اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 28

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 28

  

اشور ، شمس ، بعل ، نینوا کی اشتر اور نیرگل کے حکم سے میں منائیون کی سر زمین میں داخل ہوا اور اسے فتح کرتا ہوا گذر گیا۔ اس کے تمام چھوٹے بڑے شہر جن کا کوئی شمار نہیں تھا میں نے تباہ و برباد کر دیئے۔ انہیں لوٹ کر آگ لگا دی۔ میں نے ان شہروں میں سے عورتوں اور مردوں، گھوڑوں گدھوں اور بھیڑبکریوں کو ساتھ لیا کیونکہ وہ مال غنیمت تھے۔ احشیری نے میری فوجوں کی فتح کی خبر سنی تو وہ پائے تخت ازرتو کو چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ اس نے جہاں پناہ لی میں نے اسے بھی فتح کر لیا اور پندرہ روز تک کی مسافت کے علاقے کو تباہ کر ڈالا۔ ہر جگہ بربادی پھیلا دی۔ احشیری میری حاکمیت سے خوف زدہ نہ ہوا۔حالانکہ اربیلا کی دیوی اشتار نے اسے بتا دیا تھا کہ میں منائیون کے بادشاہ کو مروا دوں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ احشیریکی لاش شہر کی گلی میں پھینک دی گئی اور وہ وہیں پڑی رہی۔ میں نے اپنی تلوار سے اس کے بھائی، اس کے خاندان اور اس کے باپ کے گھرانے کے سارے افراد کو قتل کر ڈالا۔

اشوری بادشاہ بخت نصر کے عہد میں ہی یہودیوں کو اسیربنا کر بابل لے جایا گیا اور ان کے علماء اور فلاسفر کو بد نام زمانہ چاہ بابل میں پھینک دیا گیا۔ یہ کہانی میں آپ کو آگے چل کر سناؤں گا۔ اس وقت میں بابلی بادشاہ حموربی کے عہد حکومت کا ذکر کروں گا۔ کیونکہ موہنجودڑو کی تباہی کے بعد بابل ہی کی طرف روانہ ہوا تھا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 27پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

جس زمانے میں بابل کے قدیم شہر کے قرب وجوار میں داخل ہوا تو یہ زمانہ پانچ ہزار قبل مسیح کا تھا۔ وہ ایک روز کا فرق ہوگا تو ہوگا۔ بابل زیادہ ترکچی اینٹوں کا شہر تھا۔ پختہ اینٹیں اور پتھر صرف بادشاہ کے محل قلعہ اور مرروخ کے معبد میں ہی استعمال کیا گیا تھا۔یہ شہر بہت بڑا تھا اور اس میں بڑے کشادہ باغ تھے۔ شہر کے وسط میں مینار بابل تھا جو ایک کچی پہاڑی کی طرح اوپر کو اٹھتا چلا گیا تھا۔ اس کے گرد ایک کشادہ سڑک گھومتی ہوئی اوپر تک چلی گئی تھی جہاں معبد تھا۔ اس سڑک پر چار رتھ ساتھ ساتھ دوڑسکتے تھے۔ یہ شہر قدیم مصر کے دارلحکومت تھینز سے زیادہ ترقی یافتہ تھا اور می نے اس شہر کے عالموں سے جب ملاقات کی تو مجھے احساس ہوا کہ لوگ علم کیمیا، علم ہیئت اور ریاضی میں مصریوں سے بہت آگے ہیں۔ حسن اور زینت کے اعتبار سے دنیا کا کوئی شہر بابل کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے دفاع کے انتظامات بھی میں نے دیکھے جو غیر معمولی تھے یعنی شہر کی فصیل دوہری تھی۔ اس شہر کی وسعت کا اندازہ آپ یوں لگا سکتے ہیں کہ اس فصیل کی بیرونی دیوار کا محیط آپ کے ساٹھ میل سے بھی زیادہ تھا اور اس کی چوڑائی سوفٹ تھی اور یہ دیوار ساڑھے تین سو فٹ اونچی تھی۔ اس فصیل میں کانسی اور تانبے کے ایک سو دروازے تھے۔ اندرونی دیوار زیادہ چوڑی نہیں تھی مگر مضبوطی میں بیرونی دیوار کے مقابلے میں کم نہیں تھی۔ شہر کو چار بڑے حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ ایک حصے میں شاہی قلعہ تھا اور دوسرے میں شاہی محل ، تیسرے میں بابل کے دیوتا مرروخ کا معبد اور چوتھے حصے میں مینار بابل تھا۔ چاہ بابل شہر کے ایک دور افتادہ علاقے میں تھا جہاں ان لوگوں کو پھینک دیا جاتا جن کے بارے میں بادشاہ یہ سمجھتا تھا کہ قتل یا ان کی کھال کھنچوا دینے کی سزا ان کے جرم کے مقابلے میں بہت کم حیثیت کی ہے۔ چاہ بابل کی رونگٹے کھڑے کر دینے والی تفصیلات بھی میں آپ کے آگے چل کر بیان کروں گا۔

