سعودی خواتین نے زوردار تحریک شروع کردی، عالمی تنظیم بھی ساتھ شامل ہوگئی، مقصد کیا ہے؟ جان کر سعودی عرب میں بڑے بڑوں کی پریشانی کی حد نہ رہی

سعودی خواتین نے زوردار تحریک شروع کردی، عالمی تنظیم بھی ساتھ شامل ہوگئی، ...
سعودی خواتین نے زوردار تحریک شروع کردی، عالمی تنظیم بھی ساتھ شامل ہوگئی، مقصد کیا ہے؟ جان کر سعودی عرب میں بڑے بڑوں کی پریشانی کی حد نہ رہی

  


ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی قوانین میں مرد کو گھر کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے اور اس کی اجازت کے بغیر خاتون ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتی۔اب سعودی خواتین نے مرد کے نگہبان ہونے کے اس قانون کے خلاف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک مہم شروع کر دی ہے۔آئی بی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سعودی خواتین نے اس مہم کے سلسلے میں Together to end male guardianshipکا ہیش ٹیگ شروع کر رکھا ہے جس کے تحت مردوں کے اس برتری کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس مہم کا آغاز ہیومن رائٹس واچ نامی تنظیم نے کیا تھا جس کے بعد ہزاروں سعودی خواتین نے اس میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ اب تک اس ہیش ٹیگ کے تحت انگریزی اور عربی میں 1لاکھ 70ہزار سے زائد ٹویٹس کی جا چکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں خواتین کی زندگی کا مکمل کنٹرول مردوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ شادی سے پہلے والد اور شادی کے بعد شوہر گھر کا سربراہ ہوتا ہے۔ شوہر سے علیحدگی یا طلاق کی صورت میں بھی خاتون ہسپتال سے اپنا اور بچوں کا چیک اپ کروانے و دیگر قانونی و سماجی معاملات میں قدم قدم پر اپنے سابق شوہر کی محتاج ہوتی ہے اور اسے بار بار اپنے سابق شوہر کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اگر والد اور شوہر حیات نہ رہیں تو بصورت دیگر بھائی یا بیٹا گھر کا سربراہ بن جاتا ہے۔

مزید : عرب دنیا


loading...