سعودی عرب نے ایک لاکھ خطیبوں کو تعصبات اور سیاست پر خطبات اور بددعائیں دینے سے روک دیا

سعودی عرب نے ایک لاکھ خطیبوں کو تعصبات اور سیاست پر خطبات اور بددعائیں دینے ...
سعودی عرب نے ایک لاکھ خطیبوں کو تعصبات اور سیاست پر خطبات اور بددعائیں دینے سے روک دیا

  

جدہ (محمد اکرم اسد)سعودی عرب میں ایک لاکھ خطیبوں کو تعصبات اور سیاست پر خطبات اور بددعائیں دینے سے روک دیا گیا۔ پابندی نہ کرنے والوں کے خلاف تادیبی محکمانہ کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی وزارت اسلامی امور و دعوة و رہنمائی نے سعودی مساجد کے ایک لاکھ آئمہ اور خطیبوں کو سیاسی خطبات، تعصبات، بھڑکانے اور گروہ بندی پر اکسانے سے نیز افرادکوو ممالک کےخلاف سخت باتیں کرنے سے خبردار کیا ہے۔ وزارت نے انتباہ دیا ہے کہ جو خطیب کسی فرد یا ملک کے خلاف اشارةً یا کنایتاً یا کھل کر اظہار خیال کرے گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ جریدہ عکاظ نے یہ اطلاع دیتے ہوئے واضح کیا کہ وزارت نے آئمہ اور خطیبوں کو بددعائیں دینے سے بھی منع کردیا گیا ہے اور پابندی توڑنے والوں کو سخت کارروائی کا انتباہ بھی دیا ہے۔ 3 ماہ تک کا معاوضہ روک لیا جائے گا۔ ایک سے زیادہ خلاف ورزی پر برطرف کردیا جائے گا۔ وزارت اسلامی امور نے یہ پابندی بھی عائد کی ہے کہ آئمہ اور خطیب جمعہ کی نماز کے بعد کسی بھی شخص کو تقریر کرنے کی اجازت نہ دیں۔ وزارت نے یاددہانی کرائی ہے کہ کسی بھی غرض سے مساجد میں عطیات جمع کرنا ممنوع ہے۔ وزارت نے ہدایت دی ہے کہ خطبات و وعظ و نصیحت، دینی م سائل کے احکام اور فضائل کے بیان تک محدود رہیں۔ مسنون دعاﺅں کی پابندی کریں، وزارت نے اطمینان دلایا ہے کہ کسی بھی شخص کو تحریر تحقیق کے بعد ہی سزا دی جائے گی، سزا کے فیصلے پر وزیر یا ان کے نائب کے دستخط ہوں گے۔

مزید : عرب دنیا