سندھ پولیس کے 251انسپکٹر ز کی ڈی ایس پی کے عہدوں پر ترقی

سندھ پولیس کے 251انسپکٹر ز کی ڈی ایس پی کے عہدوں پر ترقی

کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیر اعلی مراد علی شاہ نے کہاہے کہ ہرقیدی کوجیل میں قانون کے مطابق سہولیات دی جاتی ہیں، کسی کو اس کے عہدے کی وجہ سے خصوصی سہولت نہیں دی جائے گی۔سندھ میں 3ماہ کے اندر اینٹی رائٹ فورس بنانا ہوگی۔ 22 اگست کے واقعات کے ذمے داروں کو سزا دی جائے گی، شہر میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کو ختم کرنا ناممکن ہے۔ کراچی آپریشن کامیاب اس وقت ہوگا جب پولیس اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگی،مثالی امن کے قیام کے بغیرہم ترقی نہیں کرسکتے، ملک کے لیے جانیں قربان کرنے والے قابل تعریف ہیں، پولیس کے ہاتھ میں صوبے کا امن وامان ہے اور پولیس نے ٹھیک کام کیاتوصوبے کے لوگ چین کی نیند سوئیں گے، تجاوزات کے زمرے میں جو بھی عمارت آئے گی وہ گرا دی جائیگی۔سندھ میں 3ماہ کے اندر اینٹی رائٹ فورس بنانا ہوگی۔ 22 اگست کے واقعات کے ذمے داروں کو سزا دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سینٹرل پولیس آفس کراچی میں ترقی پانے والے پولیس افسران کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں آئی جی سندھ پولیس اللہ ڈنوخواجہ سمیت دیگر پولیس افسران بھی شریک ہوئے۔وزیراعلی سندھ نے ڈی ایس پی رینک پرترقی پانے والے انسپکٹرزکو پروموشن لیٹرز دیئے اور بیج بھی لگائے۔سندھ پولیس کے 251 انسپکٹرز کو ڈی ایس پی کے عہدے پرترقی دے دی گئی ہے، جن میں 8 خواتین انسپکٹرز بھی شامل ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ترقی پانے والے پولیس افسروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ترقی پانے والے افسران کی ذمے داری اور بڑھ گئی ہے۔وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ آج کی یہ تقریب ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے ہمارے سپاہی اور افسران ہمارا قیمتی سرمایہ ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائیگا پولیس نے صوبے میں قیام امن کے لئے اپنا اہم کردار ادا کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک کے جانیں قربان کرنے والے قابل تعریف ہیں جب کہ پولیس کے ہاتھ میں صوبے کا امن وامان ہے اور پولیس نے ٹھیک کام کیاتوصوبے کے لوگ چین کی نیند سوئیں گے۔انہوں نے کہاکہ سندھ میں موجودہ صورتحال کی وجہ سے وفاقی اداروں کی مدد لینا پڑرہی ہے۔پولیس کی فنڈنگ کے حوالے وزیراعلی نے کہاکہ اس میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے،لیکن پولیس کوسامان کی خریداری کیلیے رقم مختص کی تھی جو خرچ نہیں ہوسکی۔ پیسے مختص کرنے کا فائدہ نہیں ہے جب تک اس کا بروقت استعمال نہ ہوسکے۔بلدیاتی اختیارات سے متعلق وزیراعلی سندھ نے کہا کہ قانون موجود ہے بلدیاتی امیدواروں کواختیارات قانون کے مطابق دیئے جائیں گے۔وسیم اختر کے متعلق ایک سوال کے جواب میں مراد علی شاہ کا کہنا تھاکہ جو سہولیات قیدیوں کو ملناچاہییں وہ دی جائیں گی،لیکن کسی قیدی کو اس کے عہدے کی وجہ سے خصوصی سہولت نہیں دی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ شہر میں تجاوزات کا خاتمہ ایک دن میں ممکن نہیں لیکن اس کے خلاف کارروائی جاری رہے گی، تجاوزات کے زمرے میں جو بھی عمارت آئے گی وہ گرا دی جائے گی۔صرف سیاسی جماعت کے دفاتر ہدف نہیں ،گجرنالے پر تعمیر 3 منزلہ عمارتیں بھی گرائی گئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ اسٹریٹ کرائم کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے، اسٹریٹ کرائم میں ملوث ملزمان کو پکڑ کر سزا دینا ہماری ذمے داری ہے۔گزشتہ مہینے میں ہرعلاقے میں جرائم میں کمی ہوئی جب کہ جرائم ختم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔۔اس موقع پر آئی جی سندھ پولیس اللہ ڈنو خواجہ نے کہا کہ پولیس کو تفتیش میں کمزوری پرتنقید کا نشانہ بنایا جاتاہے ، سندھ پولیس میں تربیت کے معیار کو بڑھانے کے لیے بھرتیوں کی ضرورت ہے،ترقی ہرسرکاری افسر کا خواب ہوتی ہے، ترقی پانے والوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے، وزیر اعلی سندھ کے شکر گزارہیں جنھوں نے جلداس معاملے کو حل کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کے جوانوں کی بڑی تعداد نے شہادت پائی ہے،سندھ کو مثالی صوبہ بنانے میں کوشاں رہیں گے۔اس موقع پر انہوں نے وزیر اعلی سے گزارش کی کہ دہشت گردوں کے خلاف مقابلوں میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لئے دس کروڑ کا گردشی فنڈ قائم کیا جائے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول