جہازپر سوار ہوکر ہرگز کوئی سپام ای امیل یا میسج نہ کھولیں،ورنہ؟

جہازپر سوار ہوکر ہرگز کوئی سپام ای امیل یا میسج نہ کھولیں،ورنہ؟

دبئی(نیوزڈیسک)ہر انسان کی عادت ہوتی ہے کہ وہ جہاز پر بیٹھ کر اپنی ای میل، ٹویٹر اور فیس بک کا اکا?نٹ چیک کرتا ہے لیکن یہ انتہائی غیر محفوظ عمل ہے اور اس کے ذریعے ہائی جیکرز زمین پربیٹھے ہی طیارہ اغواء کرسکتے ہیں۔اس کی وجہ بہت سادہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جہاز کا پائلٹ زمینی رابطے اور جہاز میں بات چیت کے لئے وہی وائی فائی استعمال کرتا ہے جو تمام مسافر استعمال کررہے ہوتے ہیں اور اگرکوئی مسافر کسی سپام ای میل یا فیس بک میسج کا جواب دے تو جہاز کے اغواء ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔گلف ایئر کے ڈائریکٹر آئی ٹی ڈاکٹر جسیم حاجی الجسیم کا کہنا ہے کہ ایئر لائنز کی طرف سے مسافروں کو دئیے جانے والے وائی فائی کی وجہ سے لوگ زمین پر بیٹھ کر طیارہ اغواء کرسکتے ہیں۔’’امریکہ میں دو لوگوں نے اس کا کامیاب تجربہ کیااور ثابت کیا کہ صرف انٹرنیٹ کنکشن کی مدد سے ایسا کیا جاسکتا ہے۔اس کاکہنا ہے کہ 97فیصد مسافر اپنے ساتھ فون لے کر جہاز پر سوار ہوتے ہیں اور 87فیصد ایسے لوگ ہوتے ہیں جو سمارٹ فونز رکھتے ہیں لیکن اگروہ جہاز کے وائی فائی سے کنکٹ ہوکر انٹرنیٹ استعمال کریں تویہ انتہائی بڑا رسک ہے اور مسافروں کو چاہیے کہ جہازپر سوار ہوکر ہرگز کوئی سپام ای امیل یا میسج نہ کھولیں اور نہ ہی اس کا جواب دیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر