کیا صحافت ٹی وی اینکرز تک سکڑ گئی ہے؟

02 ستمبر 2018

نسیم شاہد

وزیراعظم عمران خان نے ٹی وی اینکرز سے ملاقات کی تو اُسے بلاوجہ صحافیوں سے ملاقات کا رنگ دیا گیا۔۔۔کیا صحافت اب ٹی وی اینکرز کا نام بن گئی ہے؟ کیا ایک نوجوان جو ٹی وی اینکر بن جاتا ہے، اُسے صحافت بھی آ جاتی ہے۔

یہ سرشام جو ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز ہوتے ہیں، چند مستثنیات کے سوا،کیا صحافت کے زمرے میںآتے ہیں۔ لگتا ہے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ٹی وی اینکرز کے حالیہ دِنوں میں تابڑ توڑ حملوں کے بعد انہیں رام کرنے کے لئے وزیراعظم عمران خان سے پہلی ملاقات کرا دی،مگر یہ کوئی اچھا رجحان نہیں۔

ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ مُلک کے سینئر اخبار نویسوں،کالم نگاروں اور تجزیہ کاروں کی وزیراعظم کے ساتھ سب سے پہلے ملاقات کرائی جاتی ہے، تاکہ اُن کے تجزیے، بصیرت اور ویژن سے نیا وزیراعظم فائدہ اٹھا سکے،لیکن یہاں گنگا اُلٹی بہا دی گئی ہے۔ فواد چودھری بطور وزیر اطلاعات ابھی تک میچورٹی کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔

حقیقت یہ ہے کہ وہ وزیراعظم کے ویژن کو اتنا نمایاں نہیں کر سکے، جتنا انہوں نے لایعنی ایشوز کو نمایاں کیا ہے۔ مثلاً ہیلی کاپٹر کے بارے میں اُن کی درفنطنی نے حکومت کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔

اب جو ملاقات کرائی گئی ہے، اُس میں پوچھے گئے سوالات کا جو معیار سامنے آیا ہے،وہ اس امر کی غمازی کر رہا ہے کہ سب سطحی سوالات لے کرگئے تھے، یعنی ڈی پی او پاکپتن کی تبدیلی کیسے ہوئی، ہیلی کاپٹر کیوں استعمال کر رہے ہیں، وزراء کو کیسے سنبھالیں گے، ہمارے علاقوں میں ترقیاتی کام کیسے کرائیں گے؟ وغیرہ وغیرہ۔یہ تو اچھا ہوا کہ وزیراعظم عمران خان نے اُن کے سوالات میں اُلجھنے کی بجائے اپنا ایجنڈا اور ویژن بتایا، بالآخر انہیںیہ بھی کہنا پڑا کہ انہیں تین ماہ کا وقت دیا جائے اُس کے بعد پوچھا جائے کہ حکومت کی سمت کیا ہے؟

مَیں ماس کام کے طلبہ و طالبات کو لیکچر دیتے ہوئے اکثر کہتا ہوں کہ الیکٹرانک میڈیا صحافت کا شو پیس ہے۔ بریکنگ نیوز اُس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے اور اسے استعمال کرتے ہوئے وہ اکثر بھٹک جاتا ہے۔

ایک گھنٹہ بعد وہی بریکنگ نیوز کسی اور رنگ میں نمایاں ہو جاتی ہے، جبکہ پرنٹ میڈیا کو یہ سہولت حاصل نہیں۔اُس میں چھپے ہوئے ایک ایک لفظ کی ذمہ داری بھی لی جاتی ہے اور سچائی کا خیال بھی رکھا جاتا ہے۔

ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں گالیاں بھی آن ائر چلی جاتی ہیں اور دست و گریبان ہونے کے مناظر بھی ناظرین دیکھتے ہیں، لیکن پرنٹ میڈیا میں نہ تو غیر شائستہ لفظ چھپ سکتا ہے اور نہ غیر مہذب بات لکھی جا سکتی ہے۔دُنیا الیکٹرانک میڈیا کے حوالے سے کتنی ترقی کر گئی ہے،اس کے باوجود بھی ترقی یافتہ ممالک میں آج بھی پرنٹ میڈیا کو ہی سب سے معتبر ذریعۂ ابلاغ سمجھا جاتا ہے، جو بات ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ یا گارجین میں چھپ جائے، اُس پر آنکھیں بند کر کے یقین کیا جاتا ہے، جبکہ ٹی وی چینلز کی خبر ہمیشہ دیگر ذرائع سے تصدیق کی محتاج ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ اِس لئے کہنا ضروری ہے کہ صحافت کو پاکستان میں چند اینکرز تک محدود کیا جا رہا ہے۔خاص طور پر اطلاعات کے سرکاری محکمے ٹی وی پر چلنے والی خبر پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور اخبارات جو حقیقی معنوں میں عوام کی گراس روٹ لیول تک ترجمانی کرتے ہیں، انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ذہن سازی کا عمل یا رائے عامہ کی تشکیل کے حوالے سے آج بھی اخبارات اُس کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔

انہیں نظر انداز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم معاشرے کی حقیقی آنکھ کو بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ اِسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے وزیر اطلاعات نے شام کے وقت ٹی وی چینلز پر انہیں اپنے پروگرام میں بلانے یا اُن کی حکومت کا تنقیدی باجا بجانے والے اینکرز کو ملوایا، حالانکہ سب سے پہلے ملاقات پاکستان کے سینئر ایڈیٹرز سے کرائی جانی چاہئے تھی،جن کا صحافتی تجربہ برسوں پر محیط ہے اور جنہیں اِس بات کا ادراک ہے کہ مُلک کو کیا مسائل درپیش ہیں اور نئی حکومت کو اُن کے حل کی کیا تدابیر کرنی چاہئیں؟

