تیرہ سالہ لڑکے سے جنسی زیادتی کرنے والی جنّ زادی ،پیر صاحب نے اسے پکڑا تو اس نے ایسا انکشاف کردیا کہ سن کر ہی کم سن لڑکوں کے والدین سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے

تیرہ سالہ لڑکے سے جنسی زیادتی کرنے والی جنّ زادی ،پیر صاحب نے اسے پکڑا تو اس ...
تیرہ سالہ لڑکے سے جنسی زیادتی کرنے والی جنّ زادی ،پیر صاحب نے اسے پکڑا تو اس نے ایسا انکشاف کردیا کہ سن کر ہی کم سن لڑکوں کے والدین سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سنتے آئے ہیں اور پڑھا بھی بہت ہے کہ جب لڑ کوں میں بلوغت کے آثار نظر آنے لگتے ہیں تو انکی کڑی نگرانی رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ بُرے دوستوں کی کمپنی میں بیٹھتے ہوں یاپھر وہ موجودہ دور کی انٹرنیٹ خرافات اور فیس بک وغیرہ کے شوقین ہوں تو ان میں جنسی گمراہی پیدا ہوجاتی ہے ۔وہ پھر ایسی لت میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ان کی جوانی پر داغ لگ جاتا ہے لیکن یہ کیس دیکھ کر میں تو بھونچکا رہ گیا ۔ماں باپ کی آنکھ کا تارا اور انتہائی تابعدار لائق فائق بچہ بھی جنسی طور پر تباہی کے گڑھے میں گرچکا تھا حالانکہ وہ ابھی پورا بالغ بھی نہیں ہوا تھا ....نہ اسے انٹرنیٹ تک رسائی تھی نہ ہی کوئی دوست ایسا تھا کہ جس کے ساتھ وہ وقت گزارتا ۔پانچ وقت کا نمازی آٹھویں جماعت کا بچہ بالکل ابنارمل  ہوکر رہ گیا تھا ۔

آج حضر ت پیر مفتی عابد حسین رضوی صاحب نے مجھے یاد فرمایا تو میں انکی قدم بوسی کے لئے حاضرہوا ۔دیکھا کہ حجرہ مردو حضرات سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے ۔ہر کوئی اپنے مسائل کی تصویر چہرے پر سجائے بیٹھا تھا ۔ یاسیت ،خوف لاچارگی کے شکار ان مردو زن میں کوئی نظر بد کا شکار تھا ،کسی کی سسرال چنگیز خان بنی ہوئی تھی،کوئی آسیبی اور جناتی مرض سے جسمانی عارضوں میں مبتلا ہوچلا تھا ،کسی کا کاروبار ٹھپ ہو گیا تھا ۔کسی کی شادی نہیں ہورہی تھی اور بندش کا دکھ اسے پیر صاحب سے دعا تعویذ اور استخارے کے لئے یہاں لانے پر مجبور کئے ہوئے تھا ۔

اس وقت پیر صاحب کے پاس پلنگ پر ایک تیرہ ساڑھے تیرہ سالہ بچہ لڑکا بیٹھا تھا ۔اسکے سامنے اسکا والد کرسی پر اور والدہ پچھلی جانب بیٹھی ان کی باتیں سن رہی تھی ۔پیر صاحب نے بچے کی کلائی تھام رکھی تھی اور اس پر آیات پاک کا دم کرکے میری جانب دیکھا ۔ پھر مجھے بھی اپنے ساتھ پلنگ پر ہی پہلو میں بیٹھا لیا ۔

”اس بچے کو دیکھیں “ اس وقت پیر صاحب نے مجھے مخاطب کیا ” اس پر ایک جن زادی عاشق ہوگئی ہے اور اس کے ساتھ جبراً جنسی زیادتی کرتی ہے “ بچے کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑے تھے ۔چہرہ پر مردنی چھائی ہوئی تھی ” ابھی یہ فُل بالغ نہیں۔کچے پھل کی طرح ہے ۔اسکو جنسی میلانات کا زیادہ ادراک نہیں ہے لیکن اس حرام زادی نے اس شریف اور معصوم بچے کو گمراہ کردیا ہے “

مجھے پیر صاحب کے علم وتحقیق پر کوئی شک نہیں تھا ۔وہ عالم دین اور فقیہہ و طبیب بھی ہیں ،میں نے پھر بھی جسارت کی اور سرگوشی کی ” گمراہی کی عمر بھی تو یہی ہے سرکار “

