چوتھاونڈے،دونوں ٹیموں میں فرق، قیادت اور بیٹنگ پرفارمنس

چوتھاونڈے،دونوں ٹیموں میں فرق، قیادت اور بیٹنگ پرفارمنس

ہیڈنگلے (راجہ اسد خاں) اگرچہ انگلینڈ کو ابتدا میں اوپر تلے چار نقصان اٹھانا پڑے پھر بھی اپنی بیٹنگ کی بھرپور قوت کے بعد انہوں نے میچ میں اپنی گرفت مضبوط رکھی اور بڑی ثابت قدمی سے اپنے ہدف کے حصول کیلئے شاندار رفاقت قائم کی۔ پاکستان کی اننگز میں اظہر علی کے ایک سو چار گیندوں میں اسی رنز اپنی جگہ مگر عماد وسیم کے ستاون رنز (ناٹ آؤٹ) نے بہت متاثر کیا۔ انہوں نے صرف اکتالیس گیندوں کا سامنا کیا جبکہ سات چوکے اور ایک چھکا ان کی شاندار اننگ کا حصہ تھا۔ سرفراز احمد کی چال ڈھال اور حرکات منفی تاثر پیش کر رہی تھیں شاید اظہر علی کی ناکامی کے بعد ان کے کپتان بننے کے امکانات نے ان پر قبل از وقت تیاری کے سلسلے میں کچھ زیادہ اثر ڈال دیا ہے۔ پاکستان کی کرکٹ انتظامیہ کو انہیں کپتانی تفویض کرنے سے پہلے اپنے طور پر کچھ یقین دہانیاں ضرور حاصل کرنا ہوں گی متبادل کے طور پر عماد وسیم، عمر پس منظر اور کارکردگی کی بنیاد پر ایک اچھے کپتان کے طور پر زیر غور لائے جاسکتے ہیں۔ ہیڈنگلے میں بھی ان کی شاندار بیٹنگ نے متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ عماد کی آل راؤنڈر کے طور پر بھی ٹیم میں جگہ مستقل طور پر بن سکتی ہے۔ عماد وسیم 9 میچوں میں تین مرتبہ ناٹ آؤٹ رہے جبکہ مجموعی طور پر ایک دو میچوں میں انہوں نے اب تک چھ اننگز کھیلی ہیں۔ اگر عماد وسیم آٹھویں نمبر پر آکر ستاون رنز نہ کرتے تو پوری ٹیم 247 کی بجائے دو سو کے اندر آؤٹ ہو جاتی۔ پاکستان کی ناکام بیٹنگ کا عمل بڑے تواتر سے جاری ہے۔ اظہر علی نے 33 اوورز تک قیام کیا اور جب اننگ کی تعمیر کا وقت آیا تو عادل رشید کی گیند پر اونچی ہٹ لگانے کی ناکام کوشش کی اور آؤٹ ہوئے۔ شرجیل خان بلے کو بری طرح گھماتے رہے اور چوتھے اوورز میں رخصت ہوئے۔ پاکستان کی آدھی ٹیم ایک سو باون پر آؤٹ ہوچکی تھی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان کی بیٹنگ کے ساتھ باؤلنگ بھی ناکام ہو رہی ہے۔ عادل رشید نے انگلستان کی طرف سے پھر عمدہ باؤلنگ کی اور تین کھلاڑی آؤٹ کئے جبکہ پاکستان کی ٹیم نے پچاس اوور پورے کھیلے مگر اس دوران آدھے سے زیادہ اوورز یعنی 25.6 اوور میں کوئی رنز نہیں بنے یعنی ایک سو چون ڈاٹ بالز پاکستان کی بیٹنگ کا حصہ تھے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ٹیم کا بیٹنگ آرڈر اور قوت ایک روزہ میچوں کیلئے کتنی موزوں ہے؟ محمد عرفان کی باؤلنگ دیکھ کر محسوس ہوا کہ انہیں سیریز کے آغاز میں ٹیم کا حصہ ہونا چاہئے تھا۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی


loading...