افغانستان

افغانستان
 افغانستان

  

1747میں افغانستان کی تشکیل سے قبل اس نام کا کوئی ملک دنیا میں موجودنہ تھا، بلکہ موجودہ افغانستان کا علاقہ مختلف سلطنتوں کا حصہ تھا۔ ایرانی ہرات قندھار پر قابض تھے، شمالی افغانستان و سطی ایشیائی امارتوں کے زیر نگیں تھا، جبکہ اس سے کچھ عرصہ قبل تک کابل جلال آباد اور اس سے بھی کچھ عرصہ پہلے قندھار برصغیر کی مغل سلطنت کا حصہ تھا۔ 1747ء میں نادر شاہ قتل ہوگیا اور اس کے خزانے کا بیشتر حصہ لوٹ کر احمد خان نامی اس کا ایک محافظ اپنے آبائی علاقے قندھار لے آیا۔ اس لوٹ کے مال میں کوہ نور ہیرا بھی تھا۔ احمد خان نے اردگرد کے قبائلیوں کو جمع کیا اور انہیں روشن مستقبل کی امید دلائی اور خود بادشاہ بن کر احمد شاہ کا نام اختیارکیا۔ یہی احمد شاہ تاریخ میں احمد شاہ ابدالی یادرانی کے نام سے مشہور ہے۔کابل وقندھار پر اپنا تسلط مضبوط کرکے احمد شاہ نے بمطابق وعدہ اپنی رعایا اور فوجی سرداروں کو خوشحالی عطا کرنے کے لئے پنجاب کا رخ کیا، کیونکہ زمانہ قبل از تاریخ سے ماضی قریب تک ہندوکش سے پار کے قبائلیوں کے لئے خوشحالی حاصل کرنے کا یہی ایک تیر بہدف نسخہ رہا تھا، جسے احمد شاہ نے بھی کامیابی سے استعمال کیا۔

پنجاب اور خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں اپنی انسان دوستی اور رحم دلی کے نشان چھوڑتا احمد شاہ جب ہندوستان پہنچا تو مغل وزیر اعظم نواب قمرالدین کے زیر کمان فوج نے جس میں ولی عہد سلطنت اور نواب صفدر جنگ بھی شامل تھے،اسے شکست دی، مگر احمد شاہ کسی نہ کسی طرح لوٹ کا مال بچالے جانے میں کامیاب رہا۔ اس کے بعد تو مغل سلطنت احمد شاہ کے پے درپے حملوں کی زد میں آگئی اور بالآخر اس نے پشاور سے سرہند تک کا علاقہ بشمول کشمیر اپنی سلطنت میں بزور شامل کرلیا۔ ہمارے مورخین کی اکثریت مغل سلطنت کے زوال کے لئے مرہٹوں، سکھوں اور ہریانہ ویو پی کے جاٹوں کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے، مگر حقائق یہ ہیں کہ مغل سلطنت کے ڈھانچے پر کاری ضرب نادرشاہ کا حملہ اور دہلی میں قتل عام اور احمد شاہ کے حملے تھے، ورنہ اس سے قبل محمد شاہ رنگیلے کا عہد بہت حد تک پُر امن دور تھا،جس میں ساحلی علاقوں میں مغربی سامراجیوں کی کشمکش کے علاوہ وسطی اور شمالی ہندوستان یہاں تک کہ مرہٹہ علاقے میں بھی بہت زیادہ بے چینی دکھائی نہیں دیتی۔ سکھوں نے تو قوت ہی پنجاب کی انتظامی مشینری کے احمد شاہ کے ہاتھوں تباہ ہونے کے بعد حاصل کی۔ حتیٰ کہ 1761ء میں پانی پت کی جنگ کے بعد شاہ ولی اللہ نے احمد شاہ کو لکھا کہ وہ اپنے لشکر کو دہلی میں داخلے سے روکے، مگر مال غنیمت کے طالب مجاہدوں کو ہندومسلم کی کوئی تمیز نہ تھی، یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں یہ کہاوت آج تک مشہور ہے، ’’کھالیا جوماہیے دا باقی احمد شاہیے دا‘‘۔

احمد شاہ نے ایک تاریخی غلطی یہ کی کہ محض لوٹ مار اور لونڈیاں اکٹھی کرنے پر اکتفا کیا۔ کاش وہ تخت دہلی پر ہی قبضہ کرلیتا، جیسا اس سے قبل ماضی کے کئی افغان حملہ آور یہ کام کرچکے تھے۔ شاید برصغیر کی تاریخ میں غلامی ہی لکھی تھی۔ احمد شاہ کے حملوں نے سکھ سلطنت کے قیام کی راہ ہموار کی اور دہلی اور ایران ووسط ایشیا کا راستہ روک کر ان نئے آنے والے جنگجوؤں کی راہ مسدود کردی، جو ہمیشہ سے مغل لشکر کا قابل ذکر حصہ رہے تھے، احمد شاہ کے جانشین بھی برصغیر کے مسلمانوں کی کوئی عملی مدد نہ کرسکے اور سکھ سلطنت نے ان کی لوٹ مار کا راستہ بھی روک دیا، جس کی وجہ سے افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہوگیا اور آج تک اسی حالت میں ہے، اس تاریخی کہانی کو دہرانے کا مقصد صرف یہ کہنا ہے کہ شمال مغرب کے حملہ آور ہماری تاریخ کا رخ متعین کرنے میں ہمیشہ اہم کردارہے ہیں۔ حضرت علامہ اقبالؒ کے خطب�ۂ الٰہ آباد میں شمال مغربی علاقے کے مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کی ایک دلیل یہ بھی تھی کہ اس طرح بقیہ ہندوستان شمال مغرب سے آنے والے حملہ آوروں کے حملے سے محفوظ ہو جائے گا، جبکہ بعد میں انگریز اور کانگریس نے اسی دلیل کو قیام پاکستان کے مخالف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا کہ مجوزہ پاکستان اقتصادی طور پر اتنا مضبوط نہیں ہوگا کہ ایک بڑی فوج کا خرچ اٹھا سکے اور بیرونی حملہ آوروں کا مقابلہ کرسکے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ موجود افغانستان کے علاقے کا ہمیشہ سے بڑا مسئلہ زندگی گزارنے کے وسائل اکٹھا کرنا رہا ہے اور یہ سوچ آج بھی بالکل واضح ہے، جس نے آ کر انوسٹ کیا،اسی کے حق میں تلواریں بے نیام ہو گئیں چاہے یہ انویسٹر بھارت،اسرائیل اور امریکہ ہی کیوں نہ ہوں اور چاہے مجوزہ دشمن پاکستان ہی کیوں نہ ہو، جس نے سالہاسال سے اس بدقسمت خطے کی مدد اور مہمان نوازی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔ کیا ہی بہتر ہو کہ عالمی برادری ٹینک اور توپیں بھیجنے کی بجائے اس بے آب و گیاہ پہاڑی ملک کے لئے کسی مکمل اقتصادی پیکیج کا اعلان کرے۔یہ باور کرنا بہت ضروری ہے کہ اس خطے کا اصل مسئلہ جنگجو فطرت نہیں، بلکہ بھوک ہے۔ پہاڑوں میں پیدا ہونے والے نوجوان کوجب پیٹ بھرنے کو کچھ نہ ملے تووہ کیا کرے گا؟ یہی کہ جس کے پاس ہے، اس سے چھین لے۔ پچھلے ہزاروں سال سے اس خطے کی زندگی کا محور یہی ایک سوچ ہے، اقوام عالم کوچاہیے کہ جنگ سے تباہ اس علاقے کومزید تباہی سے دو چار کرنے اور پاکستان جیسے ملک پر الزام دھرنے کی بجائے افغانستان کے اصل مسئلے کی طرف توجہ دے۔ 11ستمبر کے بعد بنائی جانے والی افغان پالیسی کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا ہے، شاید افغانستان سے بھی زیادہ اور اتنی تباہی وبربادی کے باوجود یہ پالیسی اتنہائی ناکام رہی ہے۔ آج افغان مسئلہ اور زیادہ پیچیدگی اختیارکرگیا ہے۔ یہ ایک ایسا آتش فشاں ہے، جو پھٹنے کی صورت میں ناقابل مثال تباہی کا موجب بن سکتا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اب بھی مناسب رویہ اپنا کر آنے والی تباہی کو روک سکتے ہیں، ورنہ اب افغانستان میں تباہ ہونے کو کچھ باقی نہیں نہیں رہا اور ضروری نہیں کہ ہربار نقصان سامراج مخالف قوموں کا ہی ہو۔ سامراجی بھی اس خطرناک آگ سے اپنا دامن بچا نہیں پائیں گے۔

مزید :

کالم -