مجھے علم ہے کہ وزیراطلاعات فواد چودھری کو تو پاکستان کے سینئر ایڈیٹرز کے نام تک نہیںآتے ہوں گے۔وہ تو صرف چند معروف اینکرز کو ہی صحافی سمجھتے ہیں،جن میں کئی ایک تو ایسے ہیں، جنہیں سامنے آئے ایک دو سال بھی نہیں گزرے۔ ٹی وی اینکرز کی وزیراعظم سے ملاقات کے لئے بھی پسند نا پسند کا خیال رکھا گیا، تاثر یہ پھیلا کہ وزارتِ اطلاعات نے وزیراعظم عمران خان سے ایسے اینکرز کی ملاقات کرائی جو اُن کے قریب رہے یا اُن کے حق میں بات کرتے ہیں۔کئی چینلز کو بھی نظر انداز کیا گیا۔

جب اس بارے میں سوال ہوا تو یہ تاویل پیش کی گئی کہ شارٹ لسٹ کی وجہ سے سبھی کو نہیں بلایا جا سکا،انہیں اگلی بار بلایا جائے گا۔مَیں نہیں سمجھتا کہ وزیراعظم عمران خان اس نکتے پر یقین رکھتے ہیں کہ میڈیا میں پسند ناپسند کے خانے بنائے جائیں۔

وہ کبھی میڈیا کی مخالفت سے نہیں گھبرائے،اب تو وہ مُلک کے وزیراعظم ہیں،جب اپوزیشن میں تھے، تب بھی اُن کے روابط سبھی سے تھے۔

فواد چودھری اُن کی اس غیر متنازعہ حیثیت کو متنازعہ بنانے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں؟ انہوں نے جن ٹی وی اینکرز کو بلایا، کیا اُن کا انتخاب اپنی صوابدید پر کیا۔اس طرح تو وہ میڈیا کے ایک حصے کو خواہ مخواہ اپنا مخالف بنانے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔

وزیراعظم کی پریس بریفنگ کو تعصبات اور ذاتی ترجیحات کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ لاہور پاکستان کا دِل ہے اور صحافت کا مرکز بھی ہے۔ ماضی میں ہمیشہ یہ دیکھا گیا کہ جب بھی سربراہِ حکومت پہلی بار لاہور آتے تو اُن کی ایڈیٹرز، کالم نگاروں اور دانشوروں سے ملاقات کرائی گئی۔

اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ نئے وزیراعظم کے خیالات اگلے دن اخبارات کی شہ سرخیوں، اداریوں اور کالموں کے ذریعے عام آدمی تک پہنچ جاتے اور ساتھ ہی وزیراعظم کو بھی علم ہو جاتا ہے کہ اہل فکرو نظر کیا سوچ رہے ہیں،لیکن وزیراعظم عمران خان پہلی بار لاہور آئے تو ایسی کوئی ملاقات نہیں رکھی گئی۔

شاید اسی بات کو کافی سمجھا گیا کہ اسلام آباد میں ٹی وی اینکرز کے ساتھ ملاقات کرا دی گی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات تو اِس حوالے سے نو آموز ہیں، تاہم وزارتِ اطلاعات اور پی آئی ڈی میں بیٹھے ہوئے افسران تو اس روایت کو جانتے ہیں اور اس کی اہمیت کو بھی سمجھتے ہیں،پھر انہوں نے اس کا اہتمام کیوں نہیں کیا؟۔۔۔بات گھوم پھر کر پھر وہیں آ جاتی ہے کہ محکمہ اطلاعات اور وزیر اطلاعات نے صحافت کو چند ٹی وی ینکرز تک محدود کر دیا ہے۔

یہ تو ڈاکٹر عامر لیاقت والی بات ہوئی کہ جو زیادہ شور ڈالتا ہے اُس کی سُنی جاتی ہے۔ ٹی وی اینکرز چونکہ شام کے وقت مخصوص مبصرین کو بُلا کر اپنے طے شدہ ایجنڈے کے مطابق پروگرام کرتے ہیں، وزیراعظم کی تعریف کرنے پر آئیں تو زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں اور اگر برائی کرنی ہو تو آخری حد تک چلے جاتے ہیں۔صاف لگ رہا ہوتا ہے کہ آج وہ کسے گرانا اور کسے چڑھانا چا رہے ہیں۔

اگر حکومت ایسے اینکرز کے پروگراموں کو سامنے رکھ کر روزانہ اپنا ایجنڈا تبدیل کرے گی یا کوئی وزیر اپنی وزارت بچانے کے لئے فیاض الحسن چوہان کی طرح معافیاں مانگے گا تو حکومت کیسے چلے گی؟ وزیراعظم عمران خان کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ وہ ٹی وی اینکرز کی باتوں سے متاثر ہونے والے نہیں،اس کا ثبوت وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے بارے میں اُن کے خیالات ہیں،جن میں انہوں نے اُن کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے، حالانکہ ٹی وی اینکرز تو انہیں گھر بھیجنے کی خواہش رکھتے تھے، مگر سوال یہ ہے کہ وزارتِ اطلاعات کا قبلہ کون درست کرے گا؟ وہ کب غلط فہمی کے اس غبارے سے نکلے گی کہ صحافت چند اینکرز کا نام نہیں،بلکہ مُلک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے اُن لاکھوں صحافیوں کا نام ہے جو مرکز سے لے کر گاؤں کی سطح تک عوام کو خبر دینے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔یہی لوگ ہیں، جو اصل میں رائے عامہ کی نمائندگی کرتے ہیں،انہیں نظر انداز کر کے میڈیا سے اچھے تعلقات کی امید رکھنا دیوانے کا خواب ہے۔

مزیدخبریں