پاکستان میں ایک انوکھا بازار،دکاندار بھی خواتین،خریدار بھی خواتین

پاکستان میں ایک انوکھا بازار،دکاندار بھی خواتین،خریدار بھی خواتین
پاکستان میں ایک انوکھا بازار،دکاندار بھی خواتین،خریدار بھی خواتین

  


راولا کوٹ(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں ایک بازار ایسا بھی ہے جہاں دکاندار بھی خواتین ہیں اور گاہک بھی خواتین ہی ہیں۔راولا کوٹ کے گاؤں دریک میں اس منفرد بازار کی بنیاد بھیلا کوٹ کی رہائشی نصرت جاویدنے رکھی ۔

نصرت جاوید ایک سکول ٹیچر تھیں، پھر انہوں نے کچھ انوکھا کرنے کی ٹھانی اور اپنے خواب کی تکمیل کے لئے اس جگہ کا انتخاب کیا۔ انہوں نے ایک این جی او بنائی اور پڑھی لکھی خواتین کو ساتھ ملا کر علاقے میں صنف نازک کی حالت سنوارنے کا بیڑہ اٹھا لیا۔ بی بی سی کے مطابق نصرت جاوید کی این جی او نے پہلے اپنے ہی گاؤں میں دکان بنائی پھر دوسری خواتین کو ایسے ہی کاروبار کرنے کا مشورہ دیا ،یہ سلسلہ ایسا چلا کہ ایک پورا بازار وجود میں آگیا۔علاقے کے لوگوں کو بھی خواتین بازار کا مشورہ پسند آیا پھر مقامی شخص نے اپنی زمین پر دکانیں بنائیں اور انہیں کرائے پر اٹھا دیا،اس مارکیٹ میں سلائی سنٹر، بوتیک، پارلر، کاسمیٹکس اور جیولری کی دکانوں کے ساتھ ساتھ ایک ٹیوشن سنٹر بھی ہے۔

پہلے چھوٹی سی چھوٹی ضرورت کے لئے بھی خواتین کو راولا کوٹ جانا پڑتا تھا لیکن اب آس پاس کے دیہات سے خواتین بھی اسی بازار کا رخ کرتی ہیں‘اس مارکیٹ کے مقبول اور کامیاب ہونے کی بڑی وجوہات میں اس کا چار مختلف دیہاتوں کے لیے قابلِ رسائی ہونا اور یہاں پر موجود ایک پانی کا چشمہ بھی ہے ،صبح اور شام کے اوقات میں سینکڑوں لڑکیاں یہاں تازہ پانی بھرنے آتی ہیں، اسی بہانے وہ چند قدم دور اس مارکیٹ میں آ   کر خریداری بھی کر لیتی ہیں ۔

مزید : قومی


loading...