آپ کے ماڈرن عہد میں آکر جب میں نے قدیم بابل کی کھدائی کے بارے میں دستاویزات پڑھیں تو مجھے معلوم ہوا کہ 1899ء میں جب آپ کے ماہرین آثار قدیمہ نے بابل کے دیوار کو کھود نکالا تو اس کی چوڑائی صرف بائیس فٹ تھی اور اس کا محیط بھی بہت کم تھا۔ ماہرین آثار قدیمہ گڑے مردے کھودتے ہیں مگر بابل کے زندہ لوگوں کی تعمیر کی ہوئی دیوار میں نے خود دیکھا ہے وہ اپنے حجم اور کشادگی میں ویسی ہی تھی جیسی کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔ یہ ماہرین قیاس کے اندھے گھوڑے دوڑاتے ہیں۔ جس دیوار کو انہوں نے بابل کے شہر میں سے کھود کر نکالا تھا وہ شہر کی نہیں بلکہ اندروں شہر سمیریوں کے بنائے ہوئے ایک احاطے کی دیوار تھی۔ بابل شہر کی دہری فصیل کو تو میری آنکھوں کے سامنے ایرانی فوجوں نے زمین کے ساتھ ملا دیا تھا اور اس کے کانسی اور تانبے کے بڑے بڑے دروازے اکھاڑ کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

اب میں اپنے حیرت انگیز سفرنامے کی طرف آتا ہوں جس وقت میں فصیل بابل کے ایک کانسی کے دروازے میں سے گزر کر شہر میں داخل ہوا تو سورج شہر کی عمارتوں اور مینار بابل کے عقب میں غروب ہورہا تھا۔ کچی اینٹوں اور ہموار چھتوں والے مکانوں کے سائے لمبے ہو رہے تھے۔ میں گھوڑے پر سوار سپیرے کے بھیس میں بازاروں میں سے گذررہا تھا۔ دن بھر کے تپش کچھ کم ہوگئی تھی اور بعض لوگوں نے اپنے مکانوں اور دکانوں کے آگے پانی کا چھڑکاؤ کر رکھا تھا۔ ایک مکان کے قریب سے گزرتے ہوئے مجھے عورتوں کے قہقہوں کی آوازسنائی دی۔ آج پانچ ہزار سال کے بعد میںآپ کے شہر کراچی میں ساحل سمندر کے اپنے تنہا مکان میں اپنے سفر نامے کی طلسم ہوش ربا لکھتے ہوئے ان عورتوں کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ کتنی پیاری اور خوبصورت ہوں گے وہ عورتیں! ان کے قہقہوں میں نقرئی گھنٹیوں کی آواز تھی۔ آج ان کی ہڈیوں کی مٹی بھی باقی نہ رہی ہوگی لیکن شاید ان کے قہقہوں کی نقرئی آواز توانائی کے روپ میں کسی دور دراز نظام شمسی کی سمت رواں دواں ہو۔

