا سکالر بن سکے۔

اگر پاکستان کے تعلیمی اداروں میں کونسلنگ ڈیپارٹمنٹ موجود ہو جو SLO's کی بنیاد پر طالبعلموں کی پرفارمنس کا موازنہ کر سکے کہ کس لرنگ آؤٹ کمز کے ذریعے طلبہ نے یہ مارکس حاصل کئے ہیں۔ اور یہ دیکھے کہ ہمارا طالبعلم کیا کر سکتا ہے تو یقیناًبہت سارے علامہ محمد اقبال اورقائد اعظم محمد علی جناح جو دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے اپنا تعلیمی سفر ادھورا چھوڑ دیتے ہیں وہ پھر سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر سائنس پڑھنے والا طالبعلم ڈاکٹر یا انجینئر ہی بنے اور اگر داخلہ نہ مل سکے تو دلبرداشتہ ہو کر اپنا تعلیمی سفر ادھورا چھوڑ دے ان دو شعبوں کے علاوہ اور بھی بہت سارے ایسے شعبے ہیں جہاں وہ اپنی صلاحیتیں نکھار سکتاہے۔

موجوہ حکومت کا تعلیم کے حوالے سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر نا، سو فیصدانرولمنٹ کو یقینی بنانا، طلبہ کو قابلیت کی بنیاد پر لیپ ٹاپس دینا، پسماندہ علاقوں کے طلبہ کی فیس واپسی جیسے اقدامات خوش آئند ہیں۔ مگر طلبہ کا اصل مسئلہ جو ہر لیول پر پاکستان کا ہر طالب علم سامنا کر رہا ہے جس پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ دور جدید کے مطابق نت نئے کورسز اور ان کی مارکیٹ ویلیوز کے مطابق مضامین کے انتخاب جیسی پیچیدگیوں سے والدین اور طلبہ نا آشنا ہیں۔ خاص طور پر دیہاتوں جہاں ہماری 70% آبادی مقیم ہے میں اَن پڑھ والدین یا شہروں میں تھوڑے پڑھے لکھے والدین بچوں کے داخلے کے وقت مضامین کے انتخابات میں پریشان نظر آتے ہیں اور اکثر غلط انتخاب کر کے ٹیلنٹ کو ضائع کر لیتے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقت نوجوانوں کے ٹیلٹ کو صیح سمت پر استوار کرنے کے لیے تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹ کونسلر مہیا کرے جو کہ طلبہ کو SLO's کی بنیاد پر گائیڈ کر کے ٹیلنٹ کو صحیح سمت پراستوار کر سکے۔ اور مارکیٹ و یلیوز کے مطابق مضامین کے انتخاب میں رہنمائی کر سکے۔ اگر یہ ممکن ہو جائے تو پاکستان بہت جلد ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو سکتا ہے اور طالب علموں کی پریشانی کے خاتمہ سمیت لاکھوں والدین کی دعائیں بھی لی جا سکتی ہیں ۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...