اقتصادی راہداری سے بلوچستان کی تقدیر بدل جائیگی ، دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ، اچھے دن آنیوالے ہیں نواز شریف

اقتصادی راہداری سے بلوچستان کی تقدیر بدل جائیگی ، دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ، ...

 سبی،گوادر(اے پی پی،آن لائن)وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کا ناسور جلد ختم ہو جائیگا ،دہشت گردوں کی صرف دم رہ گئی جو وہ بھی کاٹ دیں گے ،بلوچستان امن کا گہوارہ بنتا جارہا ہے ،گوادر کا شمار بین الاقوامی شہروں میں جلد ہوگا،اقتصادی راہداری منصوبے بروقت مکمل ہوں گے جس سے پاکستان وسطی ایشیائی ممالک سے منسلک ہو جائیگا،2018ء کے اوائل میں 10ہزار میگاواٹ بجلی قومی نظام میں شامل ہوگی ۔ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نے گوادر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعظم نے کہا کہ گوادر کو بین الاقوامی شہر بنتا دیکھ کر خوشی ہورہی ہے، گوادر فری زون اور کمپلیکس کے ڈیزائن خوبصورت ہیں ،1991ء میں گوادر کے عالمی بندر گاہ بننے کی صلاحیت محسوس کرلی تھی ، گوادر بندر گاہ کو اقتصادی راہداری میں مرکزی حیثیت حاصل ہے ، گوادر بندرگاہ کے ذریعے چین کو بحیرہ عرب تک رسائی حاصل ہو جائے گی ، گوادر پاکستان ہے اور پاکستان ہی گوادر ہے ، یہاں صاف پانی کے منصوبوں اوربجلی کے پراجیکٹس پر کام جاری ہے ۔انہوں نے کہاکہ گوادر سے نہ صرف اس علاقے بلکہ بلوچستان کے دوسرے علاقوں کو پانی فراہم ہو گا ، گوادر میں عالمی سطح کا ایئرپورٹ بھی تعمیر کیا جارہاہے اور گوادر پاکستان کا اہم ترین شہر بننے جارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ چین نہ صرف پاکستان کادوست ہے بلکہ گوادر منصوبے میں شراکت دار بھی ہے اور یہ بندر گاہ پاکستان اور چین دو نوں کے لئے یکساں فوائد کی حامل ہے ، توقع ہے کہ اقتصادی راہداری کے منصوبے بروقت مکمل ہوں گے اور2018ء کے اوائل میں 10ہزار میگاواٹ بجلی قومی نظام میں شامل ہوگی ، بجلی کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایل این جی منصوبے پر بھی آئندہ سال کام مکمل ہو جائیگا اور 2018ء تک بجلی کی زیادہ تر ضروریات پوری ہو جائینگی ، اقتصادی راہداری کے ذریعے پاکستان وسطی ایشیاء سے منسلک ہو جائیگا ، وزیراعظم نے کہاکہ بلوچستان میں امن قائم ہورہا ہے اور صوبہ امن کا گہوارہ بنتا جارہا ہے اس ضمن میں ہم یہاں امن قائم کرنے کے لئے مشیرسلامتی ناصر خان جنجوعہ کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، گوادر پورٹ کی تعمیر سے 50ہزار ملازمتیں پیدا ہوں گی ۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کا ناسور جلد ختم ہو جائیگا اور دہشت گردوں کی صرف دم باقی رہ گئی ہے وہ بھی جلد کاٹ دینگے ۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے پاک چین دوستی پر فخر ہے ، میری خواہش رہی ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات مضبوط اور بہتر ہوں ، پاکستان میں سڑکوں کے جال اور بجلی کے منصوبوں پر چین کی معاونت پر اس کے شکر گزار ہیں۔انہوں نے کہاکہ وہ دن نظر آرہا ہے جب چین سے ٹریفک گوادر آئے گی اور گوادر سے چین جائے گی ۔انہوں نے کہاکہ میں جب 1991ء میں یہاں آیا تھا تو مجھے دلی دکھ ہورہا تھا کہ یہاں کے لوگوں کے پاس پینے کے لئے صاف پانی ہے نہ ہی پڑھنے کیلئے کوئی سکول ہے ، لیکن آج آیا ہوں تو ایسا لگ رہا ہے جیسے اسلام آباد میں کھڑا ہوں۔انہوں نے کہاکہ گوادر میں جلد سبزہ نظر آئے گا، انہوں نے چین سفیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چینی سفیر نے جو چھ ملین روپے سکول اور اسکالرشپ کے لئے دیئے ہیں وہ ایک اچھے دوست ہونے کا ثبوت ہے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری نے کہا کہ گوادر کی ترقی آج حقیقت بنتی ہوئی نظر آرہی ہے،گوادر سیف سٹی منصوبے کیلیے فنڈز جاری کردیئے گئے ہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ گوادر کارئیل اسٹیٹ کاکاروبار ایک زمانے میں بہت گرگیاتھا،اب گوادر میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کی قیمتیں3 گناتک بڑھ گئی ہیں، گوادر منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے پروزیراعظم کے مشکور ہیں،وزیراعظم گوادر کے ترقیاتی منصوبوں میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں۔وزیرمملکت شپنگ اینڈ پورٹس میر حاصل بزنجو نے گوادر میں تقریب سے خطاب کرتے کہا ہے کہ گوادر کیلئے10 ارب روپے کا پیکیج اعلان کیاجاناچاہیے، بلوچستان کے لوگوں کو ترقی چاہیے،سی پیک کی مخالفت کرنیوالوں کی نیت ٹھیک نہیں ہے،بلوچستان کے لوگ سی پیک کا مطالبہ کررہے ہیں، مکران سمیت بلوچستان کے لوگوں کو سی پیک میں شریک رکھناچاہے،گوادر سی پیک ہے اور سی پیک گوادر ہے،گوادر میں افتتاحی منصوبوں کا افتتاح تاریخی اہمیت کا حامل ہے،سی پیک اصل میں بلوچستان کیلئے بھی گیم چینجر کی حیثیت رکھتاہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر سن ویڈونگ نے کہاکہ وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ گوادر آنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے ، گوادر بندر گاہ کی تعمیر میں تعاون پر پاکستان کی حکومت اور عوام کے شکر گزار ہیں ، گوادر پورٹ کی تکمیل انجینئر عملے کی مہارت اور محنت کا نتیجہ ہے ، گوادر بندرگاہ اقتصادی راہداری کا اہم منصوبہ ہے اور یہ پاکستان اور چین دونوں کے لئے اہمیت کا حامل پراجیکٹ ہے ۔چینی سفیر نے کہاکہ گوادر میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے ، ہم پرامید ہیں کہ گوادر کا مستقبل روشن ہے ۔گوادر منصوبے سے علاقے کے لوگوں کا معیار زندگی بلند ہو گا اور پاکستان اور چین گوادر فری زون کے قیام کیلئے ملکر کام کریں گے۔انہوں نے کہاکہ گوادر کو محفوظ بنانے کے لئے سکیورٹی اقدامات منصوبے کا حصہ ہیں اور گوادر علاقائی ملکوں کے درمیان روابط کا بہترین ذریعہ بھی ہے ، اس علاقے کو ملک کو دوسرے حصوں سے ملانے کے لئے شاہراہوں کی تعمیر کی جارہی ہے ، علاقے میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے منصوبوں پر بھی کام کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان سے 20عمائدین کا وفد چین کا دورہ بھی کرے گا اور بلوچستان میڈیکل یونیورسٹی کے طلباء کو چین میں تربیت فراہم کی جائیگی ، چین کی طرف سے تحفے میں بنائے گئے سکول میں 200بچے تعلیم حاصل کرینگے ۔چینی سفیر نے کہاکہ گوادر فری زون پاکستان کی اقتصادی حالت کی بہتری میں اہم کردار ادا کریگا۔وزیراعظم نے گوادر میں متعدد منصوبوں کا افتتاح کیا ،وزیراعظم نے گوادر میں بزنس سروس کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھا، بندر گاہ پر سروس کمپلیکس میں نجی شعبوں کی کمپنیوں کو سہولت میسر آئے ، بزنس سروس کمپلیکس کے قیام سے درآمد کنندگان بھی مستفید ہوں گے ، کمپلیکس میں کمپنی درآمد و برآمد کنندگان اور مالیاتی اداروں کے قائم ہوں گے ،منصوبے پر 2ارب روپے کی لاگت آئے اور یہ دو سال میں مکمل ہو گا ، لنگر اندازجہازوں کے عملے کی رہائش کے لئے کمپلیکس میں سی مین سنٹر بھی بنایا جائے گا، گوادر بندر آنے والوں کی سہولت کے لئے کمپلیکس میں شاپنگ مال بھی بنایا جائے گا ، بزنس سروس کمپلیکس میں کنٹینریارڈ بھی تعمیر کیا جائے گا۔قبل ازیں وزیراعظم نے گوادر فری زون منصوبے کا بھی سنگ بنیاد رکھا ، گوادر فری زون2300ایکڑ رقبے پر تعمیر کیا جائے گا، چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی کی جانب سے منصوبے کی تعمیر کی جائے گی، گوادر فری زون میں انڈسٹریل یونٹس کے قیام کے لئے صنعتی زون بھی بنایا جائے گا ، اس منصوبے کا انفراسٹرکچر ایک سال میں مکمل کرلیا جائے گا، گوادر صنعتی زون 23کے لئے ٹیکس سے مستثنیٰ ہو گا ۔وزیراعظم نے چائنا پاکستان پرائمری سکول کا بھی افتتاح کیا ، سکول فقیر کالونی گوادر میں تعمیر کیا گیا ، سکول کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی طرف سے گوادر کے لئے تحفہ ہے ، سکول کو چھ ماہ کی مدت میں چار لاکھ ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے ، سکول گوادر کے کم آمدن اور پسماندہ علاقوں میں تعمیر کیا گیا ہے۔وزیراعظم نوازشریف نے گوادر میں شادی کور ڈیم کا بھی افتتاح کیا ، شادی کور ڈیم بلوچستان کے محکمہ آبپاشی نے تعمیر کیا ہے ، ڈیم گوادر سے 130کلومیٹر دور پسنی کے مقام پر تعمیر کیا گیا ہے ،وزیراعظم نے گوادر میں ساورکور ڈیم کا بھی افتتاح بھی کیا ،ڈیم کی بلندی 55فٹ اور پانی کے ذخیرے کی گنجائش45ہزار ایکڑ فٹ ہے ، ڈیم کی تعمیر کے منصوبے پر جون2011ء میں کام شروع ہوا تھا ، وزیراعظم نے یونیورسٹی آف گوادر کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ وزیراعظم نے 174کلو میٹر طویل سبی، کوہلو،رکھنی ہائی وے چارارب70 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کی گئی قومی شاہراہ کا بھی افتتاح کیا،یہ ہائی وے ضلع بارکھانا، کوہلو اور سبی کو آپس میں ملاتی ہے اور یہ شاہراہ بلوچستان کو پنجاب سے بھی ملائے گی۔یہ شاہراہ عوامی رابطوں کو بڑھانے کے علاوہ بین الصوبائی تجارت کو بھی فروغ دینے میں مدد گار ثابت ہوگی۔قبل ازیں وزیراعظم کے پسنی سے گوادر پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا،وفاقی وزراء عبدالقادر بلوچ، احسن اقبال ، میر حاصل بزنجو اور قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ ، پاکستان میں چین کے سفیر سن ویڈونگ ،وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری ودیگر حکام نے بھی تقریب میں شرکت کی ۔

نواز شریف

مزید : صفحہ اول


loading...