جلتے کشمیر پر بھارتی صحافی کا تجزیہ!

جلتے کشمیر پر بھارتی صحافی کا تجزیہ!
جلتے کشمیر پر بھارتی صحافی کا تجزیہ!

  


جنت نظیر، کشمیر، ان دنوں خون اور آگ کا دریا پاٹ رہا ہے۔اہلِ کشمیر، اپنی آزادی کو اپنے جگرکا خون پلا رہے ہیں۔ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر تاریخ حریت لکھ رہے ہیں۔ خون شہادت کے چھینٹے ،حرف و حکایات کو نقوش و سواد بنا کر صفحہ ء عالم پر ثبت کر رہے ہیں۔ پوری دنیا کشمیریوں پر بھارتی مظالم کو آنکھوں دیکھ رہی ہے، مگر کوئی بھارت کی مذمت نہیں کررہا، جمہوریت کا علم بردار امریکہ، بھارت سے پیار کی پینگیں بڑھا رہا ہے اور کشمیریوں پر مظالم پر خاموش ہے۔ ایسے میں ایک بھارتی صحافی اور نمایاں سیاست دان جناب شاہد صدیقی کے قلم سے (ان کے ہفت روزہ ’’نئی دنیا دہلی‘‘ کے تازہ شمارہ میں) کشمیرپر ایک تجزیہ سامنے آیا ہے، وہ لکھتے ہیں۔

’’بندوق کی نالی میری طرف

گفتار کی گرمی میری طرف

ہر ظلم کا رخ میری طرف

میں شومئی تقدیر ہوں

سنو! میں کشمیر ہوں!

یہ چند جملے محض ایک نظم کا ٹکڑا نہیں، بلکہ وادی کشمیر کی حقیقت ہیں۔ اس وقت جنت ارضی خاک و خون میں غلطاں ہے اور جہنم کی تصویر پیش کر رہی ہے۔ آسمان خون برسا رہا ہے اور زمین آگ اگل رہی ہے۔ وہ مہینے ہونے کو آئے، ہڑتال اور کرفیو جاری ہے۔ مسلسل گولیاں چل رہی ہیں اور موت کے چھرے عوام کو ابدی نیند سلا رہے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد میں اضافہ کے سبب ہسپتالوں میں جگہ نہیں بچی اور ہلاک شدگان کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے قبرستانوں میں تازہ قبریں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔مقتولوں کا ہندسہ اب سینچری کو پہنچنے ہی والا ہے۔ ہڑتال اور کرفیو کے سبب عام لوگوں کی زندگی دشوار ہو گئی ہے اور کاروبار زندگی ٹھپ ہے۔ ماضی میں کرفیو کے اثرات صرف شہر تک رہتے تھے، اب اس کا دائرہ شہر سے نکل کر دیہات تک پھیل گیا ہے۔

وادی کشمیر میں ایک نئی مصیبت کے طور پر پیلٹ گن کو بھی دیکھا جا رہا ہے، جو مارتی نہیں ہے، بلکہ زندگی کو موت سے بد تر بنا دیتی ہے ۔ اس کی زو میں آنے والے بہت سے لوگ اپنی آنکھوں کی روشنی گنوا چکے ہیں، جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ایڈوکیٹ جنرل کو ہدایت دی ہے کہ وہ وادی میں پیلٹ گن کی تباہ کاریوں کے حوالے سے جامع اورمکمل رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔ عدالت میں ایک مفاد عامہ کی درخواست پر سماعت کے دوران سرکار کی طرف سے پیلٹ گن سے ہوئی تباہ کاریوں کی رپورٹ پیش کی گئی، پچھلے دنوں ایک 8برس کا بچہ پیلٹ فائرنگ سے شدید زخمی ہو گیا تھا۔ اس کے اہل خانہ نے الزام عائد کیاکہ جنید کو نشانہ بنا کر پیلٹ کا استعمال کیا گیا۔ اسی طرح سری نگر کے قلمدان پورہ نواب باڑار میں اس وقت کہرام مچ گیا، جب سڑک پر کھیل رہے ایک 7برس کے بچے پر پولیس نے پیلٹ گن سے وار کیا۔ جنید کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ علاقے میں کرفیو تھا اور کوئی بھی سنگباری یا احتجاجی مظاہرہ نہیں ہو رہا تھا، مگر پھر بھی پولیس نے پیلٹ گن کا استعمال کیا۔ دوسری طرف پرانے سری نگر علاقے میں ایک ایمبولینس کے ڈرائیور کو گولی ماردی گئی۔ اس کے لئے بھی سیکیورٹی فورسز پر الزام لگائے جارہے ہیں۔ عام لوگوں کا الزام ہے کہ پولیس ایمبولینس کو بھی جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔

