پشاور میں آہنی باڑوالی رکاوٹیں خطرے کی علامت بن گئیں

پشاور میں آہنی باڑوالی رکاوٹیں خطرے کی علامت بن گئیں

 پشاور (عمران رشید )صوبائی دارالحکومت پشاور میں بے ہنگم ٹریفک ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے جس کے حل کیلئے گاہے بگاہے مختلف اقدامات بھی کئے جاتے رہتے ہیں تاہم یہ گھمبیر مسئلہ حل ہونے کا نام نہیں لیتا حال ہی میں اندرون شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر کانٹے دار رکاوٹیں نصب کی گئی ہیں جو کئی وجوہات کی بنا پر خطر ناک اور کسی بڑے حادثے کا موجب بھی بن سکتی ہیں امر واقع یہ ہے کہ شہر خاص طور پر گنجان آباد اور کاروباری مراکز سے بھر پور اندرون شہر میں درجن بھر مقامات پر کانٹے دار رکاوٹیں نصب کی گئی ہیں جس سے ٹریفک مکمل طور پر یکطرفہ ہوگئی ہے مخالف سمت پر گاڑی گزارنے کی کوشش پر ٹائر پھٹ جاتے ہیں ٹریفک کو منظم بنانے کیلئے ٹریفک سیفٹی میٹل بریکرز کا دنیا بھر میں استمال عام ہے جبکہ یہ تکنیک سکیورٹی کے مقاصد حاصل کرنے کیلئے بھی استمال کی جاتی ہے تاہم پشاور شہر میں نصب شدہ ٹریفک سیفٹی میٹل سپیڈ بریکر بظاہر شہری آبادی اور کاروباری مراکز کے ممکنہ حادثاتی واقعات کو نظر انداز کرکے نصب کئے گئے ہیں اندرون شہر آتشزدگی ،بم دھماکوں ،ٹارگٹ کلنگ سمیت مختلف حادثا ت کئی بار پیش آچکے ہیں جبکہ گنجان شہری آبادی میں جہاں مصروف کاروباری مراکز کی بھی بڑی تعداد موجود ہو ریسکیو اداروں ،فائر بریگیڈ ،پولیس اور سکیوٹی فورسز کا شارٹ کٹ اور فوری پہنچنا ضروری ہوتا ہے لیکن شہر میں حالیہ کانٹے دار رکاوٹوں کی تنصیب میں اس امر کو محوظ نہیں رکھا گیا ،تاریخی کوہاٹی گیٹ کے اندر چرچ روڈ پر دہشت گردی اور خطرناک آتشزدگی کے واقعات پیش آچکے ہیں لیکن نصب کی گئی حالیہ رکاوٹ کے باعث کوہاٹی گیٹ سے داخل ہونے پر چرچ روڈ پر فوری داخلہ ناممکن ہوگیا ہے اسی طرح نمکمنڈی ،سرکی گیٹ ہسپتال روڈ اور دیگر مقامات پر بھی کانٹے دار رکاوٹیں نصب کرتے وقت ممکنہ بڑے حادثات یا امدادی اور سکیورٹی اداروں کی فوری پہنچ کو پیش نظر نہیں رکھا گیا دوسری جانب اگر مزکورہ رکاوٹوں کا احترام کرتے ہوئے مطلوبہ مقام تک پہنچنے کی کوشش کی جائے تو راستہ انتہائی طویل ہوجاتا ہے اس کے علاوہ اندرون شہر میں مقیم آبادی کو بھی عام معمولات کے لئے گھرو ں کو آنے جانے میں مسائل کا سامنا ہے جبکہ کسی ممکنہ ایمر جنسی کی صورت میں مریض کو ہسپتال لیجانے کیلئے ٹیکسی یا رکشہ مختصر راستے سے گھر تک پہنچانا بھی ناممکن ہو چکا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر