امریکہ اور چین ایک دوسرے کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں مصروف

امریکہ اور چین ایک دوسرے کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں مصروف

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) دنیا کی دو بڑی طاقتیں امریکہ اور چین ایک دوسرے کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں مصروف ہیں۔ امریکہ اپنے مغرب میں واقع بحرالکاہل اور ایشاء کے خطے میں اپنی برتری قائم کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے جہاں اس کا اصل مقابلہ چین کے ساتھ ہے۔ کچھ عرصہ قبل چین نے بحرالکاہل میں امریکہ کا اثرونفوذ بڑھانے کی پالیسی کا جواب دینے کیلئے امریکہ کے جنوب میں کیوبا اور میکسیکو کے ساتھ روابط بڑھائے اور تجارتی معاہدے کئے تو امریکہ نے بجا طور پر اس پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اب امریکہ اور بھارت نے اپنے دوسرے سٹریٹجک ڈائیلاگ کے تحت جو دفاعی، لاجسٹک اور تجارتی معاہدے کئے ہیں اس پر پاکستان تو تشویش کا اظہار کرچکا ہے۔ اب چین کا ردعمل چین کے سرکاری اخبار ’’گلوبل ٹائمز‘‘ کے ایک اداریے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ سفارتی ذرائع اسے چین کا سرکاری مؤقف ہی قرار دیتے ہیں۔ واشنگٹن میں چینی سفارتخانے نے ’’پاکستان‘‘ کے نمائندے کو اس اداریے کا متن فراہم کیا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ امریکہ اور بھارت کے معاہدے چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش ہیں اور چین کو بجا طور پر اس سے خطرات ہیں تاہم اس سے اداریے میں ایک مثبت پہلو دریافت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اب یہ ثابت ہوگیا ہے کہ چین ایک حقیقی بڑی طاقت بن چکا ہے۔ ادارے میں یہ بھی ذکر ہے کہ جاپان کی وزیراعظم شنزوابے نے حال ہی میں روس کا دورہ کرکے علاقائی حد بندیوں کے تنازعات پر بات چیت کی ہے اور ساتھ ہی انہوں نے اقتصادی تعاون کے آٹھ معاہدے کئے ہیں۔ اداریے میں کہا گیا ہے کہ جاپان کا یہ عمل بھی بحرالکاہل میں چینی اثر و رسوخ کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اداریے میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ معاہدوں کے بعد صدر اوبامہ جب اگلے ہفیت چین میں ’’جی ٹونٹی‘‘ سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گے تو اس موقع پر وہ لاؤس کا دورہ بھی کریں گے یہ کسی امریکی صدر کا لاؤس کا پہلا دورہ ہوگا۔ اخبار لکھتا ہے کہ صدر اوبامہ اقتدار چھوڑنے سے قبل لاؤس کو بھی اپنے دائرہ کار میں داخل کرنے کی کوشش کریں گے۔ امریکہ اور چین کے درمیان معمول کے تعلقات قائم ہیں لیکن بڑی طاقتوں کے طور پر ان میں مقابلہ بھی جاری ہے۔

مزید : صفحہ اول