مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی ۔۔۔قسط نمبر 13

مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی ۔۔۔قسط نمبر 13
مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی ۔۔۔قسط نمبر 13

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس روز حمید بھائی اور محمد رفیع دنوں بن ٹھن کر لکھنو پہنچے اور وہ عدالت تلاش کرلی جہاں سے انکو وقت کے عظیم موسیقار کے نام سفارشی رقعہ مل سکتا تھا ۔یہ تو ان کی قمست اچھی تھی کہ انہیں نوشاد علی تک ٹھوس رسائی کا نسخہ مل گیا تھا اور یہ طریقہ تھا ان کے والد کی وساطت سے ان تک پہنچنا۔یہ بھی کار دشوار تھا کیونکہ یہ بات سبھی جانتے تھے کہ نوشاد احمد کے والد ان سے نہ صرف ناراض تھے بلکہ انہوں نے اپنے بیٹے کے موسیقی کے جنون کو ختم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔یہ ان کی عزت اور غیرت پر دھبہ تھا کہ واحدعلی کا بیٹا نوشاد علی موسیقی سے جڑ کر ان کی بدنامی کا باعث بنتا۔حمید بھائی اور محمد رفیع نے یہ مشکل کام کرنے کا فیصلہ انتہائی عقل مندی سے کیا تھا ۔انہیں علم ہوچکا تھا کہ نوشاد ایک نوجوان کو آزمائشی طور پر آسانی سے چانس نہیں دیں گے اور اسطرح انکی منتیں سماجتیں کرتے ہوئے کافی وقت بیت جاتا اور یہ وقت ہی تو ان کے پاس نہیں تھا ۔انہیں ایک سازندے نے راز داری سے بتادیا تھا کہ نوشاد علی اگر کسی کی سنیں گے تو وہ ان کے والد ہی ہوسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے اب تک تو بیٹے کو ایک بار بھی نہیں بلایا نہ سفارش کی ہے ،اس لئے اگر ان کے والد سفارش کردیں تو پھر نوشاد علی کے لئے ٹالنا مشکل ہوگا ۔

نوشاد علی کے والد عدالت میں منشی تھے ۔غربت اور افلاس میں پورے کنبہ کا خرچہ وہ اپنی تنخواہ سے پورا کرتے اور بیٹے کی کمائی کا ایک ٹکا بھی لینا گناہ سمجھتے تھے ۔اس وقت تک پُلوں سے کافی پانی بہہ چکا تھا جب حمید بھائی اور محمد رفیع واحدعلی کے پاس عرضگزاشت لیکر پہنچے تھے۔نوشاد کے نام کا طوطی بول رہا تھا ۔ان کے دل میں بھی بیٹے کے گیتوں سے محبت کی کونپلیں پھوٹنے لگی تھی۔دل سوز دھنیں سن کر وہ تھم سے جاتے ۔احباب جب بھی نوشاد جی کی کوئی نئی دھن گیت سنتے تو انہیں سنانے کی کوشش کرتے لیکن لاکھ انکار کے باوجود وہ دل ہی دل میں بیٹے کی موسیقی سن لیتے اور سراہتے تھے ۔

اس وقت عدالت سے چھٹی ہوچکی تھی ۔واحدعلی گھر کے لئے نکل رہے تھے کہ دونوں ان کے پاس پہنچے اور آداب کیا ۔دو اجنبی نوجوانوں کو دیکھ کر وہ بولے ” اجی کیا کام ہے ،عدالت تو اب بند ہوچکی “ وہ سمجھے کوئی سائل ہیں اور عدالتی کام کے سلسلہ میں کچھ پوچھنا چاہتے ہیں۔

حمیدبھائی نے بڑے ادب سے انہیں اپنی غرض بتائی ” اگر آپ صرف دو لفظ لکھ دیں گے تو ہم پردیسیوں کی مراد پوری ہوجائے گی ۔آپ میرے بھائی کو سن سکتے ہیں کہ اللہ نے اسکو کتنا زیادہ سُریلا بنا یا ہے “ واحد علی نے محمد رفیع کے چہرے کو بغور دیکھا ” کیا گا لیتے ہو ©“

