ایم کیو ایم کے آئین سے الطاف حسین کانام نکال دیا گیا ، بانی سے رہنما ئی کی شق ختم

ایم کیو ایم کے آئین سے الطاف حسین کانام نکال دیا گیا ، بانی سے رہنما ئی کی شق ...

کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک )متحدہ قومی موومنٹ کا پارٹی آئین تبدیل، متحدہ اب اپنے فیصلوں پر بانی سے رہنمائی نہیں لے گی۔ ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے پاکستان مخالف نعروں کی اجازت نہ دینے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا۔ سید سردار احمد، خالد مقبول صدیقی، خواجہ سہیل منصور اور رؤف صدیقی کو رابطہ کمیٹی میں شامل کر لیا گیا۔ ایم کیو ایم پاکستان کے ہنگامی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے فاروق ستار نے کہاکہ اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ معاملات چلانے کیلئے پارٹی آئین میں اگر ترمیم کرنا پڑے تو کریں گے اورگزشتہ چند دنوں سے ہاتھ پر ہاتھ رکھ نہیں بیٹھے رہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ پارٹی آئین میں ترمیم کرنے سے پہلے طے کیا تھا کہ ہم لندن سے آزاد ہیں۔ اتفاق رائے سے بانی ایم کیو ایم سے رہنمائی لینے کی شق پارٹی آئین سے نکال دی گئی ہے۔ تاہم بانی متحدہ کے احترام کو ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی آئین میں ترمیم کرتے ہوئے خواجہ اظہار الحسن کے علاوہ رابطہ کمیٹی میں مزید 4 افراد کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان افراد میں سید سردار احمد ، خالد مقبول صدیقی، خواجہ سہیل منصور اور رؤف صدیقی شامل ہیں۔ کنوینیر کی غیر موجودگی میں سینئر ڈپٹی کنوینیرپارٹی مشاورت سے فیصلے کر سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ 23 اگست کو بیڑہ اٹھایا کہ پاکستان کیخلاف کسی نعرے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ فیصلہ کیا گیا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے خلاف نعروں کیلئے پلیٹ فارم فراہم نہیں کرے گی۔ فاروق ستار نے کہا کہ ہماری نیک نیتی، سنجیدگی اور اخلاص پر شک نہ کیا جائے، ہمیں آزمایا جائے اور ایک موقع دیا جائے۔ پہلے بھی ایم کیو ایم چلائی تھی، اب بھی چلا کر دکھائیں گے۔ ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے پاکستان کیخلاف کوئی بات نہیں ہونے دیں گے۔ فاروق ستار نے مطالبہ کیا کہ نائن زیرو کو کھول کر ہمیں سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دی جائے۔ کارکنوں کی بازیابی کے مطالبے پر قائم ہیں۔ بلا جواز گرفتاریوں کے سلسلے کو فوری بند کیا جائے۔ ایم کیو ایم کی گرفتار خواتین کو رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے میرٹ پر ہونا چاہیں۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ہمارا تعاون جاری رہے گا۔

متحدہ قومی موومنٹ

مزید : صفحہ اول