کم عمری میں شادی،جرمنی میں 14سالہ دلہن کوتحویل میں لے لیاگیا، عدالت نے ایسا سنسنی خیز فیصلہ سنا یاکہ عوا م کے اوسان خطا ہو گئے

کم عمری میں شادی،جرمنی میں 14سالہ دلہن کوتحویل میں لے لیاگیا، عدالت نے ایسا ...
کم عمری میں شادی،جرمنی میں 14سالہ دلہن کوتحویل میں لے لیاگیا، عدالت نے ایسا سنسنی خیز فیصلہ سنا یاکہ عوا م کے اوسان خطا ہو گئے

  


برلن(مانیٹرنگ ڈیسک)جرمنی ایک ایسا ملک ہے جہاں کم عمری میں شادیوں کی روایت تقریبا دفن ہو چکی ہے ،ایسے میں وہاں مقیم کم عمر شادی شدہ جوڑوں کی شادی کوتسلیم کرناجرمن اداروں کیلئے آسان نہیں ۔شاید اس لئے شامی تارکین وطن کے ایک جوڑے کی شادی تسلیم کرنے کے بجائے جرمن ادارے نے چودہ سالہ دلہن کو تحویل میں لے لیا۔

دو نوجوان لڑکیوں کو گھر والوں نے ساحل سمندر پر ایسی شرمناک حرکت کرتے رنگے ہاتھوں پکڑلیا کہ شرم کے مارے اپنی زندگی ہی ختم کرنے پر تُل گئیں،تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں

ڈوئچے ویلے کے مطابق آج کل جرمنی میں مہاجر خاندانوں میں کم عمری کی شادی کے کئی واقعات کے سلسلے میں جرمن عدالتوں سے رجوع کیا جا رہا ہے۔ وکلاءغیر واضح قوانین کا ابہام کو دور کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایک 14 سالہ لڑکی نے شام میں ایک 21 سالہ نوجوان سے شادی کر لی، جو اس کے قریبی عزیزوں میں سے تھا۔ اس کے بعد یہ دونوں جنگ سے تباہ حال اِس ملک سے ہجرت کر کے جرمن شہر آشافن برگ پہنچ گئے۔ نوجوانوں کے امور سے متعلق جرمن ادارے نے ان کی شادی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اس چودہ سالہ لڑکی کو تحفظ دینے کے غرض سے تحویل میں لے لیا گیا۔

اتحاد ائیر لائنز نے ابوظہبی اور امریکہ کے لئے حیرت انگیز ڈسکاؤنٹ متعارف کروادئیے

اس کے شوہر نے اس واقعے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ بامبرگ شہر کی ہائی کورٹ نے اس مقدمے کا سنسنی خیر فیصلہ سنایاکہ عوام کے اوسان خطا ہو گئے۔ججوں نے جرمنی کے بنیادی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا بیرون ملک ہونے والی شادیوں کو ا±نہی ممالک کے قوانین کی روشنی میں دیکھا جائے اور اس طرح عدالت نے اس شادی کو قانونی قرار دے دیا۔

آشافن برگ کی شہری انتظامیہ نے اس فیصلے کے خلاف جرمن آئینی عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ جرمنی میں بچوں یا کم عمری میں شادیوں کا موضوع ایک طرح سے تقریباً دفن ہو چکا تھا تاہم اس واقعے کے بعد یہ ایک مرتبہ پھر زندہ ہو گیا ہے۔

بھارتی وزیر کی شرمناک ویڈیو منظر عام پر آگئی، اس کے بعد فحش فلموں کی سب سے بڑی ویب سائٹ نے اس کے نام ایسا پیغام بھیج دیا کہ جان کر ہر بھارتی شرم سے پانی پانی ہوجائے

انسانی حقوق کی تنظیموں کے بہت سے نمائندوں کے علاوہ سیاستدان اور قانون دان بھی یہ رائے رکھتے ہیں کہ کم عمری کی شادیوں پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے۔ حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں ’سی ایس یو‘ اور ’سی ڈی یو‘ کے ایک مسودے کے مطابق’ گیارہ، تیرہ یا پندرہ سال کی کسی بچی کا ازدواجی بندھن سے نہیں بلکہ سکول سے تعلق ہوتا ہے“۔

اس مقصد کے لیے جو ٹیم قائم کی گئی ہے، اس کی کوشش ہے کہ وہ اس تناظر میں جرمن قوانین کو تبدیل کرائے۔ اس دوران کوشش کی جائے گی کہ اگر بیرون ملک سولہ سال سے کم عمر کسی لڑکی کی شادی کر دی گئی ہے تو اسے جرمنی میں تسلیم نہ کیا جائے اور صرف بالغ لڑکی اور لڑکے کے ازدواجی رشتے کو ہی قانونی حیثیت دی جائے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...