A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر60

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر60

Sep 02, 2018 | 12:17:PM

ادریس آزاد

’’سنہری سینگ‘‘

’’مقدس باپ! آپ کی قلیل وقت کے لیے اس رفاقت کو میں اپنے لیے سعادت سمجھتا ہوں۔ میں گزشتہ پچیس سال سے اسی مقام پر کشتی رانی کررہا ہوں........اور زندگی میں بڑے بڑے راہبوں کی باتیں سنیں ہیں۔ لیکن آ پ کے ساتھ کیا گیا یہ سفر مجھے عمر بھر یاد رہے گا۔‘‘

یہ اس بوڑھے ملاح کی آواز تھی جو ’’قاسم بن ہشام‘‘ کو لے کر ’’آبنائے باسفورس‘‘کے یورپی ساحل کی جانب جا رہا تھا ۔ قاسم آج کئی روز سے سفر میں تھا ۔ وہ سلطان بایزید یلدرم کے بنائے ہوئے ’’اناضول حصار ‘‘ کے بالکل سامنے آبنائے باسفورس کے یورپی ساحل کی جانب بڑھ رہا تھا ۔اس نے عیسائی راہبوں کا لباس پہن رکھاتھا ۔ اور گلے میں صلیب کے علاوہ عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ بھی ..........ایک سنہری زنجیر کے ساتھ لٹکا رکھی تھی۔ اس کے سر پر پادریوں والی ٹوپی اور بدن پر بھاری بھرکم جُبہ تھا ۔

قاسم ایک ماہر جاسوس تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے انتہائی کامیابی کے ساتھ یہ حلیہ اختیار کر رکھا تھا ۔ لیکن ایک حیرت کی بات تھی کہ قاسم نے مغربی یورپ کے پادریوں جیسا لباس پہن رکھا تھا ۔ جو رومن کیتھولک مذہب کے ساتھ وابستہ تھے۔ اور جن کا مرکزی کلیسا روم کے شہر میں پاپائے روم کے ماتحت چلتا تھا۔ رومن کیتھولک مذہب عیسائیوں کے ’’لاطینی‘‘ فرقے کا مذہب تھا ۔ اور یہ فرقہ مغربی یورپ کے علاوہ’’ اہلِ ہنگری‘‘ اور’’ کوہِ بلقان ‘‘کے بعض باشندوں پر مشتمل تھا ۔ اس کے برعکس۔ عیسائیوں کا قدیم فرقہ ’’دی ہولی آرتھوڈکس‘‘ چرچ تھا ۔ جس کا مرکزی شہر’’ قسطنطنیہ ‘‘تھا ۔ اور جو عیسائیت کا یونانی فرقہ سمجھا جاتا تھا ۔ اس وقت تک ’’پروٹسٹنٹ ‘‘فرقہ پیدا نہ ہواتھا ۔ اور پروٹسٹنٹ فرقے کے بانی جرمن’’مارٹن لوتھر‘‘ کے ’’ایزلبن‘‘ میں پیدا ہونے میں ابھی 30سال باقی تھے۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر59پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’آبنائے باسفورس‘‘ جس میں اس وقت قاسم کی کشتی نیلگوں پانیوں پر رواں دواں تھی۔ اٹھارہ میل لمبی ایک سمندری پٹی کا نام تھی۔ اس آبنائے کے شمالی سرے پر ’’بحرِ اسود ‘‘ (Black Sea) اور جنوبی سرے پر ’’بحرِ مارمورا‘‘ واقع ہے۔ اس کے مشرقی سرے پر ’’ایشیا‘‘ اور مغربی سرے پر ’’یورپ‘‘ ..........دوعظیم براعظم واقع ہیں۔ دونوں براعظموں کے درمیان آبنائے باسفورس کی چوڑائی سب سے زیادہ بحرِ مارمورا کی طرف سے ہے۔ جہاں اس کا پاٹ پونے تین میل ہے۔ اور سب سے کم چوڑائی بحرِ اسود کے رخ پر ہے۔جہاں اس کا پاٹ کل آٹھ سو گز رہ گیا ہے۔ اس کی گہرائی مختلف جگہوں پر چالیس سے لے کر بتیس گز تک ہے۔

قاسم نے بہت تھوڑے وقت میں ملاح سے بہت زیادہ معلومات حاصل کرلیں۔ وہ کشتی میں بیٹھا ’’آبنائے باسفورس‘‘ کے اندر عثمانی فارس کے ہیبت ناک حکمران ’’کسریٰ‘‘ کی وہ بے پناہ فوج خیمہ زن نظر آئی۔ جس نے قیصر روم کو مسلسل شکستیں دے کر ۔ قسطنطنیہ میں محصور کردیا تھا ۔ لیکن پھر قرآن حکیم کی وہ حیرت انگیز پیشنگوئی پوری ہوئی........کہ رومی عنقریب مغلوب ہونے کے بعد غالب آجائیں گے۔ اور پھر ’’کسریٰ ‘‘ کی فوجوں کو یہاں سے بھاگنا پڑا ۔ اسے دور .........بہت دور کسی شہر کے چھوٹے چھوٹے نشانات نظر آئے ۔ تو اس نے ملاح سے پوچھا:۔