میں سر شام بابل کے شہر کی سڑکوں پر سے گذرتا ہوا چلا گیا۔ کچھ لوگ اپنی دکانوں کے سائبان سمیٹ رہے تھے۔ عورتیں اور مرد شام کے کھانے کی چیزیں خرید کر اپنے اپنے گھروں کی طرف جا رہے تھے۔ عورتوں کے بال سیاہ اور آنکھوں بڑی بڑی تھیں۔ یہ لوگ موہنجودڑو کے لوگوں کے مقابلے میں تنو مند اور صاف رنگت کے تھ۔ ان کا لباس زیادہ تر ریشمی اورصاف ستھرا تھا۔ عورتوں نے بالوں کو سنوار رکھا تھا اور کانوں میں سفید پھول پروئے ہوتے تھے۔ میں اس شہر کے اجنبی تھا۔ جیسا کہ مصر سے موہنجودڑو میں داخل ہونے کے بعد میرے ساتھ ہوا تھا۔ یہاں میرے حیثیت کا ابھی تک کوئی تعین نہیں کیا گیا تھا۔ میرا خیال تھا کہ یہاں میں کسی ایسی حیثیت اور شناخت کے ساتھ داخل ہوں گا کہ لوگ مجھے کسی راہب ، امیر سوداگر یا کاہن کی حیثیت سے شناخت کے ساتھ داخل ہوں گا کہ لوگ مجھے کسی راہب ، امیر سوداگر یا کاہن کی حیثیت سے پہچان لیں گے مگر کوئی ایسا حادثہ میرے ساتھ ابھی تک نہیں ہوا تھا۔ میں عاطون ہی تھا اور لوگ مجھے سپیرا سمجھ رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ شاید صبھ سو کر اٹھوں تو میری حیثیت بدل چکی ہو۔ کیونکہ موہنجودڑو کی سرائے میں بھی میں صبح سو کر اٹھاتھا تو مندر کا کاہن اعظم بن چکا تھا۔ ویسے میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے ساتھ ایسا ہو اور میری کوئی حیثیت متعین کی جائے۔ میں ایک سیاح کی حیثیت سے ہی ان شہروں کی تہذیب و ثقافت کا مطالعہ کرنا چاہتا تھا۔

میں چلتے چلتے ایک سرائے کے باہر گھوڑے سے اتر گیا۔ میرے پاس صرف سونے کا ایک سکہ تھا جو موہنجودڑو کا تھا۔ یہاں میں نے سرائے کے مالک کے پاس یہ سکہ فروخت کیا اور اس کے عوض بابل کے چند سکے وصول کر لئے۔ پھر ہاتھ منہ دھو کر سرائے کے اندر دالان میں بچھے ہوئے قالین کے فرش پر ایک طرف دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ وہاں کوئی میرا شناسا نہ تھا۔ کچھ شام کا کھانا کھانے کے بعد قہوہ پی رہے تھے۔ کسی نے میری طرف توجہ بھی نہ دی۔ ان کے نزدیک میں کوئی سپیرا تھا جو رات بسر کرنے کارواں سرائے آگیا تھا۔ طاقوں میں مومی شمعیں جل رہی تھیں۔ پھر لوگ باتیں کرتے کرتے وہیں پڑ کر سوگئے۔ میں دیر تک جاگتا رہ اور اپنی محبت کے المناک انجام پر غور کرتا رہا۔ روکاش کی حسین شکل رہ رہ کرمیری آنکھوں میں آجاتی تھی۔ اگرچہ میں نے اس کے قاتل بادشاہ سومر سے روکاش کے قتل کا بدلہ لے لیا تھا لیکن میرے دل پر روکاش کے دردناک انجام کا گہرا اثر تھا۔ سرائے کے ایک ملازم نے آکر سوائے ایک کے باقی ساری شمعیں گل کر دیں۔ اس نے سمیری زبان میں مجھ سے کہا کہ میں بھی سوجاؤں۔

رات زیادہ ہوگئی ہے۔ اس زبان میں آریائی سنسکرت کے لفظ زیادہ تھے۔ میں اندازے سے اس کا مطلب سمجھ گیا۔ میں قالین پر لیت کر آنکھیں بند کر لیں۔ مجھے نیند کی حاجت نہیں تھی لیکن میں کچھ دیر کے لئے سوجانا چاہتا تھا۔ کوینکہ روکاش کا خیال میرے احساسات کو کچوکے لگا رہا تھا۔ میں نے نیند کا تصور ذہن میں جمایا اور پھر مجھ پر غنودگی طارہ ہونے لگی اور میں سوگیا۔ جب آنکھ کھلی تو دن نکل آیا تھا اور طاق سے صبح کی سفید روشنی دالان پر پڑ رہی تھی۔ میں اٹھا اور سرائے پرآگیا۔ میرا ارادہ شہر بابل کی گلیوں کی سیر کا تھا۔

میں نے اپنا گھوڑا وہیں سرائے میں چھوڑا اور قدیم بابل کے پر اسرار گلی کوچوں میں نکل آیا۔ میں نے سب سے پہلی تبدیلی محسوس کی کہ پہلے روز کے برعکس لوگ اب مجھے غور سے دیکھ رہے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ قدرت کی طرف سے یا اس غیبی طاقت کی جانب سے جس نے مجھے دنیا میں شاید ہمیشہ کی زندگی دی ہے۔ یہاں میری کسی نہ کسی حیثیت کا تعین ہو چکا ہے اور یہ لوگ مجھے پہچاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں محتاط ہو کر چلنے لگا۔ ایک سانولے رنگ کا سفید بالوں والا میرا راستہ کاٹ کا رتیزی سے میرے سامنے آگیا اور میرے کاندھے پر جھک کر بولا۔

