شامی فوج کے مظالم جاری ،1100 فلسطینی پناہ گزین جبری حراست کا شکار

شامی فوج کے مظالم جاری ،1100 فلسطینی پناہ گزین جبری حراست کا شکار

لندن (این این آئی)انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے فراہم بیانات میں بتایا گیا ہے کہ شامی فوج نے شام میں مقیم فلسطینی پناہ گزینوں کیخلاف مظالم کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ شامی فوج کی جیلوں میں تشدد کر کے فلسطینی پناہ گزینوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ پچھلے کچھ عرصے کے دوران شامی فوج نے زیرحراست 449 فلسطینی پناہ گزینوں کو اذیتیں دے کر شہید کیا ہے۔ دوران حراست قتل کیے گئے فلسطینیوں میں خواتین، بچے، بوڑھے اور جوان سب شامل ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیم ’’فلسطین ۔ شام ایکشن گروپ‘‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام کی سرکاری جیلوں میں اس وقت بھی 1100 فلسطینی پناہ گزین جبری حراست کا شکارہیں۔ ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شامی جیلوں میں قید فلسطینیوں کو بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں اور نہ ہی انسانی حقوق کے مندوبین کو ان قیدیوں تک رسائی کی اجازت دی جا رہی ہے ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی طرف سے شامی فوج اور حکومت سے متعدد بار یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ زیرحراست فلسطینی پناہ گزینوں تک انسانی حقوق کے مبصرین کو رسائی فراہم کریں مگر شامی فوج نے فلسطینی قیدیوں تک رسائی دینے کے تمام مطالبات مسترد کر دیئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شامی حکومت کی طرف سے جیلوں میں دوران حراست شہید ہونیوالوں کی جو تعداد بیان کی گئی ہے وہ اصل مہلوکین کے مطابق نہیں۔ شامی حکومت کی طرف سے جیلوں میں جاں بحق فلسطینیوں کی تعداد گھٹا کر پیش کی گئی ہے۔ شامی فوج کی طرف سے مہلوکین کی اصل تعداد چھپانے کا مقصد فلسطینی پناہ گزینوں کی طرف سے احتجاج کم کرنا ہے اور شامی حکومت کے خلاف رد عمل روکنا ہے۔فلسطین۔ شام ایکشن گروپ کی طرف سے اب تک دو رپورٹس اس حوالے سے جاری کی جا چکی ہیں۔ ’جبری گمشدگیوں کی رپورٹ نمبر 1‘ اور جبری گم شدگیوں کی رپورٹ نمبر 2 میں شامی جیلوں میں جبرا ڈالے گئے فلسطینی پناہ گزینوں کو درپیش سنگین مشکلات کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

مزید : عالمی منظر