علامہ اقبال اور اعلیٰ تعلیم کے تقاضے

علامہ اقبال اور اعلیٰ تعلیم کے تقاضے

ڈاکٹر ضیاء القیوم وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات

اسلامی دنیا کے عصری و فکری ، علمی و فلسفیانہ منظر نامے پر جن مفکرین کے نام جگمگا رہے ہیں ان میں سب سے درخشاں نام مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کا ہے۔ شاعرانہ حسن تخیل اور فلسفیانہ ژرف نگاہی کے امتزاج کا نام اقبال ہے۔ اقبال وہ نابغہ روزگار تھے جن کی مسیحا نفسی نے بر صغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں زندگی کی نئی لہر دوڑا کر ان کی علمی خود داری کو بلند کیا ۔ علامہ ایسے تجدد کو پسند کرتے تھے جو ہمارے سرمایۂ ایمان کو اسلاف سے نہ کاٹ دے اور نہ ایسے دین ملا کے جمود کے حامی تھے جس میں شریعت اسلامیہ کا تحرک رک جائے۔ اس مرد درویش نے ہمیں زندگی کی حقیقی قدر و منزلت سے روشناس کرایا۔ ان کا بنیادی پیغام ہی یہ ہے کہ جو مذہب جدید عہد کے سائنسی مذاق طبع کی کوکھ سے جنم لینے والے مسائل کی تشفی اور وحدت انسانیت کی پرورش نہیں کر سکتا بالآخر ختم ہو جائے گا ۔ان کا یقین تھا اسلام عصر حاضر کے تقاضوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہی زندہ رہ سکتا ہے ۔ اقبال کی فکری سعی یہی رہی ہے کہ اسلامی افکار و اسلوب نئے تجربات اور علوم کی روشنی میں ترتیب دیئے جائیں تاکہ مسلمان ایک بار پھر کامران ہوں ۔ ندرت فکر و عمل اور اجتہادی سوچ ہی کامیابی کا راستہ اور فکر اقبال کا پرتو ہے آج علم ،تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کو فروغ دے کر ہی فکر اقبال کا چراغ روشن رکھا جا سکتا ہے ۔

اقبال تاریخ اسلام کے سفر میں ایسے موڑ پر ابھر کر سامنے آئے جب مسلمان غلامی و انحطاط کے بعد پھر آزاد قوم بن کر ابھرنے والے تھے اور انہیں تعمیر مستقبل کی ذمہ داریوں کے سنجیدہ چیلنجوں کا سامنا تھا۔ ان چیلنجوں کی کوکھ سے کئی سوالات نے جنم لیا۔ فکر اقبال درحقیقت انہی سوالوں کے جواب کی سعی کا نام ہے ۔ علامہ کی فکر و ذات میں مسلمانوں کی تاریخ آزادی کے سارے تقاضے مرتکز ہو گئے تھے۔ اسی وجہ سے فکر اقبال میں روح عصر کے تقاضوں کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ 1993ء میں ادارۂ معارف اسلامیہ کے پہلے اجلاس منعقدہ ہیلی ہال پنجاب یونیورسٹی میں خطبہ صدارت دیتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ’’وقت کا تقاضا ہے کہ اب ہم فقہی جزئیات کی چھان بین کی بجائے ان اہم شعبہ ہائے علم کی طرف متوجہ ہوں جو ہنوز محتاج تحقیق ہیں۔ ریاضیات، عمرانیات، طب اور طبعیات میں مسلمانوں کے شاندار کارنامے اب تک دنیا کے مختلف کتب خانوں میں مستور و پنہاں ہیں جن کے احیاء کی سخت ضرورت ہے ‘‘ اقبال کہتے ہیں

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ ہے ، نئے صبح و شام پیدا کر

مفکر پاکستان پکار پکار کر ہمیں علم ، تعلیم اور اعلیٰ تعلیم میں دلچسپی لینے اور جدید علوم کو اوڑھنا بچھونا بنانے کی دہائی دے رہے ہیں ۔ فکر اقبال واضح کرتی ہے کہ قوموں کے کمال و زوال کی کسوٹی علمی ترقی ہے۔ اقبال ہمیں یاد دہانی کرواتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات میں علم و حکمت کو خیر کثیر قرار دیا گیا ہے اور تسخیر کائنات کے لیے عقل و فہم کو بروئے کار لانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ علامہ اقبال کے خیال میں زوال بغداد نہ صرف مسلمانوں کے لیے سیاسی لحاظ سے ایک بڑا دھچکا تھا بلکہ یہ سانحہ مسلم دنیا میں علمی اعتبار سے بھی بڑا حادثہ ثابت ہوا ۔ جب مسلمانوں نے علم و تحقیق کی طرف سے ہاتھ کھینچ لیا تو اسلامی دنیا میں فکر و خیال کا چشمہ خشک ہو کر رہ گیا اور وہ یورپ جو کبھی مسلمانوں کی علمی روایات کا خوشہ چیں تھا اور جس نے مسلمانوں سے علمی تحریک حاصل کی ، بالآخر علمی و فکری میدان میں اس قدر آگے بڑھ گیا ہے کہ آج اسلامی دنیا یورپ کی علمی سیادت قبول کرنے کو تیار ہو چکی ہے ۔ اقبال کا خیال ہے کہ اسلامی دنیا میں تیزی سے یورپ کی علمی ترقیوں سے استفادہ کرنے کا رجحان پیدا ہوا ہے ۔ اقبال نے پہلے خطبے میں علم کے حوالے سے خوب گفتگو کی ہے اور مذکورہ رجحان کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی دنیا روحانی لحاظ سے نہایت سبک رفتاری سے مغرب کی طرف قدم بڑھا رہی ہے ۔ یہ نکتہ توجہ طلب ہے کہ اقبال نے اسلامی دنیا کی مغرب کی طرف پیش قدمی کو روحانی پیش قدمی قرار دیا ہے ۔ حالانکہ مغرب میں نہ اسلامی دارالعلوم ہیں اور نہ ہی فقہ و تفسیر کی تعلیم کے بڑے مراکز۔ حیرت ہے اس کے باوجود اسے روحانی پیش قدمی قرار دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ علم انسان کی روحانی صلاحیتوں کو جلا بخشتا ہے ۔جب تک دنیا میں مسلمانوں کو علمی سرفرازی حاصل تھی وہ مادی اور سیاسی برتری کے ساتھ ساتھ روحانی لحاظ سے بھی بلند مقام پر متمکن تھے اور جب مسلمان علمی پسماندگی کا شکار ہوئے تو مادی اور سیاسی نکبت تو ایک طرف روحانی لحاظ سے بھی پستیوں کی طرف بڑھنے لگے۔ اس لیے اقبال علم و تحقیق کے لیے ہر ممکن جدوجہد کو کھوئی ہوئی روحانی میراث کو پانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں،انکے خیال میں قومی ترقی میں علمی ترقی روح کا درجہ رکھتی ہے ۔

آج مصور پاکستان کے خوابوں کی تعبیر وطن عزیز کے حالات ترقی و خوشحالی کی راہ پر چلنے کے لیے علمی و تحقیقی ثقافت کے فروغ کے متقاضی ہیں۔ اقبال کے پاکستان کا مستقبل نالج اکانومی سے ہی وابستہ ہے۔ پسماندگی، جہالت ، انتہا پسندی، غربت اور عدم برداشت جیسے مسائل کا حل آج بھی حکیم الامت سے پوچھا جائے تو وہ علم ، تعلیم اور جدید تعلیم پر توجہ ہی سے ممکن ہے۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں مسلم دنیا اپنی تاریخ کے سب سے نازک دور سے گذر رہی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب شاید ہی کوئی مسلم ملک صحیح معنوں میں آزاد اور مامون قرار دیا جا سکے ۔ایسے میں علامہ محمد اقبال ، سر سید احمد خاں کی طرح اس نتیجے پر پہنچے کہ مستقبل میں مذہب اور سائنس کے مابین خلیج کم سے کم تر ہوتی جائے گی اور ایک وہ دو ر بھی آئے گا جب علم میں اضافہ معرفت الہٰی میں اضافہ متصور ہوا کرے گا ، نہ کہ اس سے متصادم اور متحارب۔۔۔ جب تک ہم علم کو کسی تہذیب کے ساتھ لازم و ملزوم کرنے کی بجائے ، بنی نوع انسان کی مشترکہ میراث تسلیم نہیں کریں گے علامہ اقبال کی فکر کے ساتھ انصاف نہیں کر پائیں گے۔ ایک عالمگیر اور فزوں تر علمی میراث ہی ’’اجتہاد فی الاسلام‘‘ کے مطلوب تغیر پذیر علم الکلام کی بنیاد بن سکتی ہے ۔

حضرت علامہ محمد اقبال کی علمی و فکری پختگی کا حاصل یہی ہے کہ آج کے پاکستان میں علم ، تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کو فکر اقبال کی روشنی میں قومی نصب العین بنایا جائے۔ 1937ء میں فضل کریم کے نام خط میں علامہ اقبال نے لکھا تھاکہ ’’ذاتی طور پر میں پسند کروں گا کہ ہمارے نوجوان معلم، اسکالرز، ریاضیات، فزکس، کیمسٹری اور جو رس پروڈنس کے مطالعہ پر اپنی توجہ مرتکز کریں۔ ان دنوں اسلام کے بہترین مفاد میں ہے کہ علم کی ان شاخوں کا مطالعہ کیا جائے۔ یہی ایک چیز ہے جو مسلمانوں کو جدید علوم کی جڑوں سے روشناس کرائے گی اور انہیں اس قابل بنائے گی کہ جدید دور کے مسائل کو سمجھ سکیں‘‘ ۔

اقبال کے مذکورہ بالا خیالات و افکار میں ہی ہمارے روشن مستقبل کا راز پوشیدہ ہے ۔ ہمیں فکر اقبال کی روشنی میں علم و تحقیق کے حوالے سے فکری اجتہاد کی ضرورت ہے اور اس اجتہاد میں نئی نسل کو شامل کرنا بھی ضروری ہے کہ اقبال کو اسی نسل پر اعتماد ہے۔ اقبال علامہ زر کشی کی تائید کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ گذری ہوئی نسل کے مقابلے میں نئی نسل کے لیے اجتہاد زیادہ آسان ہے ۔ ہمیں اور ہماری یونیورسٹیوں کو فکر اقبال کی روشنی میں علم دوستی کی نئی تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے کمیشن اور اعلیٰ تعلیم کی دانش گاہوں کو مصور پاکستان کی فکر کے ابلاغ کا ذریعہ بننا ہے اور اس کی روشنی میں ہم جدید اور اعلیٰ تعلیم پر زور دے کر مادی ، تہذیبی اور روحانی طور پر ترقی کر سکتے ہیں ۔ تعلیم اور اعلیٰ تعلیم میں ترقی کے بغیر مفکر پاکستان علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر ممکن نہیں۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...