جج عدالتی اوقات کار کے مطابق کیسوں کی سماعت کریں، لاہور ہائی کورٹ بارایسو سی ایشن

جج عدالتی اوقات کار کے مطابق کیسوں کی سماعت کریں، لاہور ہائی کورٹ بارایسو سی ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ججوں کی طرف سے کیسوں کی سماعت کے حوالے سے طے شدہ اوقات کار کے مطابق عدالتوں کو وقت دینے کے لئے قرار داد منظور کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ججز عدالتی اوقات کار کے مطابق کیسوں کی سماعت کریں تاکہ وکلاء اور سائلین کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔یہ قرار داد لاہور ہائی کورٹ کے جنرل ہاؤس میں منظور کی گئی ہے،یہ اجلاس صدر رانا ضیاء عبدالرحمن کی زیرصدارت گزشتہ روز منعقد ہوا۔ اجلاس میں محمد انس غازی سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ، سید اسد بخاری فنانس سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ، لاہور کے علاوہ وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ لاہور ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر رانا ضیاء عبدالرحمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معزز جج صاحبان وکلاء سے ہر طرح کی پابندی کرانا چاہتے ہیں لیکن اپنے آپ کو مبرا تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہا My Lordکا استعمال کافی عرصہ سے ختم ہو چکا ہے لیکن اب بھی ہم اپنے جج صاحبان کی عزت و احترام میں My Lordہی کہتے ہیں، انہیں چاہئے کہ کالے کوٹ کی عزت کا بھی لحاظ رکھیں تاہم وکلاء کا تعاون جاری رہے گا اور جج صاحبان سے بھی یہی توقع ہے۔ انہوں نے رائے شماری کے لئے قرارداد بمعہ مندرجہ ذیل اضافی پیراگراف ہاؤس کے سامنے پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔اجلاس سے سید زاہد حسین بخاری ایڈووکیٹ اورصدر شیخوپورہ بار ایسوسی ایشن میاں پرویز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور شہر کا حدود اربعہ اب کافی وسیع ہو چکا ہے اور لاہور کے وکلاء اور سائلین کو بھی ہائیکورٹ تک پہنچنے میں ڈیڑھ تا دو گھنٹے کی مسافت طے کرنی پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ معزز جج صاحبان عدالتی اوقات کار کو ملحوظ خاطر رکھ کر کام کریں اور پابندی وقت بھی کریں تو وکلاء کی پریشانی کافی حد تک ختم ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات وکلاء عدالتوں میں جج صاحبان کا انتظار کرتے کرتے سارا دن گزار لیتے ہیں وہ نہ دوپہر کا کھانا کھا سکتے ہیں اور نہ ہی ظہر کی نماز ادا کر سکتے ہیں اور اسی خیال میں عدالت میں بیٹھے رہتے ہیں کہ شاید جج صاحب ابھی آ جائیں اورمیری عدم موجودگی میں کیس خارج نہ ہو جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وکلاء جج صاحبان کا احترام اور عزت کرتے ہیں لیکن بعض جج صاحبان وکلاء کو ہر وقت برا بھلا کہنے پر تلے رہتے ہیں۔ انہوں نے وکلاء سے مزیدکہا کہ وہ عدالت میں اپنے کیس کے متعلق بھر پور تیاری کر کے پیش ہوں تاکہ پریشانی سے بچ سکیں۔ آخر میں ایک قرار داد بھی منظور کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ موسم گرما کی چھٹیوں میں عدالتی اوقات کار صبح 9 بجے تا 3 بجے سہ پہر مقرر کیاگیا تھا جو کہ اب موسم سرما میں دوبارہ صبح 8 بجے کر دیا جائیگا۔ محرک قرار داد بھی باقی تمام ممبران بار کی طرح اور صوبے کے دیگر وکلاء کی طرح اپنے بچوں کو سکول چھوڑنا ہوتا ہے جبکہ دیگر کئی وکلاء جن کی بیگمات ورکنگ ویمن ہیں ان کو بھی ان کے دفاتر چھوڑ کر عدالت میں حاضر ہونا ہوتا ہے جبکہ آگے موسم بھی دھند اور سرد آرہا ہے۔ لہذا اگر عدالتی اوقات کار 8 بجے صبح کر دیئے گئے تو محر ک قرار داد کے ساتھ ساتھ صوبہ بھر کے وکلاء اور سائلین کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ یہ تمام وکلاء پنجاب کا اجتماعی مسئلہ ہے۔ اس لئے لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اس قرار داد کو پاس کرتے ہوئے چیف جسٹس سے مطالبہ کرتی ہے کہ عدالتی اوقات کار آئندہ بھی صبح 9 بجے تا 3 بجے ہی رکھے جائیں ۔قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ معزز جج صاحبان وکلاء کو وقت کا پابند کرتے ہیں تو انہیں بھی وقت کی پابندی کرنی چاہئے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے درخواست ہے کہ وہ جج صاحبان کو پابندی وقت کے احکامات جاری کریں اور جو بھی وقت مقرر کیا جائے اسکی پابندی کی جائے۔وکلاء معزز جج صاحبان کی دل سے عزت کرتے ہیں اور اسی جذبہ کا اظہار جج صاحبان سے بھی متوقع ہے۔ جج صاحبان سے لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا بھر پور تعاون جاری رہے گا اور امید ہے کہ جج صاحبان بھی تعاون کریں گے۔

مزید : صفحہ آخر