بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی، سرچ آپریشن کے بہانے 150 خواتین سے زیادتی

بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی، سرچ آپریشن کے بہانے 150 خواتین سے زیادتی
بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی، سرچ آپریشن کے بہانے 150 خواتین سے زیادتی

  


سرینگر (این این آئی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران گزشتہ ماہ اگست میں 100 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا جن میں 11 بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہے۔

اتحاد ائیر لائنز نے ابوطبی اور امریکہ کے لئے حیرت انگیز ڈسکاؤنٹ متعارف کروادئیے

کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج جاری کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق ان میں سے ایک کشمیر کو حراست کے دوران شہید کیا گیا جبکہ 23 شہری مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کی وجہ سے شہید ہوئے۔ ان شہادتوں کے نتیجے میں درجنوں خواتین بیوہ اور 7 بچے یتم ہوئے۔ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے گزشتہ ماہ پرامن مظاہرین پر پیلٹ گن اور آنس وگیس سمیت طاقت کے وحشانہ استعمال سے 4900 سے زائد کشمیری شدید زخمی ہوئے جبکہ اس عرصے کے دوران 777 شہریوں جن میں بیشتر نوجوان اور حریت رہنماءشامل تھے کو گرفتار کرلیاگیا۔ بھارتی فوجیوں نے گزشتہ ماہ گھروں میں زبردستی داخل ہوکر کم سے کم 150 خواتین کی بے حرمتیاں کیں اور 190 گھروں کو نقصان پہنچایا۔ مقبوضہ کشمیر میں 54 دنوں کے دوران 664 کشمیریوں کی آنکھوں کو براہ راست پیلٹ گنوں سے نشانہ بنایا گیا، بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی فورسز کی درندگی پر مقبوضہ کشمیر کے ڈاکٹر بھی چلا ٹھے، اعدادوشمار کے مطابق قابض بھارتی فورسز نے ہر دو گھنٹے بعد ایک کشمیری کی آنکھوں کو پیلٹ گنوں سے نشانہ بنایا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی درندگی اور سفاکیت کی انتہا ہوگئی، قابض انتظامیہ نے 54 روز کے دوران 664 کشمیریوں کی آنکھوں کو براہ راست پیلٹ گنوں سے نشانہ بنایا جو وادی کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

کل جماعتی حریت کانفرنس ”ع“ گروپ کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو تشدد اور طاقت سے ہرگزدبایا نہیں جاسکتا۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اپنے بلند نصب العین اور مقدس مشن، حق خود ارادیت کی کامیابی کے لئے عوام کا ہر طبقہ اور ایک ایک فرد اپنی اپنی سطح پر قربانیاں پیش کررہا ہے اور ستم رسیدہ کشمیریوں کو اپنے حق و صداقت کے موقف سے ہٹانے اور آزادی کے مطالبے پر مشتمل پرامن عوامی جلسوں اور مظاہروں کو طاقت کے بل پر دبانے کی کارروائیاں ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں جدوجہد آزادی کو اب طاقت اور تشدد سے ہرگز ختم نہیں کیا

مزید : بین الاقوامی


loading...