’’وہ دیکھیے! .........وہ کیا ہے؟.......لگتا ہے یہاں سے چار پانچ میل پر کوئی شہر ہے۔‘‘

’’جی ہاں !..........یہی تو قسطنطنیہ ‘‘ ہے ۔ جہاں آپ جارہے ہیں..........یہی شہر تو ہے جس کی وجہ سے ’’خداوندِ یسوع مسیح‘‘ کا دین زندہ ہے..........خداوند اسے ہر بلا سے محفوظ رکھے۔ آپ تو ’’رومہ‘‘ کے پادری ہیں۔ ہمارے چرچ کو تو آپ نہیں مانتے..........ہے نا؟؟‘‘

بوڑھا ملاح بھی دونوں عیسائی فرقوں کے بارے میں جانتا تھا ۔

’’نہیں !ایسی کوئی بات نہیں۔ ..میں بھی دعا کرتا ہوں کہ خداوند اس شہر کو محفوظ ہاتھوں میں دے دے۔‘‘

قاسم کی بات سن کر ملاح چونک اٹھا۔ اور کسی انجانے خطرے سے اس کا چہرہ زرد ہونے لگا۔

’’یہ آپ کیا رہے ہیں؟ محفوظ ہاتھوں میں دے دینے کی دعا تو شہنشاہ کے حق میں نہیں ہے۔ کیونکہ سب جانتے ہیں ہمارے قیصر کے ہاتھ محفوظ نہیں ۔ ’’سنا ہے! مسلمانوں کا نیا سلطان قسطنطنیہ پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔‘‘

ملاح کی بات سے قاسم کا کلیجہ کانپ گیا ۔ اسے ایک دم اپنی حیثیت یاد آئی۔وہ ایک جاسوس ہے۔ اور وہ سنبھل کر بیٹھ گیا ۔لیکن اسے حیرت تھی کہ سلطانی حملہ کی خبر اس قدر پیش از وقت یہاں کیسے پہنچ گئی تھی۔ اس نے ملاح کو مزید ٹٹولنے کے لیے کہا:۔

’’لیکن یہ خبر تو بڑی خطرناک ہے..........سنا ہے! مسلمانوں کا نیا سلطان بڑا جنگجو اور بہادر ہے۔‘‘

’’جی ہاں !........اس نے یہاں سامنے ہی قسطنطنیہ سے پانچ میل جنوب کی جانب ایک عظیم الشان قلعہ تعمیر کرنا شروع کردیا ہے۔ آج کل تو ہماری آبنائے میں سے یورپی جہاز گزرتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے کوئی خطرناک جنگ ہونے والی ہے۔ دیکھیے مقدس باپ !! کس قدر خون خرابا ہوگا ۔ دونوں طرف کے انسان مریں گے۔ حالانکہ یسوع مسیح امن اور محبت کے پیغامبر تھے۔‘‘

بوڑھے ملاح نے حسرت بھری آواز میں کہا۔ قاسم کو ایسے لگا جیسے ملاح اپنے مذہب سے بیزار ہو۔ یا پھر اپنے مذہبی پیشواؤں سے ۔ کچھ دیر بعد قاسم نے ملاح سے سوال کیا۔

’’تو پھر کیا سلطانی حملے کے خلاف شہنشاہ نے بھی کوئی تدبیر سوچ رکھی ہے؟‘‘

’’شہنشاہ کیا تدبیر سوچے گا۔ قسطنطنیہ میں کوئی ایسا شخص ہی نہیں رہا۔ جو بچاؤ کی کوئی تدبیر سوچ سکے۔ لوگ کہتے ہیں قیصر نے خود نئے سلطان کو چھیڑا ہے........میں پوچھتا ہوں کیا ضرورت تھی ایسا کرنے کی؟‘‘

بوڑھا ملاح چڑچڑا بھی ہورہا تھا ۔ لیکن اسے کچھ خاص معلوم ہی نہ تھا ۔ قاسم کے لیے یہ سفر بہت دلچسپ رہا ۔ آبنائے میں اکا دکا کشتیاں اور بھی رواں دواں تھیں۔ وہ پھر تصورات کی دنیا میں بہنے لگا۔ اسے ’’قسطنطنیہ ‘‘ کی دیواروں پر عثمانی توپوں کے گولے برستے دکھائے دیے۔ اور ’’خلیجِ طرابیہ‘‘ کے کنارے عربی نسل کے گھورے دوڑتے ہوئے نظر آئے۔ کچھ ہی دیر بعد کشتی ساحل سے آلگی ۔وہ اپنے سینے میں بہت عجیب احساس لے کر قسطنطنیہ کی سر زمین پر اترا ۔ ساحل پر اور بھی کئی کشتیاں اپنے مسافروں کے انتظار میں ہچکولے کھارہی تھیں۔