سفید بالوں والا آدمی اتنا کہہ کر چلا گیا۔ میں وہاں دم بخود کھڑا سوچنے لگا کہ یہ کیا کہہ گیا ہے مجھے ؟ یقیناًمیری یہاں ایک حیثیت کا تعین ہوگیا تھا مگر اس بار معاملہ خطرناک تھا۔ پہلی دفعہ موہنجودڑو میں جب میں کاہن اعظم کے روپ میں نمودار ہوا تھا تو میری نفسیات میں بھی تبدیلی آگئی تھی اور مجھے سب باتیں ایک کاہن اعظم کی حیثیت سے یاد آگئی تھیں لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا تھا۔ کسی خطرناک انسان کے روپ میں ظاہر ہوچکا تھا۔ مگر مجھے اپنی اس نئی حیثیت کے بارے میں نہ تو کچھ یاد آرہا تھا اور نہ میں اس سے آگاہ تھا۔ میں دوسری گلی میں گھوم گیا۔ جوں ہی میں ایک حویلی کے قریب پہنچا تو ایک نوجوان لپک کر میری طرف آیا اور مجھے کھینچتا ہوا حویلی کے اندر لے گیا اور دروازہ بند کر دیا۔ میں اس گستاخی پر اسے اٹھا کر فرش پر پٹخنے ہی والا تھا کہ اس نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا۔

’’ عاطون بھائی ! رب مرروخ تم پر اور ہمارے ماں باپ پر رحم کرے۔ آج ان بوڑھوں کی زندگیوں کا آخری دن ہے جنہوں نے ہمیں پال پوس کر جوان کیا۔ تم میرے بڑے بھائی ہو۔ میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ بادشاہ کے سپاہی تمہیں گرفتار کر کے ہلاک کرنے کے لئے لے جائیں لیکن میں اپنے بوڑھے ماں باپ کو آنکھیں نکلوا کر مینار بابل سے گرائے جاتے کیسے دیکھ سکوں گا؟‘‘

اور وہ ساری رنگت والا نوجوان پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ پھر اس کی زبانی مجھے کچھ معلوم ہوا۔ اس نے شہر بابل میں میری حیثیت ظاہر کردی۔ میرا نام عاطون ہی تھا لیکن وہاں میں شمالی حبشہ کے شہر ملا کا کے ایک بوڑھے رتھ بان کے بڑے بیٹے کی حیثیت سے نمودار ہوا تھا۔ میں حموربی کے شاہی محل میں ایک کفش بردار تھا اور میری حیثیت ایک غلام کی سی تھی لیکن یہاں بھی میرا عاشقانہ مزاج رنگ لایا تھا اور میں خدا جانے کس عالم میں حموربی کی بھانجی شہزادی اسمارا کی خواب گاہ میں جاگھسا تھا اور شہزادی سے اظہار محبت کر بیٹھا تھا۔ خواجہ سرا تلواریں سونت کر مجھے قتل کرنے کو بڑھے تو میں کھڑکی میں سے کود کر فرار ہوگیا تھا۔ بادشاہ حموربی نے میری بوڑھے ماں باپ کو گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا تھا اور اعلان کروا دیا تھا کہ اگر دس روز کے اندر اندر کفش بردار عاطون نے اپنے آپ کو شاہی دربار کے حوالے نہ کیا تو میرے بوڑھے ماں باپ کی آنکھیں نکلوا کر انہیں مینار بابل سے نیچے پھینک دیا جائے گا اور جس روز میں بابل کی ایک گلی میں اپنے مکان کے آگے سے گذر رہا تھا تو میرے ماں باپ کی موت کے عوض مجھے دی گئی۔ مہلت کا آخری دن تھا۔ پہلے تو یہ کہانی سن کر میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا پھر سوچا کہ اگرچہ یہ نوجوان میرا بھائی نہیں ہے اور میرے دل میں اس کے لئے خون کا جوش نہیں ہے پھر بھی یہاں دو بوڑھے انسانوں کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ مجھے خود کو بادشاہ کے سامنے پیش کر دینا چاہیے میرا کیا بگڑے گا۔ وہ مجھے ہلاک نہیں کر سکے گا اور نہ میں مر سکوں گا لیکن دو عمر رسیدہ بے گناہ انسانوں کی جانیں بچ جائیں گی۔

(جاری ہے... اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار