بھارت اور امریکہ کو زوردار دھچکا، جس ملک کو چین سے لڑانے کیلئے تیار کررہے تھے، اس نے ایسا اعلان کردیا کہ سارا معاملہ ہی اُلٹ ہوگیا

بھارت اور امریکہ کو زوردار دھچکا، جس ملک کو چین سے لڑانے کیلئے تیار کررہے ...
بھارت اور امریکہ کو زوردار دھچکا، جس ملک کو چین سے لڑانے کیلئے تیار کررہے تھے، اس نے ایسا اعلان کردیا کہ سارا معاملہ ہی اُلٹ ہوگیا

  


بیجنگ (نیوز ڈیسک) مشرقی ایشیا کے ملک ویت نام کو چین سے لڑانے کے لئے امریکہ اور بھارت نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا، حتٰی کہ اسے کروڑوں ڈالر اور بھاری اسلحہ دینے کے معاہدے بھی کر لئے، مگر یہ سازشیں کسی کام نہیں آئیں کیونکہ امریکا اور بھارت کی سب امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے ویت نام چین کے ساتھ جا کھڑا ہوا ہے۔

امریکہ نے ویت نام کو چین کے خلاف کھڑا کرنے کے لئے یقین دہانی کروائی تھی کہ بحیرہ جنوبی چین کے شمال مغربی حصے پر خود مختاری قائم کرنے کے لئے اسے ہر ممکن مالی اور عسکری مدد دی جائے گی۔ دوسری جانب حال ہی میں بھارت نے ویتنام کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل دینے کا معاہدہ بھی کر لیا تھا، مگر ان تمام باتوں کو ایک جانب رکھتے ہوئے ویتنام کے وزیر دفاع جنرل نگو شوان لیش گزشتہ روز چین جاپہنچے۔

’ایسی بات ہے تو سعودی عرب جاﺅ اور وہاں یہ کام کرکے دکھاﺅ‘ فرانسیسی شہر کے حکمران نے عورتوں کے لباس پر پابندی برقرار رکھنے کا اعلان کردیا، سعودی عرب کے بارے میں ایسی بات کہہ دی جس کی کسی کو توقع نہ تھی

ویتنامی وزیر دفاع نے چین کے وزیر دفاع سینئرلیفٹیننٹ جنرل شانگ وان کوان کے ساتھ ایک خصوصی میٹنگ کی جس میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے متعدد اہم اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں اہم شخصیات نے باہمی فوجی تعلقات کی گرم جوشی کو خصوصی طور پر سراہا اور سٹریٹجک ڈائیلاگ، وفود کے تبادلے، سرحدی سلامتی کے لئے تعاون، مشترکہ بحری گشت جیسے اہم ترین شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

ایک ایسے موقع پر کہ جب امریکہ سمجھ رہا تھا کہ مشرقی ایشیا میں اسے ایک اور اہم اتحادی مل گیا ہے، ویتنام کے وزیر دفاع کا چین میں جاکر یہ اعلان کرنا کہ چین اور ویتنام کا سٹریٹجک تعاون دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا بنیادی ستون ہے، امریکہ کے لئے بہت بڑا صدمہ ثابت ہوا ہے۔ ویتنامی وزیر دفاع نے یہ کہہ کر امریکہ کی امیدوں پر بالکل ہی پانی پھیر دیا کہ ویتنام ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کو دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات پر ترجیح دیتا ہے اور یہ کہ ویتنام کی ریاست اور افواج غیر ملکی طاقتوں کو اپنی سرزمین پرفوجی اڈے فراہم کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان امریکا کے لئے واضح پیغام ہے کہ چین پر حملے کے لئے اسے ویت نام کی سرزمین دستیاب نہیں ہو گی۔

مزید : بین الاقوامی


loading...