جہاں ایک طرف کشمیر کے حالات بد سے بدتر ہو تے جارہے ہیں، وہیں دوسری طرف بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی پچھلے دنوں جموں و کشمیر کے حالات کو لے کر اعلیٰ سطح میٹنگ طلب کی، جس میں جموں و کشمیر کے تازہ حالات پر بحث ہوئی۔ساتھ ہی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ملے ان پٹ پر بھی بحث ہوئی، جس میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گرد وادی میں بڑا حملہ کر سکتے ہیں ۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ سرحد پار سے لشکر،جیش محمد اور حزب کے دہشت گرد ہندوستانی سرحد میں در اندازی کے لئے تیاری کررہے ہیں۔ وزیر داخلہ کی طرف سے بلائی گئی میٹنگ میں مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے ساتھ ساتھ وزیر دفاع منوہر پاریکر، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور مرکزی داخلہ سیکریٹری بھی شامل تھے۔ میٹنگ میں کشمیر کے موجودہ حالات کو لے کر سیکیورٹی کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت جموں کشمیر میں اب دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں میں کوئی فرق نہیں کرے گی۔ علیحدگی پسند لیڈروں پر سخت کارروائی ہو سکتی ہے، کیونکہ ان کے خلاف اب دہشت گردی مخالف قانون، یعنی UAPA کے تحت مقدمہ درج کر کے کارروائی کرنے کا پلان ہے۔ اس کے لئے مرکزی حکومت وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو راضی کرنے میں مصروف ہے۔ وادی کشمیر میں اب کسی اور کو برہان وانی کی طرح دہشت گردی کا پوسٹر بوائے نہیں بننے دیا جائے گا۔ اس کے لئے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر کنٹرول کے لئے باقاعدہ کنٹرول روم قائم کیا جا رہا ہے، جو انٹرنیٹ پر نظر رکھے گا۔ اس کا ذمہ تکنیکی خفیہ ایجنسی این ٹی آر اور وزارت مواصلات کی ٹیم کو دیا جائے گا۔ یہ ٹیم سوشل سائٹس جیسے فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر نظر رکھے گی اور دہشت گردی کو بڑھانے والے مواد کو ہلاک کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گی۔ حالانکہ اسی کے ساتھ یہ بھی خبر ہے کہ ذاکر راشد بھٹ نامی ایک کشمیری نوجوان نے خود کو حزب المجاہدین کے شہید کمانڈر برہان وانی کا جانشیں قرار دیا ہے۔ یہ انجینئرنگ کا طالب علم رہ چکا ہے۔

(مقبوضہ) جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں 20 اپوزیشن رہنماؤں نے بھارتی صدر پرناب مکھر جی سے ملاقات کی اور ان سے گزارش کی کہ وہ مرکزی حکومت سے کشمیر کے موجودہ بحران کا سیاسی حل ڈھونڈنے کے لئے کہیں۔ 20 اپوزیشن رہنماؤں کی قیادت کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے صدر سے ایک گھنٹے کی ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے کہا کہ ہم نے صدر سے مرکزی حکومت سے یہ کہنے پر زور دیا کہ وہ ریاست میں مسئلے کو حل کرنے کے لئے آگے آئے اور تاخیر کئے بغیر تمام فریقوں کو شامل کر کے سیاسی مذاکرات کا عمل شروع کرے۔ صورتحال سے نمٹنے سے مرکز کا مسلسل انکار مایوس کن ہے اور اس سے ریاست میں امن اور استحکام کیلئے طویل مدتی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔‘‘

مزید : کالم


loading...