” بلاشبہ یہی عمر گمراہی کی ہے لیکن جن بچوں کی تربیت پر ماں باپ نظر رکھتے اور والدین بچوں کے ساتھ د وستانہ رویہ رکھتے ہیں ان بچوں کے معمولات ان سے چھپے نہیں رہ سکتے ہیں۔اسکا نام ارسلان ہے ۔میں نے اسکی ساری باتیں سنی ہیں ۔اور پھر استخارہ بھی کیا ہے اور اس جن زادی کو بھی دیکھا ہے ۔وہ خود ابھی تازہ تازہ بالغ ہوئی ہے ۔گمراہ ہے ۔اسکا دل ارسلان پر آگیا ہے ۔روزانہ اسکے بستر پر آجاتی ہے ۔ایک دو بار اسکے والد نے پاس سونے کی کوشش کی تو اس نے اٹھا کر اسکو نیچے پھینک دیا ۔جب اس نے ارسلان کے باپ ....“ پیر صاحب نے اسکے والد کی جانب اشارہ کیا ” ان سے خود پوچھ لیں،یہ سرکاری افسر ہیں ،اسلام آباد سے آئے ہیں ۔انکو کیا پڑی ہے ایسی وہم پرستی میں پڑنے کی لیکن انہوں نے خود یہ منظر دیکھا ہے ۔ اس لئے مجھ تک پہنچے ہیں ۔جن زادی غیر مسلم ہے ،میں نے اسکو سمجھایا ہے ،کہ ہے کہ شرافت سے باز آجائے اور مسلمان بچے کو گمراہ نہ کرے ۔آگے سے کہتی ہے کہ مسلمانوں کے بچے گمراہ کرنا اسکا فرض ہے۔شیطان اور جنات ایک ہی نسل ہیں ،ان میں کوئی تفریق نہیں ۔جو جنات مسلمان ہوتے ہیں ہم انہیں شیطان نہیں کہتے ۔تاہم ان کی جدّ ایک ہے۔ابلیس بھی بھی تو جنّ تھا لیکن ناخلف ہوا تو راندہ درگاہ ہوکر ابلیس کہلایا۔ یہ جنّ زادی شیطان ہی ہے اور شیطانی قوت کو انسان کے خون میں شامل ہونے کا وصف حاصل ہے ۔قرآن و سنت سے یہ ثابت شدہ بات ہے ۔ ارسلان کے والدین نے بتایا ہے کہ اس نے کبھی انکے ساتھ بدتمیزی نہیں کی تھی مگر اب بہت زیادہ غصہ بھی کرتا اور زبان چلاتا ہے ۔پڑھائی سے اسکا دل اٹھ گیا ہے ۔حقیقت یہی ہے کہ جنّ شیطان انسانی خون میں اتر جائے اور انسان کو مَس کرتارہے تو اس انسان کے عقلی اور نفسی عضلات کمزور ہوجاتے ہیں ۔“

” پیر صاحب یہ کہتی ہے کہ ارسلان کی زندگی میں اب چھ ماہ باقی ہےں “ارسلان کی ماں دلگیر انداز میں بولی ۔

” یہ کون ہوتی ہے زندگی اور موت کا فیصلہ سنانے والی “ پیر صاحب نے انہیں تسلی دی ” البتہ یہ بات اپنی جگہ موجود ہے کہ جب کوئی کسی مہلک مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو اسکی توانائی کم ہوتی چلی جاتی ہے جیسا کہ ارسلان کے ساتھ ہورہا ہے ۔یہ کچا پھل ہے جو یہ حرام زادی کھارہی ہے ،ظاہر ہے ان حالات میں اس میں توانائی کا رس پیدا نہ ہوگا ،علاج نہ کرنے کی صورت میں یہ ہلاکت میں پڑ جائے گا یا نفسیاتی مریض بن کر رہ جائے گا ۔“

”اسکا علاج کیا ہے ؟“ میں نے دریافت کیا ہے ۔

” ایک تو ارسلان کے لئے تعویذ دے دئے ہیں کیونکہ اس نے خرابی کافی پیدا کی ہے ۔دوسرا اسکے والدین کو سمجھایا ہے کہ جب ارسلان واش روم میں جائے تو اسکے دروازہ کی کنڈی نہ لگائی جائے ، جب نہانے کی غرض سے جائے والد ساتھ اسکو نہلائے ،واش روم ٹوائلٹ میں اسکو زیادہ دیر نہ رکنے دیا جائے کیونکہ ان جگہوں پر وہ زیادہ حملہ کرتی ہے ۔دوسرا اسکو اکیلے کمرے میں نہ سونے دیا جائے ۔میں نے اسکے پلنگ کا حصار کردیا ہے اس لئے وہ کبھی اسکے پلنگ پر پہنچ کر اسکے ساتھ سو نہیں سکے گی ۔انسانی احتیاط کے ساتھ ساتھ روحانی علاج کیا گیا تو انشا اللہ اس بچے کو تباہ ہونے سے بچانے میں اللہ کے حکم سے کامیابی ہوگی “

یہ کہانی سن کر میں ایک بار تو فکر میں پڑگیا ہوں کہ کیا جب کوئی بچہ گمراہ ہوتا ہے یا اسکا مزاج برہم رہنے لگتا ہے تو یہ جسمانی بیماری کی بجائے غیر انسانی مداخلت کا بھی نتیجہ ہوسکتی ہے ۔اس پر نفسیات کے اداروں کو بھر پور مطالعہ کرنا چاہئے ۔ایسے مریضوں کی کہانیوں پر امریکہ یورپ میں تحقیق کی جاتی اور پھر ان کا بھی روحانی علاج کیا جاتا ہے ،ہم لوگ ایسے کسی مسئلہ کو فی الفور واہمہ وغیرہ کہہ کر ردکردیتے ہیں۔حالانکہ اس کی تحقیق کرنے میں کوئی حرج نہیں ،کیونکہ یہ بچوں کی صحت کا معاملہ ہے ۔(systemtoday14@gmail.com)

مزید : مافوق الفطرت