امریکہ چین کا اثرروکنے کیلئے بھارت سے تعاون بڑھارہا ہے ، سرتاج عزیز

امریکہ چین کا اثرروکنے کیلئے بھارت سے تعاون بڑھارہا ہے ، سرتاج عزیز

اسلام آباد(آن لائن ) وزیراعظم کے خارجہ امور اور قومی سلامتی کے خصوصی مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ امریکہ جنوبی ایشیائی خطے میں چین کے اثر روکنے کے لئے بھارت سے تعاون بڑھا رہا ہے،پاکستان عالمی تنہائی کا شکار ہونے کا تاثر غلط ہے بلکہ ہمارا ملک درست مقام پر کھڑا ہے اورپاکستان کے چین، روس اور مشرق وسطی کے ممالک سے اچھے تعلقات ہیں،دنیا میں جس طرح کی نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں پاکستان اس میں صحیح جانب کھڑا ہے،امریکہ بھی اپنی پالیسی تبدیل کر رہا ہے، اس صورتحال میں واشنگٹن نے ایشیاء کو اپنی پالیسی کا محور بنایا ہے ،جان کیری کے انڈیا میں بیانات سے پاکستان کی کوئی بدنامی نہیں ہو رہی ہے، ساری دنیا میں دہشت گردی کا وبال بڑھتا جارہا ہے ، داعش کو ابھی تک پاکستان میں داخل نہیں ہونے دیا۔سرتاج عزیز نے برطانوی نشریاتی ادارے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں جس طرح کی نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں پاکستان اس میں صحیح مقام پر کھڑا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ صرف یہ پراپیگنڈہ ہے جو ہو رہا ہے پاکستان کے چین، روس اور مشرق وسطی کے ممالک سے اچھے تعلقات ہیں۔کشمیر کے حوالے سے سرتاج عزیز سے کہا: کشمیر کے مسئلہ دنیا نے نہیں بلکہ کشمیریوں نے حل کرنا ہے۔جو لوگ ایک دفعہ خون دینے کے لیے تیار ہو جائیں ان کو کوئی نہیں دبا سکتا۔انھوں نے کہا جب سے افغانستان سے بیرونی افواج کی کمی ہوئی ہے اور مشرق وسطی جنگ و جدل کا میدان بن رہا ہے تو امریکہ بھی اپنی پالیسی تبدیل کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا اس صورتحال میں امریکہ نے ایشیا کو اپنی پالیسی کا محور بنایا ہے۔انھوں نے کہ امریکی پالیسی کا مقصد چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنا ہے۔ظاہر ہے اس میں انڈیا زیادہ فٹ ہوتا ہے، انڈیا اور امریکہ میں تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے، دفاعی معاہدے ہوئے ہیں بلکہ ایک طرح کی سٹریٹیجک اتحاد بن رہا ہے۔انھوں نے دوسری جانب چین، روس اور دوسرے علاقائی ممالک شنگھائی اتحاد بنایا ہے اور پاکستان بھی علاقائی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ان ممالک سے تعلقات کو بہتر بنانے کی پالیسی کے ساتھ ساتھ امریکہ سے بھی اپنے تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے کیونکہ پاکستان تو 40 برسوں سے امریکہ کا اتحادی رہا ہے۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے انڈیا میں دہشتگردی کے حوالے سے دیئیگئے بیانات کے بارے میں سرتاج عزیز نے کہا کہ جب وہ وہاں ہوں گے تو کچھ اور بیان دیں گے جب یہاں ہوں گے تو ان کا بیان کچھ اور گا۔سرتاج عزیز نے کہا کہ امریکہ سمیت ساری دنیا کو معلوم ہے کہ پاکستان نے پچھلے تین برسوں میں دہشتگردی کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کی ہے وہ دنیا میں کوئی نہیں حاصل کر سکا ہے لیکن انڈیا کی خواہش ہے کہ پاکستان کو اس کا کریڈٹ نہ ملے۔انھوں نے کہا کہ ساری دنیا میں دہشت گردی کا وبال بڑھ رہا ہے سوائے پاکستان کے۔پاکستان نے نہ صرف اپنے قبائلی علاقوں کو دہشت گردوں سے صاف کر کے وہاں اپنی عملداری قائم کی، داعش کو ابھی تک ملک میں داخل نہیں ہونے دیا اور فاٹا اصلاحات کے ذریعے اپنی سرحدوں کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا امریکہ سمیت دنیاکو جلد نظر آ جائے گا کہ پاکستان جس انداز میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ جان کیری کے انڈیا میں بیانات سے پاکستان کی کوئی بدنامی نہیں ہو رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان نے آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان میں حقانی نیٹ ورک سمیت تمام گروپوں کے بلا تفریق کارروائی کی ہے۔جماعت الدعو کے رہنماؤں کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اپنے ملک میں امن کے لیے جماعت الدعو جیسی تنظیموں کے خلاف آہستہ آہستہ کارروائی کر رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ جماعت الدعو کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نافذ کیا جا رہا ہے۔ لوگ ایسے ہی باتیں کرتے ہیں۔ حافظ سعید، زکی الرحمن لکھوی پر بہت پابندیاں ہیں، ان کے اکانٹ، فنڈ اکھٹے کرنے پر پابندیاں ہیں۔انھوں نے کہا پاکستان کو اس بات کو مایوسی ضرور ہوئی ہے کہ امریکہ سمیت دنیا نے کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرنے کی بجائے اس پر صرف تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سرتاج عزیز

مزید : کراچی صفحہ اول