’سمندر پار موجود پاکستانی کیلئے ہرصورت یہ کام کریں‘بڑی آواز بلند ہوگئی

’سمندر پار موجود پاکستانی کیلئے ہرصورت یہ کام کریں‘بڑی آواز بلند ہوگئی
’سمندر پار موجود پاکستانی کیلئے ہرصورت یہ کام کریں‘بڑی آواز بلند ہوگئی

  

اسلام آباد(آن لائن) انڈونیشیا میں منشیات کے الزام میں سزائے موت پانے والے پاکستانی قیدی ذوالفقار کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ انہوںنے سزائے موت سے ایک روز قبل رحم کی اپیل کی تھی جس کی وجہ سے ان کی سزائے موت ملتوی کر دی گئی تھی انڈونیشیا میں پاکستانی حکام یا مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی جانب سے ذوالفقار کی سزائے موت ختم کرنے کے بارے میں صرف درخواستیں کی گئی ہیں قانونی نکات کو سامنے نہیں رکھا گیا ہے ،کمیٹی نے ذوالفقار کے بے گناہ ہونے کی صورت میں ہر قسم کی قانونی معاونت فراہم کرنے کی سفارش کی ہے ۔

وزارت خارجہ کے سینئر اہلکار ذوالفقار گردیزی نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ 2005میں ذوالفقار نامی پاکستانی انڈونیشیا میں منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں گرفتار ہوا اور وہاں پر مقامی عدالت نے اسے سزائے موت سنائی جس کے بعد ذوالفقار نے اپنا مقدمہ سپریم کورٹ تک لڑا مگر ہر عدالت نے اس کی سزائے موت برقرار رکھی انہوں نے کہاکہ معاملے کا علم ہونے پر انڈونیشیا میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے بھی اسے قانونی معاونت فراہم کی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی اس کی سزائے موت ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں ۔

انہوں نے بتایا کہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے انڈونیشیا کے سفیر کے ساتھ ذوالفقار کی سزائے موت ختم کرنے کی درخواست کی تھی جبکہ وزیر اعظم کی سطح پر بھی کوششیں کی گئی ہیں ،انہوں نے بتایاکہ سزائے موت سے ایک روز قبل ذوالفقار نے رحم کی اپیل کی جبکہ اس سے قبل ہر عدالت میں اس نے اپنے آپ کو بے گناہ ہونے پر اصرار کیا تھا اور رحم کی اپیل کرنے کے بعد اس کی سزائے موت عارضی طور پر ملتوی کی گئی ہے انہوں نے بتایاکہ حکومت پاکستان انڈونیشیا کے عدالتی نظام اور قوانین کا احترام کرتا ہے اور ہم اس سلسلے میں کسی قسم کا دباﺅ نہیں ڈال سکتے ہیں تاہم سفارتی سطح پر کوششیں کی جا رہی ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ ہمیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے کہ پاکستانی قیدی ذوالفقار واقعی بے گناہ ہے یا کسی قسم کی منشیات فروشی میں ملوث ہے تاہم انڈونیشیا سے اس کی پوری فائل منگوا کر کمیٹی کے سامنے پیش کر سکتے ہیں کمیٹی کے اراکین نے پاکستانی قیدی کو ہر قسم کی قانونی معاونت فراہم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر وہ بے گناہ ہے تو ہم اس کی رہائی کے لئے ہر سطح پر کوششیں کریں گے تاہم اگر وہ منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ثابت ہوا تو اس کو قانون کے مطابق سزا دی جائے ۔

مزید : اسلام آباد