تین ستمبر کا حقیقی منظر نامہ

تین ستمبر کا حقیقی منظر نامہ
تین ستمبر کا حقیقی منظر نامہ

  


میڈیا میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ تین ستمبر کے لاہور کے شو میں ساری اپوزیشن اکٹھی ہو گئی ہے۔ حالانکہ صورتحال ایسی نہیں ہے ۔تین ستمبر کے لاہور کے شو میں ڈاکٹر طاہر القادری شرکت نہیں کر رہے۔ بلکہ شیخ رشید بھی شرکت نہیں کر رہے۔ چودھری برادران بھی شرکت نہیں کر رہے۔ بلاول بھٹو بھی شرکت نہیں کر رہے۔ سراج الحق بھی شرکت نہیں کر رہے۔ اس طرح پانامہ اور سانحہ ماڈل ٹاؤن پر ایک موقف رکھنے والی حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں ابھی اس قدر متحد نہیں ہیں۔ کہ ایک دن ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو سکیں۔

تین ستمبر کو لاہور میں تحریک انصاف کی ریلی میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کا کوئی بھی قائد شرکت نہیں کر رہا۔ حالانکہ عمران خان نے تمام قائدین کو فون بھی کئے ہیں۔ ان کے پاس اپنی جماعت کے اعلیٰ سطحی وفود بھی بھیجے ہیں۔ لیکن تا حال تا دم تحریر کوئی لیڈر عمران خان کی اس تاریخی ریلی میں شرکت کے لئے تیار نہیں۔ حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان عوامی تحریک نے تو تین ستمبر کو راولپنڈی میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالہ سے احتجاجی ریلی رکھی ہوئی ہے۔ اور وہ راولپنڈی کی اپنی ریلی کے حوالہ سے اس قدر سنجید ہ ہیں کہ انہوں نے تحریک انصاف سے درخواست کی ہے کہ وہ شیخ رشید کو لاہور کی ریلی سے چھٹی دے دیں تا کہ شیخ رشید پاکستان عوامی تحریک کی راولپنڈی کی ریلی میں خطاب کر سکیں۔ راولپنڈی شیخ رشید کا انتخابی حلقہ بھی ہے۔ شیخ رشید کو بھی راولپنڈی کی ریلی میں دلچسپی تھی انہیں بھی معلوم تھا کہ لاہور کی ریلی میں کچھ خاص نہیں ہونے والا۔ اس لئے تحریک انصاف نے شیخ رشید کو اجازت دے دی ہے کہ وہ تین ستمبر کو لاہور کی ریلی میں شرکت نہ کریں اور راولپنڈی میں ڈاکٹر طاہر القادری کے شو میں شریک ہو جائیں۔

تحریک انصاف کے اعلیٰ سطحی وفود کی ملاقاتوں اور عمران خان کے ٹیلی فونوں کا بس اتنا ہی اثر ہے کہ کہ ان جماعتوں کی بی کلاس لیڈر شپ عمران خان کے ساتھ ان کی ریلی اور جلسہ میں ہو گی۔ اب تک اطلاعات کے مطابق چودھری برادران نے ایک رسمی شرکت اور اپنی جماعت کی موجودگی دکھانے کے لئے گجرات سے چند بسیں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔جن میں دو سو لوگ لانے کا ٹارگٹ ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے بھی چند کارکن ان کی جماعت کا جھنڈا اٹھائے نظر آئیں گے۔ لیکن یہ دو سو سے زائد نہیں ہو نگے۔ اس طرح عمران خان اور ان کی جماعت کی ساری محنت نے انہیں چار پانچ سو کی اضافی حاضری دے دی ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ حزب اختلاف کی ان سیاسی جماعتوں نے لاہور کی ریلی کو زندگی موت کا مسئلہ بنا لیا ہو۔ یہ بس تحریک انصاف کا شو ہے۔اور بس اسی کا شو ہے۔

ایک سوال کہ کیا ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی ہار اس کے لاہور کے شو پر کوئی اثر ڈالے گی۔ اس ضمن میں سب کا اتفاق رائے یہی ہے کہ یہ کوئی پہلی ہار نہیں ہے کہ تحریک انصاف کے کارکن اس ہار سے دلبرداشتہ ہو جائیں۔ شاید انتخابی ہار اب تحریک انصاف کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ان کی احتجاجی تحریک کے جوش و ولولہ کا ان کی انتخابی جیت ہو ہار سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ سیاسی منظر نامہ ایک ایسی شکل اختیار کر گیا ہے جس میں ن لیگ انتخابی جیت پر جیت سے رنگ بھر رہی ہے۔ جبکہ تحریک انصاف کی ریلیاں اور جلسہ ایک الگ رنگ بھر رہے ہیں۔ یہ دونوں رنگ منظر نامہ پر الگ الگ پوری آب وتاب سے نمایاں نظر آرہے ہیں۔

عمران خان نے اب تک حزب اختلاف کی ہم خیال قیادت کو اپنے ساتھ سٹیج پر اکٹھا کرنے کی جو کوششیں کی ہیں وہ تو کامیاب نہیں ہو ئی ہیں۔ لیکن کیا یہ کوششیں کبھی کامیاب ہو نگی۔ ویسے تو اعتزاز احسن عمران خان اور بلاول کو ایک کنٹینر پر اکٹھے کرنے کا اعلان کر چکے ہیں لیکن ابھی تک یہ اعلان حقیقت کے قریب نظر نہیں آرہا۔ اعتزاز احسن کی اپنی مقبولیت بھی کوئی ایسی نہیں ہے کہ ان کے کسی جلسہ میں آنے سے پیپلزپارٹی کا روائتی جیالا باہر نکل آئے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پیپلزپارٹی کا روائتی جیالا اعتزاز احسن جیسی قیادت کی وجہ سے ہی ناراض ہو کر بھاگ گیا ہے۔ ویسے بھی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پیپلزپارٹی نے عمران خان کے شو میں شرکت کا فیصلہ بھی میاں منظور وٹو کی سطح پر کیا ہے۔ اور میاں منظور وٹو کتنے کارکن لا سکتے ہیں۔یہ کوئی سوال ہے وہ تو پیپلزپارٹی کے اپنے شو میں کارکن نہیں لا سکتے۔عمران خان کے شو میں کیا لائیں گے۔

ویسے تو ستمبر کے حوالہ سے بہت سی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ بہت سینئر صحافی بھی کہہ رہے ہیں کہ ستمبر میاں نواز شریف کے لئے بہت مشکل ہو گا۔ لیکن ستمبر میں عید ہے۔ عید کی بھی دس چھٹیاں ہیں۔ میاں نواز شریف ایک مرتبہ پھر ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ وہ بھی دس دن ملک سے باہر رہیں گے۔ اس طرح ستمبر آدھا چھٹیوں اور باقی ریلیوں میں گزر جائے گا۔ یہ مشکل کب ہو گا مجھے سمجھ نہیں آرہی۔ عید سے پہلے مشکل ہونے کی تو کوئی صورتحا ل نظر نہیں آرہی۔ اور عید کے فوری بعد مشکل ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ عید پر تو بکروں دنبوں اور دیگر جانوروں کی قربانی کا شور ہے۔ دوسری کسی قربانی کا ذکر نہیں۔

مزید : کالم


loading...