مرکزی ملزم نے نیب کو پلی بار گین کی پیشکش کردی، رہا ہونے کے امکانات روشن

مرکزی ملزم نے نیب کو پلی بار گین کی پیشکش کردی، رہا ہونے کے امکانات روشن

ملتان (نمائندہ خصوصی) سپریم کورٹ آف پاکستان سے ضمانت خارج ہونے کے بعد واپڈا ٹاؤن ملتان سکینڈل کے مرکزی کردار سعید احمد خان نے اربوں روپے مالیت کی کرپشن تسلیم کر لی اور نیب ملتان بیورو کو پلی بار گین کی پیش کش کر دی ہے۔ نیب ملتان نے سعید احمد خان کی 30 کروڑ روپے مالیتی بے نامی جائیدادوں کا سراغ بھی لگا لیا۔ مرکزی کردار نے واپڈا ٹاؤن کی مینجمنٹ کمیٹی کے اراکین کے نام بھی اگل دیئے۔ جس کے بعد مینجمنٹ کمیٹی کے اراکین اور 2انوسٹرز نے 12 کروڑ روپے واپس کر دیئے۔ معلوم ہوا ہے نیب ملتان نے واپڈا ٹاؤن سکینڈل کی تفتیش کے دوران سعید احمد خان کی کرپشن کے ثبوت حاصل کر لئے ہیں۔ ملزم نے واپڈا ٹاؤن فیز تھری کیلئے انویسٹرز کے ذریعہ 6000 کنال اراضی خریدی اس اراضی کے بدلے انوسٹرز کو 3344 دکانات الاٹ کر دیں جو جنہوں نے یہ دکانیں سادہ لوح شہریوں کو فروخت کر دیں۔ سعید احمد خان نے کمرشل فائیلز کی فروخت کیلئے مینجمنٹ کمیٹی کو کمیشن اور رشوت دینے کا انکشاف بھی کیا ہے اور ان تمام اراکین کے ناموں اور رقم کی تفصیلات بھی نیب حکام کے حوالے کر دیں ہیں۔ ان پردہ نشینوں کے نام کسی بھی وقت سامنے آسکتے ہیں۔ نیب ذرائع کے مطابق واپڈا ٹاؤن فیز تھری کیلئے اب تک 6000 ہزار کنال اراضی خریدی گئی۔ اس فیز کے ممبران کی تعداد 12 ہزار ہے۔ سعید احمد خان نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے۔ اس اراضی پر 3344 دکانات فروخت کر دیں۔ جبکہ فیز تھری کے الاٹیز کو پلاٹ نہ دیئے۔ فیز تھری کے باقی ماندہ الاٹیز کو پلاٹ دینے کیلئے واپڈا ٹاؤن ملتان کو تاحال 5000 کنال اراضی کی فروخت ہے۔ نیب ذرائع کے مطابق واپڈا ٹاؤن میں ہر تین گھروں کے بعد 1دکان فروخت کر دی۔ جوکہ پنجاب ہاؤسنگ سکیم اینڈ لینڈ سب ڈویژن کے رولز کے خلاف ہے۔ کسی بھی ہاؤسنگ سکیم میں صرف 5فیصد اراضی کمرشل مقاصڈ کیلئے استعمال ہو سکتی ہے۔ لیکن واپڈا ٹاؤن میں یہ تناسب 3:1 کا رہا ہے۔ تفتیش کے دوران مینجمنٹ کمیٹی کے 4اراکین اور 2انویسٹرز نے 12 کروڑوں روپے کی کرپشن کا اقرار کر لیا ہے اور یہ رقم واپس کرنے کی پیش کش کر دی۔ دریں اثناء واپڈا ٹاؤن سکینڈل کے مرکزی ملزم سعید احمد خان کی جانب سے پلی بار گینگ کی پیش کش کے بعد مرکزی ملزم کے آزاد ہونے کے امکانات روش ہوگئے ہیں۔ نیب قومی احتساب بیورو کی اس شق سے فائدہ اٹھانے کے بعد سعید احمد خان ہمیشہ کیلئے اس سکینڈل سے کلیئر ہو جائیں گے۔ جبکہ واپڈا ٹاؤن فیز تھری کے الاٹیز اپنی جمع پونجی سے محروم ہو جائیں گے۔ معلوم ہوا ہے سعید احمد خان اور ان کی ٹیم نے فیز تھری سے اربوں روپے سمیٹے ہیں۔ اس خوردبرد کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ نیب حکام کی جانب سے مرکزی ملزم کی بیرون ممالک پراپرٹی تلاش کرنے کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

واپڈا ٹاؤن سکینڈل

مزید : ملتان صفحہ اول


loading...