بچوں کو تیسری شادی کرنے والی ماں کے حوالے نہیں کیا جاسکتا:ہائی کورٹ

بچوں کو تیسری شادی کرنے والی ماں کے حوالے نہیں کیا جاسکتا:ہائی کورٹ
بچوں کو تیسری شادی کرنے والی ماں کے حوالے نہیں کیا جاسکتا:ہائی کورٹ

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ حبس بے جا کی درخواست پر بچوں کو تیسری شادی کرنے والی ماں کے حوالے نہیں کیا جاسکتا،جسٹس ارم سجاد گل نے یہ ریمارکس جڑانوالہ کی رہائشی نازش کی پہلے شوہر سے بچوں کی بازیابی کے لئے دائر درخواست نمٹاتے ہوئے دیئے۔درخواست گزارنازش کی طرف سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس نے بچوں کے خرچے کا دعوی کیا تو اس کا سابق خاوند شاہد اقبال3 سالہ حسین اور ڈیڑھ سالہ حسن کو چھین کر لے گیا۔بچوں کے والد شاہد اقبال نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بچوں کی والدہ نے دوسرے شوہر سے بھی طلاق لے کر تیسری شادی کرلی۔بچوں کے والد نے کہا کہ قانون کے تحت بچوں کو کسی اجنبی کے پاس نہیں بھجوایا جا سکتا۔جس پر عدالت نے بچوں کی ماں سے استفسار کیا کہ چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر شادی کیوں کی،عدالت بچوں کے مستقبل کو داﺅ پر نہیں لگا سکتی اگر بچوں کی حوالگی کے حوالے سے اس عدالت نے کوئی فیصلہ کیا تو متعلقہ فورم سے کوئی ریلیف نہیں ملے گا۔عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے قرار دیا کہ یہ حبس بے جا کا نہیں بلکہ بچوں کی تحویل کا کیس ہے اور اس میں دادرسی کے لئے گارڈین کورٹ سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

مزید : لاہور