2013سے2015, 321ارب روپے ہوگیا، گردشی قرضوں پر رواں برس کنٹرول حاصل کر لیا ، وزارت پانی وبجلی

2013سے2015, 321ارب روپے ہوگیا، گردشی قرضوں پر رواں برس کنٹرول حاصل کر لیا ، وزارت ...

اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ 2013سے اب تک گردشی قرضہ321ارب تک پہنچ گیا ہے،گذشتہ ایک سال سے گردشی قرضہ پر قابو پالیا ہے ایک سال سے گردشی قرضہ میں اضافہ نہیں ہوا،480ارب کا گردشی قرضہ ادا کرنے سے قبل پاور کمپنیوں کے ساتھ پاور پلانٹس کی فرنس آئل سے گیس اور کوئلہ پر منتقل کرنے کے حوالے سے ایم او یوز پر دستخط کئے گئے تھے۔گردشی قرضہ کا مسئلہ 2016سے شروع ہوا،پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کی جانب سے 480ارب کے گردشی قرضے کی ادائیگی کے حوالے سے وزرات نے 15اعتراضات کا جواب دیا تھا جس پر کمیٹی نے تمام پیراز سیٹل کردیئے تھے۔کمیٹی نے سیلز ٹیکس ریفنڈ کے معاملے میں تاجروں کو ہراساں کرنے کی شکایات پر ایف بی آر کے خلاف وزرات خزانہ کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔گزشتہ روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس کمیٹی چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں ہوا،اجلاس میں اکنامک افیئرز ڈویژن کے جاری اور مستقبل کے منصوبوں اور اس کی فشریز،لائیوسٹاک اور زراعت کے حوالے سے کارکردگی پر غور کیا گیا،بلوچستان میں 2وائلڈ لائف پارکوں کا معاملہ بھی زیر غور آیا،کمیٹی نے تسلی بخش جواب نہ ملنے پر اگلے اجلاس میں اس حوالے سے تفصیلات دینے کی ہدایت کی۔کمیٹی نے 2013میں حکومت کی جانب سے ادا کیا گیا 480ارب کے گردشی قرضہ پر بھی بحث کی گئی۔چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ وزرات پانی و بجلی کی جانب سے بھیجے گئے جواب میں آگاہ کیا گیا ہے کہ گردشی قرضہ کے حوالے سے ایک ہی دن میں سمری جاری کی گئی اور اسی دن اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے منظور کی اور اگلے دن اسٹیٹ بنک نے ادائیگی کردی،معاملے پر ایف بی آر نے ابھی تک جواب نہیں دیا،وزرات پانی و بجلی کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ گردشی قرضہ2013سے اب تک 321ارب تک پہنچ گیا ہے،گذشتہ ایک سال سے گردشی قرضہ پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور یہ گذشتہ سال سے نہیں بڑھ رہا،480ارب کا گردشی قرضہ ادا کرنے سے قبل پاور کمپنیوں کے ساتھ ایم او یوز پر دستخط کیے گئے تھے،جس پر شرط عائد کی گئی تھی کہ وہ پاور پلانٹس کو کوئلہ اور گیس پر منتقل کریں گے۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ یہ کوئی خاص لوگ تھے کہ ان کو ایک دن میں ادائیگی کا سارا انتظام کیا گیا،کاش کہ اسی طرح سیلز ٹیکس کے ریفنڈ بھی اتنی ہی تیزی سے ادا کئے جائیں،گردشی قرضہ کے حوالے سے صورتحال سب سے زیادہ سنگین ہے،جب ادائیگیاں کی گئی تو آئل 112ڈالر فی بیرل تھا،اب آئل اتنا سستاہوگیا ہے لیکن گردشی قرضہ بڑھ رہا ہے،اس وقت بجلی کی قیمت7روپے تھی اور آج فرنل آئل 40ڈالر فی بیرل ہے اور بجلی کی یونٹ 12روپے فی بیرل ہے۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ عام آدمی سے سیلز ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ پاور کمپنیاں کو یہ ٹیکس کیوں معاف کیا گیا ہے۔وزرات پانی و بجلی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ 2006سے سرکلرڈیٹ شروع ہوا ہم 2006سے اب تک بجلی کی پیداوار،لوڈشیڈنگ اور سرکلرڈیٹ کی تفصیل دینے کیلئے تیار ہیں،توانائی کے مسئلہ پر قابوپارہے ہیں،گردشی قرضوں کے حوالے سے وزرات نے پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کے 15اعتراضات کے حوالے سے پہروں کا جواب دیا تھا اور پی اے سی نے تمام پیراز سیٹل کرلئے تھے۔سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ میں نے کمیٹی میں معاملہ اٹھایا تھا کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ممالک سنگاپور میں سینٹ جمیز ہوٹل خریدا گیا اور ہوٹل میں جون2011تک 8ملین ڈالر کے شیئر بتائے گئے اب وہ وہاں پر ریکارڈ ٹھیک کرا رہے ہیں،ایف بی آر کے پاس جو گوشوارے جمع کرائے گئے کیا اس میں یہ تفصیل دی گئی اور رقم کیسے ٹرانسفر کی گئی یہ بھی نہیں بتایا گیا،ایف بی آر کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سنگاپور کے حکام نے 485صفحات پر مشتمل ریکارڈ فراہم کیا ہے اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔کمیٹی نے ایف بی آر کو ایک ماہ میں پیش رفت سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ایف بی آر تاجروں کو جن کے سیلز ٹیکس ریفنڈ کے کیسز چل رہے ہیں ہراساں کر رہی ہے اور پولیس کے ذریعے چھاپے مار رہی ہے اور ٹیکس ادا کرنے والوں کو تنگ کر رہی ہے۔

مزید : صفحہ آخر