لو میرج کیس، ہائی کورٹ میدان جنگ بن گیا،عاشق نے مارکھالی دلہن کا ہاتھ نہیں چھوڑا،پولیس نے حفاظتی تحویل میں جوڑے کو رخصت کردیا

لو میرج کیس، ہائی کورٹ میدان جنگ بن گیا،عاشق نے مارکھالی دلہن کا ہاتھ نہیں ...
لو میرج کیس، ہائی کورٹ میدان جنگ بن گیا،عاشق نے مارکھالی دلہن کا ہاتھ نہیں چھوڑا،پولیس نے حفاظتی تحویل میں جوڑے کو رخصت کردیا

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)پسند کی شادی کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ کا احاطہ میدان جنگ بن گیا، لڑکی کو شوہر کے ساتھ بھجوانے کے حکم پر فریقین نے ایک دوسرے پر لاتوں گھونسوں کی بارش کر دی،لاہور ہائیکورٹ کا احاطہ اس وقت میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا جب پسند کی شادی کرنیوالی شائستہ کے والدین نے اپنی بیٹی کو اس کے شوہر علی اصغر سے چھیننے کی کوشش کی اور نوبیاہتا جوڑے پر تشدد شروع کر دیا، اپنی نئی نویلی دلہن کو پٹتا دیکھ کر علی اصغر نے بھی محبت میں جواباً اپنے سسرالی رشتہ داروں پر ہاتھ صاف کئے، شائستہ کے والد محمد عباس اور دیگر رشتہ داروں نے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ اپنی بیٹی کو کسی طرح چھڑا کر لے جائیں تاہم علی اصغر نے بھی اپنی بیوی کی کلائی نہ چھوڑی اور اسے لے کر دوڑ لگا دی، لڑکی کے والدین دوبارہ اپنی بیٹی کو چھڑانے کی کوشش کی جس کے دوران محمد عباس بیہوش ہو کر گر پڑا، شائستہ نے کہا کہ اس نے اپنی مرضی سے علی اصغر کے ساتھ شادی کی ہے اور جسٹس عبدالسمیع خان نے اسے شوہر کے ساتھ بھجوانے کا حکم دیا ہے، صورتحال مزید گھبمیر ہوئی تو ہائیکورٹ کے سکیورٹی عملے میں موقع پر پہنچ کر نوبیاہتا جوڑے کو اپنی حفاظتی تحویل میں لے کر عدالت سے روانہ کیا۔

مزید : لاہور