قاسم کو محسوس ہوا کہ مچھیروں کی کوئی بستی تھی جو ساحل پر اترتے ہی اس کی نگاہوں کے سامنے انجیر کے درختوں کے درمیان پھیلی ہوئی تھی۔ موسم ابھی تک سرد تھا۔ اور سمندر کی لہریں ابھی تک گذشتہ سردیوں کا تصور کرکے بری طرح کپکپارہی تھیں۔ سرسبز و شاداب پہاڑوں کی وجہ سے ’’خلیج طرابیہ ‘‘ کا پورا علاقہ سرد تھا ۔ یہاں گرمی تھوڑے وقت کے لیے اور کم پڑتی تھی۔ یہ دوپہر کے قریب رہا ہوگا۔ جب قاسم ’’باسفورس ‘‘ کے یورپی ساحل پر مچھیروں کی بستی کے قریب اترا ۔ اسے مچھیروں کے بچے ’’باسفورس‘‘ کے ساحل پر لپکتے نظر آئے۔ اب اس کے بائیں طرف تین میل کے فاصلے پر قسطنطنیہ کا شہر تھا ۔ اور دائیں طرف ’’بحرِ اسود‘‘ کی طرف جاتا ہوا ’’باسفورس ‘‘ کا طویل ویران کنارہ ، اس نے باسفورس کے یورپی ساحل پر کھڑے ہوکر ایشیائی کنارے پر نگاہ ڈالی تو اسے ’’بایزید یلدرم ‘‘ کا بنایا ہوا ’’اناضول حصار‘‘ صاف دکھائی دیا ۔ اسے معلوم تھا کہ اس حصار کے بالکل سامنے اسی کنارے پر جہاں وہ اس وقت کھڑا تھا ، ’’سلطان محمد خان‘‘ ایک قلعہ تعمیر کرنا چاہتا تھا ۔

اس نے اپنے ساحل سے چاروں طرف نظر دوڑائی تاکہ اسے نئے قلعے کی تعمیر کے آثار نظر آئیں۔ لیکن پھر اسے اندازہ ہوا کہ غالباً وہ ابھی قلعہ کی متعین کردہ جگہ سے بہت دور ہے۔ حقیقت میں ’’سلطان محمد خان‘‘ کا یہاں قلعہ بنانا بہت بڑی جرأت کا کام تھا ۔ کیونکہ یہ دشمن کا علاقہ تھا ۔ اور خصوصاً اس علاقے میں جہاں وہ اس وقت کھڑا تھا یونانی سپاہیوں کا قبضہ تھا ۔ یہ سپاہی اگر چہ قسطنطین کے ماتحت تھے لیکن اپنی عادات و اطوار کے لحاظ سے بدتمیز اور ہتھ چھٹ واقع ہوئے تھے۔ قاسم اگر یہاں سے قسطنطنیہ جانا چاہتا تو اسے شمال کی طرف تین میل کا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا ۔ لیکن پھر بھی وہ قسطنطنیہ اس لیے نہ پہنچ سکتا کہ اسی جانب سے قسطنطنیہ کی فصیل کے ساتھ متصل ’’آبنائے باسفورس ‘‘ کی ایک اور شاخ نکلتی چلی گئی تھی۔ یہ ایک پتلی اور لمبی سمندری پانی کی شاخ ہے۔ جسے ایک چھوٹی سی مستطیل خلیج بھی کہا جاسکتا ہے۔ جو ’’باسفورس‘‘ سے مغربی سمت خشکی کی طرف نکل آتی ہے۔ اور اس کی شکل سینگ سے مشابہہ ہے۔ کسی نے قسطنطنیہ کی فصیل سے طلوع آفتاب کے وقت اسے دیکھا تو سورج کی کرنوں کی وجہ سے اسے پانی کا رنگ سنہرا نظر�آیا۔ تب سے اسے ’’سنہراسینگ‘‘ کہا جانے لگا۔ یعنی ’’گولڈن ہارن‘‘ ۔ فارسی بولنے والوں نے اسے ’’شاخِ زریں‘‘ کا نام دیا ۔ یہ شہر کی جنوبی فصیل کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی کافی پیچھے کی طرف چلی گئی تھی۔ اس طرح یہ مثلث شہر اپنی دواطراف سے سمندر میں گھرا ہوا تھا ۔ تیسری اور اکلوتی سمت خشکی کی جانب تھی۔ لیکن اس طرف تہہ در تہہ فصیل بنی ہوئی تھی۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں