’’باس اِز آل ویز رائٹ‘‘

’’باس اِز آل ویز رائٹ‘‘
 ’’باس اِز آل ویز رائٹ‘‘

  


مَیں نے مسلم لیگ(ن) والوں سے پوچھا، ضمنی انتخابات تو آپ جیت گئے،مگر تحریک انصاف کے امیدواروں نے جتنے ووٹ لئے ہیں کیا آپ غور نہیں فرما رہے کہ پہلے آپ کولاہور اور وزیر آباد میں انتہائی کم ووٹوں کے ساتھ کامیابی ملی اور اب جہلم اور وہاڑی میں بھی تحریک انصاف کے ووٹروں کی تعداد دو،بلکہ کئی گنا بڑھ گئی ہے، کیایہ مسلم لیگ(ن) کے لئے خطرے کی گھنٹی نہیں بج رہی، حکمران جماعت والے مسکرائے، بولے،کامیابی صرف مبارکبادیں لیتی ہے، مشورے نہیں اور یوں بھی خوشی کی محفل میں کیا کام جلنے والوں کا، ایسی محفلوں میں جلنے والوں کو ایک پھونک مار کے بجھا دیا جاتا ہے،مَیں نے جواب دیا، یقینی طورپر جب چراغوں کو جلنے والا کہہ کر بجھا دیا جاتا ہے تو پھر کہیں کوئی روشنی نہیں رہتی، اندھیرے راج کرتے ہیں، ارشاد ہوا، جگتیں مت مارو اور اگر کوئی کام کی بات پوچھنے والی ہے تو پوچھ لو۔

ضمنی انتخابات کے نتائج آپ کے سامنے ہیں، جہلم میں مسلم لیگ(ن)، تحریک انصا ف سے آٹھ ہزار ووٹوں سے جیتی، جبکہ عام انتخابات میں یہ فرق کم و بیش 75ہزار ووٹوں کا تھا،وہاڑی میں آزاد حیثیت میں جیت کر مسلم لیگ(ن) میں شامل ہونے والے امیدوار یوسف کیسیلہ نے 50ہزار سے زائد، جبکہ خو د مسلم لیگ(ن) نے 43ہزار سے زائد ووٹ لئے تھے، یوسف کیسیلہ اور مسلم لیگ(ن) کے ووٹ مل کر 94ہزار کے قریب بن جاتے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی نے اس وقت صرف دو ہزار دو سو 84ووٹ لئے تھے، اب پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے عائشہ نذیر جٹ نے 50 ہزار سے بھی زائد ووٹ حاصل کر کے پھڈا ڈال دیا ہے کہ وہ ایک ہزار ووٹوں سے نہیں ہاریں،بلکہ چار ہزار ووٹوں سے جیتی ہیں، مگر نتیجہ تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مَیں عام انتخابات کے بعد لاہور کے ضمنی انتخابات میں میاں مرغوب احمد کی بہت تھوڑے ووٹوں سے کامیابی اور ایک دوسرے ضمنی الیکشن میں محسن لطیف کی ناکامی کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا، سردار ایاز صادق کی دوبارہ کامیابی بھی اسی قسم کے اعداد و شمار لئے ہوئے، جو حکمران جماعت والوں سے غور اور تحقیق کی متقاضی ہے،مَیں نے سوال پوچھے، ان کے جوابات آئے،جو کسی حد تک حیران کن بھی تھے اور کسی حد تک اپنے اندر کچھ دلائل بھی لئے ہوئے تھے۔

صحافتی ضابطہ اخلاق کہتا ہے کہ جب آپ آ ف دی ریکارڈ سوال ، جواب کریں تو جواب دینے والوں کے نام اس وقت تک صیغہ راز میں رکھیں جب تک وہ خود ظاہر کرنے کی اجازت نہ دیں۔ پہلا جواب یہ تھا کہ انتخابی نظام میں کامیابی، کامیابی ہی شمار کی جاتی ہے چاہے وہ چند ووٹوں سے ہی کیوں نہ ہو، اب تک ہونے والے دو درجن سے زائد ضمنی انتخابات میں ایک دو مقامات کے استثنیٰ کے سوا مسلم لیگ(ن) نے کلین سویپ کیا ہے۔ پہلے کی بات کی جائے تو عمران خان میانوالی والی اپنی سیٹ بھی ہار گئے تھے اور حالیہ پانامہ لیکس کے شور کے بعد بھی بلوچستان، کشمیر، خیبرپختونخوا اور پنجاب ہر جگہ مسلم لیگ(ن) کو ہی کامیابی مل رہی ہے،ہاں، جس نے ووٹوں کو گننا ہے وہ شوق سے گنتا رہے مگر یہ امر ایک حقیقت ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں ہمیشہ حکومتوں کو ووٹروں کے غم و غصے کا سامنا کرنا پڑتا ہے،کیونکہ وسائل بہت کم اور مسائل اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں، کمائی کم ہوتی ہے اور اخراجات بے پناہ، ایسے میں آپ تمام شعبہ ہائے زندگی میں ترقی کو اپنا ایجنڈا نہیں بنا سکتے۔ پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ حکومتیں ہمیشہ ضمنی الیکشن ہارتی ہیں، مگر یہ کریڈٹ مسلم لیگ(ن) کو ہی جاتا ہے کہ مسلسل جیت رہی ہے۔ دوسری دلیل یہ تھی کہ آزاد کشمیر کے مکمل انتخابات ہوں یا لاہور، وہاڑی اور جہلم کے ضمنی انتخابات، پی ٹی آئی اپنی صف اول کی قیادت کے ساتھ آئی،جبکہ ان کا مقابلہ شریف خاندان کے ایک نوجوان حمزہ شہباز شریف نے کیا، کسی بھی جگہ الیکشن کمیشن کے ضابطوں کی وجہ سے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے انتخابی مہم نہیں چلائی،انتخابی مہم اتنی اہم ہوتی ہے کہ بہت سارے تجزیہ کار اسی کی بنیاد پر ہی نتائج کے اندازے لگاتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ 25سے 50فیصد ووٹر ڈانواں ڈول ہوتا ہے اور وہ موقعے پر فیصلہ کرتا ہے۔

میرا سوال تھا ، یہ نتیجہ جہلم اور وہاڑی کے مکینوں کا ایک نرم احتجاج او ر دھمکی نہیں کہ تمام وسائل لاہور سمیت بڑے شہروں،بلکہ ایک کامیاب پروپیگنڈے کے مطابق صرف لاہور پر خرچ کئے جا رہے ہیں، جس جہلم نے مشرف کے جھرلو میں بھی نواز شریف کو جتوایا اس کے پنڈ دادن خان کی تیس برسوں میں بھی حالت نہیں بدلی،جواب تھا، اگر آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ لاہور کو غیر معمولی اور غیر ضروری نوازا جا رہا ہے تو پھر لاہوریوں کو بیگم کلثوم نواز کے بھانجے محسن لطیف کو نہیں ہروانا چاہئے تھا، میاں مرغوب اورسردار ایاز صادق کی لیڈ کو مزید بڑھانا چاہئے تھا، بعض جگہوں پر پروپیگنڈہ چل جاتا ہے، مگر ووٹروں کو اچھی طرح علم ہے کہ عائشہ جٹ ہوں یا فواد چودھری، یہ ان کے حلقوں میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے،بلکہ پنجاب تو ایک طرف رہا یہ تو اس صوبے میں بھی کوئی تبدیلی نہیں لاسکے جہاں کے لوگوں نے انہیں اکثریتی جماعت بنایا تھا، یہ تین برس ضائع کرنے کے بعد اب مسلم لیگ(ن) کو فالو کرتے ہوئے میٹرو اور موٹر وے بنانے کا اعلان کر رہے ہیں جو دراصل ان کی طرف سے مسلم لیگ(ن)کی پالیسیوں کے درست ہونے کا عملی طور پر اعتراف ہے۔ ترقی اور سہولتیں ہمیشہ پہلے بڑے شہروں میں آتی ہیں، کیا سندھ کے تمام شہروں میں اسی طرح سگنل فری کوریڈور ہیں جس طرح کراچی میں بنائے گئے ہیں ، اندرون سندھ اس وقت جنوبی پنجاب سے کم از کم پچاس برس پیچھے ہے۔ اگر کوئی یہ ثابت کرنا چاہتاہے کہ مسلم لیگ(ن) والے نااہل ہیں تو ووٹر ز جان چکے کہ ان کے مخالفین ان سے بھی بڑے نااہل ہیں، وہ صرف باتیں کرنا جانتے ہیں۔

میرا سوال تھا کہ پنجاب کے شہروں اور دیہات میں پی ٹی آئی کے بڑھتے ہوئے ووٹ بنک کا ٹرینڈ اگلے دو برسوں میں ایک بڑا خطرہ نہیں بن جائے گا جب مسلم لیگ(ن)عام انتخابات میں جار ہی ہو گی۔ اس کا جواب تھا کہ ہمیں ضمنی اور عام انتخابات کی سائنس، حکمت اور ضروریات کو گڈ مڈ نہیں کرنا چاہئے۔ اس وقت مسلم لیگ(ن)اس وجہ سے مشکل میں ہے کہ اس کے ملکی تاریخ بدل دینے والے پراجیکٹس ابھی تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ عام انتخابات میں نواز شریف دہشت گردی ختم کرنے، کراچی کا امن بحال کرنے، لوڈ شیڈنگ کو ماضی کی تلخ یاد بنانے،موٹرویز کے جال بچھانے، سی پیک منصوبے کے بہت سارے پیکیجز کے مکمل کرنے، پاکستان ریلوے کی حالت بدلنے، لاہور میں اورنج ٹرین چلانے سمیت ڈھیر سارے کارناموں کے ساتھ انتخابی میدان میں اتریں گے۔ جمہوریت میں مقابلہ عوام کی خدمت ، ان کے مسائل کا حل کا ہوتا ہے، پشاور کوئٹہ اور کراچی کے ووٹروں کی نظر میں بھی ترقی کرتا ہوا لاہور اور پنجاب ہو گا اور وہ صرف شور مچانے والوں کی بجائے اس سیاسی جماعت کی طرف جائیں گے جو ترقیاتی کاموں کا وژن اور کریڈٹ رکھتی ہوگی ، ووٹروں کے سامنے جو دو جماعتیں ہوں گی ان میں سے ایک نے سندھ کا بیڑا غرق کر رکھا ہے اور دوسری خیبرپختونخوا میں سبز باغ دکھائے چلی جا رہی ہے۔

مَیں نے کہا، واقعی جیتنے والے صرف مبارک بادیں وصو ل کرتے ہیں مشورے نہیں، کامیابی کے سو باپ ہوتے ہیں، مگر ناکامی یتیم ہوتی ہے، یہ امر حقیقت ہے کہ مسلم لیگ(ن) تمام تر مشکلات کے باوجود انتخابی میدان میں کامیابیاں حاصل کر رہی ہے، ہاں، ترجیحات کے درست ہونے کا سوال بارہا اٹھایا جاتا ہے، اعتراض کیا گیا، ایک سو دس ارب روپے ، تیس چالیس نئے ہسپتال بنانے کے لئے مختص کئے گئے ، اسی مد میں ملک کے ہر ضلعے میں ایک، ایک ارب روپیہ لگا دیا جاتا تو ہر شہر میں صحت کی سہولتوں کا انقلاب برپا ہو جاتا کہ چاروں صوبوں اور اسلام آباد سمیت ایک سو سات، گلگت بلتستان کے نو اور آزاد کشمیر کے دس اضلاع کے علاوہ سات قبائلی ایجنسیاں ہیں ، ایک سنجیدہ بحث کا اختتام طنزیہ اور مزاحیہ فقروں کے ساتھ ہوا،حکومتی سیانے نے کہا اگر حکمرانوں پر اعتراض کرنے والے، انہیں مشورے دینے والے ان سے زیادہ کائیاں ،ان سے زیادہ عقل مند ہوتے تواس وقت ان کی جگہ وہ خود حکمران ہوتے، انہوں نے مجھے لاہور کی مال روڈ اورہال روڈ کے سنگم پر طویل عرصے تک لگارہنے والاا ایک بورڈ بھی دکھایاجس پر لکھا تھا، باس از آل ویز رائیٹ !!!

مزید : کالم


loading...