ملک کے ڈیفالٹ کر جانیکی خبریں بے بنیاد ہیں ، اشرف محمود وتھرا

ملک کے ڈیفالٹ کر جانیکی خبریں بے بنیاد ہیں ، اشرف محمود وتھرا

کراچی (اکنامک رپورٹر)گورنر سندھ اسٹیٹ بینک اشرف محمود وتھرا نے کہا ہے کہ پاکستان کے ڈیفالٹ کرجانے کی بے بنیاد خبریں پھیلائی جارہی ہیں حقیقت یہ ہے کہ ملک کی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔آئی ایم ایف کو قرضہ ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں ۔کسی بھی ملک میں سیاسی بے چینی اور بے یقینی کی صورت حال کے اثرات یقینی طور پر اس کی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں ۔ سی پیک کے مکمل ہونے میں 5تا 7سال لگیں گے جس کی وجہ سے فوری طور پر یہ بتانا کہ مالی طور پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے قبل از وقت ہے۔یہ بات انہوں نے جمعرات کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔اشرف محمود وتھرا نے کہا کہ 57ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کرنے ہیں جبکہ آئی ایم ایف کی آئندہ قسط کی مالیت 5ارب ڈالر ہے جس کو پاکستان بخوبی ادا کرسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے ۔جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت بھی ترقی کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں ۔جبکہ ملک میں افراط زر بھی کم ترین سطح پر آگیا ہے ۔لہذا معیشت کو کسی قسم کے خطرات کا سامنا نہیں ہے ۔انہوں نے بتایا کہ میڈیا کے بعض حلقوں میں جولائی کی برآمدات میں کمی کا موازنہ کرکے پورے سال کی برآمدات میں کمی کا عندیہ دیا گیا ہے جو کہ ایک غلط تجزیہ کے ساتھ ساتھ میڈیا اخلاقیات کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔انہوں نے کہا کہ قرضوں کی مد میں نجی اور مجموعی قرضوں پر علیحدہ علیحدہ تجزیہ کیا جانا چاہیے جو انتہائی ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستاسن میں 3سال کے دوران ہونے والی معاشی ترقی کو بین الاقوامی جریدوں اور ریٹنگ ایجنسیوں نے بہت زیادہ سراہا ہے جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔انہوں نے کہا کہ عید کی دس دن چھٹیوں کی وجہ سے جولائی کی ترسیلات زر میں کمی آئی تھی جبکہ سال کے باقی مہینوں کے دوران اس میں بہتری آئی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سی پیک کے مکمل ہونے میں 5تا 7سال لگیں گے جس کی وجہ سے فوری طور پر یہ بتانا کہ مالی طور پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے قبل از وقت ہے ۔سی پیک پروجیکٹ میں انڈسٹریل زون بھی قائم کیے جائیں گے جو برآمدی نوعیت کے صنعتی یونٹس پر مبنی ہوں گے ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک میں سیاسی بے چینی اور بے یقینی کی صورت حال کے اثرات یقینی طور پر اس کی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...