گرے لسٹ : معاندانہ رویئے کا موثر جواب دیں

گرے لسٹ : معاندانہ رویئے کا موثر جواب دیں

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ایک وفد نے پچھلے دنوں پاکستان کا دورہ کیا اور یہاں وزیر خزانہ اسد عمر کے علاوہ دیگر متعلقہ اراکین سے بھی ملاقات کی۔ اس وفد نے خصوصی طور پر پاکستان کی طرف سے منی لانڈرنگ کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں تفصیلات حاصل کیں۔ وفد کو نہ صرف معلومات دی گئیں، بلکہ آگاہ کیا گیا کہ پاکستان منی لانڈرنگ کے خلاف مزید سخت اقدامات کر رہا ہے۔ بتایا گیا کہ وفد نے بعض اقدامات پر اطمینان تو ظاہر کیا اور ساتھ ہی کہا کہ ابھی پاکستان کو مزید اقدامات اٹھانا ہوں گے۔چند ماہ پہلے ایف۔ اے۔ ٹی۔ ایف نے اپنے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا، جس کے تحت معینہ مدت تک شکایات دور کرنے کی مہلت دی گئی اور کہا گیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ملک کو بلیک لسٹ کردیا جائے گا۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کی مرکزی راہنما سینیٹر شیری رحمان نے سینیٹ میں ایک توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں دریافت کیا تھا کہ وفد کی آمد اور گرے لسٹ کے حوالے سے معلومات دی جائیں اور ایوان کو اعتماد لیا جائے۔ نوٹس کے جواب میں وزیر خزانہ اسد عمر نے بتایا کہ وفد کا یہ دورہ معمول کا تھا کہ اگر پاکستان گرے لسٹ میں شامل نہ بھی ہوتا تو بھی ایسے دورے ہونا تھے کہ ایف، اے، ٹی، ایف کا مینڈیٹ یہی ہے۔ وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ پاکستان پہلے بھی دو مرتبہ بلیک لسٹ میں شامل ہوا اور پھر نکل آیا، اب ہمارے پاس پندرہ ماہ کا وقت ہے، ہم اس عرصے میں ٹھوس اقدامات کے ذریعے ادارے کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اس گرے لسٹ سے نکل آئیں گے۔ انہوں نے دکھ سے کہا کہ ادارے کے اجلاس میں جب پابندیوں کی بات آئی تو دوست ممالک نے بھی ہماری حمائت نہیں کی تھی۔ وزیر خزانہ کے مطابق حکومت نے اس سلسلے میں نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی بنادی ہے جو ایف، اے، ٹی، ایف کے اعتراضات کی روشنی میں ٹھوس اقدامات کے بارے میں سفارشات دے گی۔ انہوں نے اضافہ کیا کہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ یہاں سے دہشت گردوں کی مبینہ طور پر مالی مدد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا یہ ہمارے خلاف پروپیگنڈہ ہے، ہم بھرپور کوشش کرکے اس کو غلط ثابت کرنے میں کامیاب ہوں گے۔اچھا ہے کہ کمیٹی بنادی گئی ہے، تاہم سوال یہ بھی ہے کہ امریکہ اور بھارت جیسے ممالک مسلسل پاکستان پر ہی دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کا الزام لگاتے ہوئے یہ سب بھول جاتے ہیں کہ پاکستان تو دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ملک کا کردار ادا کررہا ہے،ہزاروں اہلکار اور شہری شہید اور ہزاروں زخمی بھی ہوچکے ہیں، یوں پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے، اس کے باوجود اعتراضات اور الزام بھی لگائے جاتے ہیں حالانکہ پاکستان کی کوشش اور کارروائی کی تعریف بھی ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر ملک کے اندر مزید بہتر اور مثبت اقدامات کا ارادہ ہے اور کئے جارہے ہیں تو بیرونی محاذ پر بھی توجہ دی جائے اور بھارتی و امریکی گٹھ جوڑ والے پروپیگنڈے کا بھی ٹھوس اورمثبت جواب دیا جائے۔

مزید : رائے /اداریہ