افغان مہاجرین کو بلا جواز تنگ نہیں کیا جائیگا ، طاہر خان

افغان مہاجرین کو بلا جواز تنگ نہیں کیا جائیگا ، طاہر خان

 پشاور ) انٹرویو ۔محمد شہباز چیمہ سے( سی سی پی اوپشاور طاہرخان جن کا تعلق ضلع چار سدہ سے ہے ابتدائی تعلیم ڈگری کالج سے حاصل کی ایف اے کرنے کے بعد کراچی چلے گئے کراچی سے MBA کرنے کے بعد سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور اپنے بیچ کا ٹاپر یعنی ٹاپ پوزیشن پر رہا اس کے بعد بطور Asp پولیس فورس کو جوائن کیا اور اپنی ٓ کاکردگی کی بنا پر ترقی کرتے چلے گئے اور پشاور sp کینٹ رہے اس کے بعد مزید کارکردگی کی بنا پر ایس ایس پی آپریشن کا چارج مل گیا جبکہ طاہر خان اس کے علاوہ ایس ایس پی موٹروے بھی رہ چکے ہیں بنوں اور نوشہرہ میں بھی بطور DPO ڈیوٹی سر انجام دی حال ہی میں مردان میں ڈی آئی جی تھے اور مردان سے تبدیل کرکے ان کو سی سی پی پشاور تعنیات کر دیا گیا طاہرخان نے روز نامہ پاکستان کو انٹرویو دیتے ہو ئے بتایا کہ ہماری پولیس فورس میں کافی بہتری آئی ہے اور اس کو مزید بہتر بنانے کی کوشش بھی کروں گا ہمارے پاس وسائل اور نفری کی بھی کمی ہے اس کے باوجود خیبر پختون خواہ کی پولیس بہت اچھا کام کر رہی ہے سب سے بڑی بات اس میں یہ ہے کہ کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہے اور پولیس ڈیپارٹمنٹ میں میرٹ پر کام ہو رہا ہے انہوں نے مزید بھی بتایا کہ ابھی ہمیں بہت سارے چلنیجز کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے اس کے باوجود ہماری نوجوان فورس بڑی ہمت اور جرات کا مظاہرہ کر رہی ہے ہمیں دہشت گردی کا ہمیشہ خطرہ اس لئے لاحق رہتا ہے کہ ہمارا ایک طویل سرحدی علاقہ جو کہ افغانستان کے ساتھ جڑا ہو ا ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے داخلی اور خارجی راستوں کے لئے ہمیشہ اپنی پولیس فورس کو الرٹ رکھنا پڑتا ہے اور ہماری پولیس کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے الرٹ رہتی ہے اور آپریشنضرب عضب کے حوالے سے بھی انہوں نے بتایا کہ ضرب عضب کی وجہ سے بہت زیادہ مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور صوبے میں کافی حد تک امن برقرار ہوا ہے ایک سوال کے جواب میں طاہر خان نے بتایا کہ عوام کی سہولیت کے لئے ہم نے تھانوں میں drc کا آغاز بھی کیا ہے اور پشاور کے تھانوں کو ماڈل اس لئے بنایا کہ عوام اور پولیس کے تعلقات آپس میں بہتر ہوں اور عوام کو تھانوں میں ہر قسم کی سہولیت اور ریلیف بھی مل سکے اور اگر تھانوں کی حالت بہتر ہو گی تو پولیس افسر بھی تھانے میں بیٹھ کر اپنی ڈیوٹی اچھے طریقے سے سر انجام دے سکیں گے ۔انہوں نے بتایا کہ DRC ابھی تک پشاور میں دو تھانوں میں شروع کیا گیا ہے گلبہار اور گلبرگ میں اب اس کے علاوہ مزید بھی تھانوں میں شروع کیا جائے گا اس کے علاوہ مختلف اضلاع میں بھی drc قائم کئے گئے ہیں عوام کی سہولیت اور انصاف کے لیے اور اس کے علاوہ دیگر اضلاع میں مزید بھی بنائے جائیں گے جس میں ہمارے تربیت بافتہ پولیس اہلکار تعنیات ہونگے اس کے علاوہ صوبہ خیبر پختون خواہ کی پہلی حکومت ہے جس کی طرف سے ہمیشہ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ وی آئی پیز کی سیکورٹی کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور وی آئی پیز کی سیکورٹی کے لئے پولیس کو دوسرے صوبوں کی طرح زیادہ تنگ نہیں کیا جاتا لیکن حالات کی وجہ سے خطرات لاحق رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سیکورٹی کا خیال کر نا پڑتا ہے ورنہ ان کی طرف سے کبھی بھی کسی قسم کی سیکورٹی کی کوئی ڈیمانڈ نہیں آئی سی سی پی او نے مزید کہا کہ میرا کسی بھی سیاسی پارٹی سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے اور ہر کام ہمیشہ میرٹ پر ہی ہو گا اور پولیس کی کرپشن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پولیس بھی معاشرے کا ایک حصہ ہے میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ پولیس سو فیصد کریشن سے پاک ہے لیکن خیبر پختون خواہ میں پہلے کی نسبت میں کرپشن میں بہت زیادہ کمی آئی ہے اور اس کے لئے ہماری مزید کوشش بھی جاری ہے کہ اس محکمے کو کرپشن سے پاک کر دیا جائے اور اس کے لئے پولیس میں سزا و جزا کا عمل بھی جاری ہے اور جاری رہے گا افغان مہاجرین کے بارے میں بھی انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین بھی ہمارے بھائی ہیں اور جن افغان مہاجرین کے پاس اپنا کارڈ موجود ہوگا ان کو بلا وجہ تنگ نہیں کیا جائے گا اور جن کے پاس کسی قسم کی بھی کوئی دستاریزات موجود نہ ہوں ان کو ہم ڈی پورٹ کر رہے ہیں اور نومبر تک افغان مہاجرین کو ٹائم بھی دیا جا رہا ہے کہ وہ نومبر تک اپنی وآپسی کے انتظامات مکمل کرکے چلے جائیں اور اب حال ہی میں چند دن پہلے تعنیات ہونے پر سی سی پی او پشاور سے بتایا کہ میں ابھی تک تو اپنی پہلی ٹیم جو کام کر رہی ہے اس پر مطعمن ہوں اور مزید اگر مجھے کسی جگہ تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوئی تو میں ضرورکروں گا اور طاہر خان نے مزید بھی بتایا کہ ہماری پولیس کسی بھی پولیس افسر کا کام اور ڈیوٹی اپنی پوری ایمانداری کے ساتھ کرتی ہے اور اب اور صوبوں کی طرح پیسوں کی ڈیمانڈ نہیں کرتی اور اس میں سب سے بڑی خوش آئین بات یہ بھی ہے کہ صوبے کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے آئی جی خیبر پختون خواہ کو مکمل طور پر فری ہینڈ دیا ہوا ہے اور پولیس میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں کرتے اور نہ کسی کو کرنے کی اجازت دی ہے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...