ایم کیو ایم کا نیا قاعدہ

ایم کیو ایم کا نیا قاعدہ
ایم کیو ایم کا نیا قاعدہ

  

کراچی کو برباد کرنے میں ملٹری اسٹبلشمنٹ کا ہاتھ تھاتو اس کی مانگ سنوارنے کا کریڈٹ بھی اسکو جارہا ہے۔لیکن اس بار فرق یہ ہے کہ ملٹری اسٹبلشمنٹ نے پاکستان میں سیاست اور جہوریت کا عمل جاری رکھنے کے لئے جمہوری اداروں کو اعتماد میں لے رکھا ہے اور ہر سیاسی جماعت کو پاکستان کے نصاب کو یاد رکھنے کی ہدایت کررہی ہے،مردہ باد پاکستان اور قائد اعظم کو کافر کہنے والوں کو طاقت اور تدبر کیساتھ قومی دھارے میں شامل رکھنے میں بھی کوشاں ہے۔

یہی ایک وجہ ہوسکتی ہے کہ الف سے الطاف ، ب سے بھائی ،م سے مارو کا قاعدہ پڑھنے والی ایم کیوایم اپنا نصاب بدلنے کے لئے فاروق ستار کی قیادت میں منظم ہورہی اور پاکستان کے خلاف کسی الطاف کا قاعدہ نہ پڑھنے کا عہد کررہی ہے جس پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگی ہیں ۔ لیکن قوم اسکوڈھکوسلہ اور دھوکا سمجھ رہی ہے ۔ قوم الطاف حسین سمیت ایم کیو ایم کے تمام قائدین پر برہم ہے انہیں کوئی بھی محفوظ راستہ دینے کے حق میں نظر نہیں آتی ۔ایم کیو ایم کی سیاسی سرگرمیوں پر اعتراض کیا جارہاہے کہ غسل دئےے بغیردفنانے کی بجائے اس کو طہارت کاموقع کیوںدیاجارہا ہے؟۔اس کو دوبارہ زندہ کرنے والوں کا مقصد کیا ہے؟قوم کا برہم ہونا اپنی جگہ ....لیکن دیکھنا ہوگا کیا اہلیان کراچی بھی ایم کیو ایم پرمکمل برہم ہوچکے ہیں؟کراچی کی مئیر شپ ایم کیو ایم کو منتقل ہونے سے تو یہ نظر نہیں آتا۔.... جہاں تک ایم کیو ایم کو دوبارہ زندہ کرنے کا سوال ہے توممکن ہے اس ”مقصد“ کے پیچھے سلامتی کی کوئی مشیّت چھپی ہوئی ہواورچارہ گر اس چارہ جوئی میں مصروف ہوں کہ ایم کیوایم کے ترکش سے زیادہ سے زیادہ زہریلے تیرنکال لئے جائیں۔جب تک ایم کیوایم کی رگوں سے ملک دشمنی کا خون نکال نہیں لیا جاتا تب تک ممکن ہے فاروق ستار کو وضاحتوں اور معافیوں کی سیاست سے نجات نہ مل سکے ۔فی الحال تو لگتا ہے انہیںقوم کا اعتبارحاصل کرنے کا موقع دیا جارہا ہے۔

پاکستان میں طاقتور اور اڑیل سیاسی جماعتوں کے قائدین کا ہمیشہ یہی علاج تجویز کیاجاتا رہا ہے کہ انکی جماعتوں کودھڑوں میں تقسیم کرکے انہیں کمزور کردیا جائے ،یہی کچھ ایم کیو ایم کے ساتھ بھی کیا جارہاہے اور اسکی قابل اعتمادقیادت کو طاقت فراہم کی جارہی ہے تاکہ وہ جلد از جلد الطاف حسین کا قاعدہ پڑھنا چھوڑدے اور نئے سیاسی نصاب کو اختیارکرکے قومی دھارے میں شامل ہوجائے ۔ ایم کیو ایم لندن کے بانی الطاف حسین چونکہ خون خرابہ پر ایمان رکھتے ہیں اور مزاحمت سے گریز نہیں کرتے گے،لہذا ایم کیو ایم کی تقسیم کی منصوبہ بندی کئی مراحل میں جاری رکھی جاسکتی ہے۔اس دوران ایم کیوایم کے محاذ پر چومکھی جاری رہنے کا امکان ہے۔اگر توملٹری اسٹبلشمنٹ نے ایم کیوایم میں اپنے مہروں کی حفاظت کرلی تو سمجھ لیںکہ وہ سرخرو ہوجائے گی بصورت دیگر اگر ایک بھی ایم کیوایم پاکستانی کا قائد جاں سے گیا توایم کیوایم کی رگوں سے زہر نکالنا مشکل تر ہوجائے گا۔ان حالات میں ملٹری اسٹبلشمنٹ کو فاروق ستار کی جان کاتحفظ یقینی بنانا ہوگا ۔

ایم کیوایم تاریخ کے جس نازک دور سے گذرتے ہوئے سسکیاں لے رہی ہے اس پر قوم ترس نہیں کھانا چاہتی تاہم بعض دانشور اس بات پرپریشان ہیں کہ ایم کیوایم کے نام پر کہیں کچھ اور تو نہیں ہونے جارہا ،ایم کیوایم کے بعد کراچی کن قوتوں کے حوالے کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ان حلقوں کو اس بات پر بھی حیرانی ہے کہ کراچی میں خون خرابہ پیدا کرنے والی جماعت نے رینجرز آپریشنز کے باوجود اسکی مئیر شپ کیسے حاصل کرلی اور کراچی کو دوبارہ پرامن شہر بنانے کے عہدپرقائم ایم کیو ایم پر اعتبار کیوں کیا جارہاہے؟ ان سوالوں کے جوابات میں دونکات کو سامنے رکھنا ہوگا۔ پہلا نکتہ یہ کہ فاروق ستار نے اعتراف کیا ہے کہ کراچی میں جرائم پیشہ اور مطلوب لوگوں کے خلاف ایم کیوایم کی ہی نشاندہیوں پرآپریشنز کئے جارہے ہیں،دوسرا نکتہ وزیر اعلی سندھ سید مراد علیشاہ نے وضع کیا ہے۔انکے مطابق ایم کیو ایم کے دفاتر انکے حکم پر گرائے جارہے کیونکہ یہ سرکاری زمینوں پر قبضہ کے بعد بنائے گئے تھے۔

لمبی بحث کئے بغیر یہ نکتہ سمجھ لینا چاہئے کہ ان دونوں کے قائدین کے بیانات سے ظاہر ہوگیا ہے کہ ایم کیو ایم کی موجودہ پاکستانی قیادت جو فاروق ستار کے ساتھ کھڑی ہے ،مائنس الطاف فارمولے پر بہت پہلے گامزن ہوچکی تھی لیکن وہ الطاف حسین کو سیاسی طور پرکمزورکرنے اور اسکے کلرز کا نیٹ ورک توڑنے کے لئے تحفظات رکھتی تھی لہذا اس نے اسٹبلشمنٹ سے کچھ معاملات طے کر لئے ۔ایم کیوایم کے خونی نیٹ ورک کا خاتمہ کراتے ہوئے ایم کیوایم پاکستانی کو اپنی ساکھ بنانے کے لئے کراچی میں مئیر شپ کی گارنٹی دینا لازم سمجھا گیا ہوگا ....ایم کیوایم کو سیاسی دھارے میں شامل رکھنے کے فیصلے کو سیاسی اور عسکری حلقوں کی مکمل تائید حاصل ہوچکی ہے۔وزیر اعظم میاں نواز شریف نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کراچی میں آپریشنز مل جل کر کیا جارہا ہے جس سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ ایم کیوایم مائنس فارمولا لاگو نہیں کیا جائے گالہذا اسٹبلشمنٹ کراچی میں مافیاز کے قلع قمع کے ساتھ سیاسی اداروں کے تحفظ کوبھی یقینی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس صورتحال سے یہ فال آسانی سے نکالی جاسکتی ہے کہ کراچی کا مستقبل ماشاءاللہ تابناک ہے کیونکہ پہلی بار اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کا شکارہونے والی قوتیں اتحاد و اتفاق سے کراچی کا مسئلہ حل کرنے پر توجہ دے رہی ہیں اور سیاسی و جمہوری عمل بلاخطر جاری رہے گا۔

مزید : بلاگ