” جی اللہ کی عطا سے “ محمد رفیع نے انگشت شہادت آسمان کی طر ف اٹھا کر ایسے عاجزی سے کہا کہ واحد علی کے دل میں اس اجنبی کے لئے ہمدردی پیدا ہوگئی اور کہا ” آئیے چائے نوش کرتے ہیں اور کچھ سنا بھی دیں ۔ایسا نہ ہوکہ آپ کا نوشاد کہے کہ والد نے زندگی میں کسی کی سفارش بھی کی تو کیسے لڑکے کی کردی جسے وہ جانتے بھی نہیں“

مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی ۔۔۔قسط نمبر 12

شاید یہ واحد علی کی زندگی کا بھی پہلا موقع تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے مستقبل کے ایک نامور شاگرد کو سب سے پہلے تواضع کرنے کا شرف حاصل کررہے تھے ۔قدرت ایسے حسین مواقع اور اتفاقات سے ہی تقدیر کی ٹیڑھی اور ادھوری لکیروں کو سیدھا اور پورا کرتی ہے ۔

محمد رفیع سفارشی خط لیکرنوشاد کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔نوشاد نے خط پڑھا بے یقینی سے محمد رفیع کو دیکھا ،آنکھوں میں نمی اتر آئی ،والد کی چٹھی کو چوما جس میں لکھا تھا ”نوشاد اگر تمہیں یہ لڑکا کسی قابل نظر آئے تو اسکو چانس دو“

نوشاد جی ان دنوں کو جب یاد کرتے تھے توکہا کرتے تھے ” والد نے اپنے بیٹے کے فن کو کبھی نہیں سراہا تھا نہ اسکی منزل کے پتھروں کو صاف کیا تھا لیکن محمد رفیع جیسا ہیرا خود میرے پاس بھیج دیا ۔محمد رفیع جب میرے پاس آئے تو میں ان دنوں ایک فلم (1944) ”پہلے آپ “ کا ترانہ کمپوز کررہا تھا جس میں پہلی بار کورس میں ترانہ گایا جانا تھاا ور ساتھ کورس میں گانے والوں کو فوجیوں کی طرح مارچ بھی کرتے ہوئے فلم میں دکھانا تھا ۔ہم نے محمد رفیع کو سنا تو اندازہ ہوگیا لڑکا پرفیکٹ ہے۔پس اسے کورس میں شامل کیا ،کورس ترانہ تھا” ہندوستان کے ہم ہیں ،ہندوستان ہمارا“ میں اس وقت بے حد شرمسار ہوا کہ جب گانے کی پریڈ ریکارڈنگ ختم ہوگئی تو دیکھا محمد رفیع لنگڑا کر چل رہے ہیں اور ان کے بوٹ پھٹ چکے ہیں ،پیروں سے خون نکل رہا ہے ۔پوچھنے پر معلوم ہوا کہ پریڈ میں شامل ہونے کے لئے انہوں نے جو فوجی بوٹ پہنے تھے وہ تنگ تھے ،ان کے پیر زخمی ہوگئے لیکن انہوں نے اپنے شوق اور لگن پر آنچ نہیں آنے دی۔ہم نے انہیں دس روپے اجرت کے دئےے تو وہ پیسے انہوں نے مجھے ادب سے لوٹا دئےے اور کہا کہ ان پر میرا نہیں آپ کا حق ہے۔اس زمانہ میں دس روپے بھی کم نہیں تھے ۔لیکن محمد رفیع کے چہرے پر ایسا نور ،تقدس اور شرافت تھی کہ میں بتا نہیں سکتا ۔وہ تو خدا کے بنائے خاص بندے تھے ۔ کام سے بے حد مخلص ،پیسے سے کوئی غرض نہیں ۔انہوں نے ہر نئے موسیقار کے ساتھ تعاون کیااور کبھی ایسے موسیقار سے پیسے نہیں لیتے تھے ۔ کسی نئے پروڈیوسر یا ڈائریکٹر جس کے بارے وہ سمجھتے کہ یہ پہلی فلم اسکے کیرئر کے لئے انتہائی اہم ہے ، مالی وسائل بھی اسکے کم ہیں تو محمد رفیع اسکی صرف اپنے گانوں سے ہی نہیں اپنی جیب سے بھی مدد کرتے تھے ۔مدد بھی اسطرح کہ دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلتا ۔ایسا مہان آدمی پھر کہاں موسیقی میں پیدا ہوگا “ نوشاداور محمد رفیع کی جوڑی بنتے بنتے اگرچہ ایک آدھ سال لگا لیکن نوشاد نے دیکھا کی محمد رفیع میں انسانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے،وہ جب گاتے تو لگتا تھا آسماں سے کوئی زمین پر اتر آتاہے اور ان کے گلے اور سینے میں سُروں کی روشنیاں پھیلائے چلاجاتا ہے کیونکہ گاتے ہوئے ان کے چہرے پر معصومیت ابھر آتی تھی۔

محمد رفیع کے گانوں میں ایسی وارفتگی تھی جس نے دلوں کو اپنی مٹھیوں میں قید کررکھا تھا اور بہت سوں کا وہ عقیدہ اور مذہب بن گئے ۔ہندوستان بھر میں انکے دیوانوں کا ہجوم لگا رہتا تھا ۔کئی ایسے گھرانے تھے کہ جن کے گھروں میں محمد رفیع کی آواز سن کر ہی سویرا ہواکرتا تھا اور رات کو اسی آواز سے لوری سن کر سوتے تھے ۔احمد آباد میں بھی ایک ایسا ہی ہندو گھرانہ موجود ہے جس نے محمد رفیع کو بھگوان بنا کر ان کی باقاعدہ پرستش شروع کررکھی ہے ۔محمد رفیع زندہ ہوتے تو یقیناً وہ ایسا مشرکانہ کام نہ کرنے دیتے۔وہ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے جیسا کہ ان کے بھائی صدیق رفیع بھی راقم کو یہ بتا چکے ہیں کہ وہ  اپنے مذہب پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے ،ان میں دینی استقامت بھی تھی اور درویشانہ طریق بھی ۔انہوں نے حج کئے اور کئی بارعمرہ کی سعادت حاصل کی۔ایک ایسے مسلمان کے ساتھ کسی ہندو گھرانے کی یہ پرستانہ عقیدت محض ان کے گانوں کے باعث شروع ہوئی   ہے ۔ورنہ کہاں ہندو کا تعصب اور کہاں مسلمان ؟

دراصل احمد آباد کے اس ہندو  گھرانے کے امیش پکھیجا کو بچپن میں ہی محمد رفیع سے دیوانگی کی حد تک پیار اور عقیدت تھی ۔ اس کے گھر میں بھی سب لوگ محمد رفیع کے دیوانے تھے اور روزانہ محمد رفیع کے گانے سنا کرتے تھے ۔اومیش پکھیجا جب جوان ہوا تو اس نے محمد رفیع کا ایک بجن سن لیا اور پھر تو اس نے اپنے گھر میں ”محمد رفیع مندر“ بنا لیا،یقینی طور پر دنیا میں یہ پہلا مندر ہوگا جو ایک مسلمان کے مکمل نام پربنایا گیا ہے ۔گھر کے درودیوار پر محمد رفیع کی تصاویر اور پینٹنگ آویزاں ہیں ،انکے گلے میں ہار لٹکائے جاتے اور سندور لگایا جاتا ہے ۔فوٹوز کے سامنے پوجا پاٹ کا سامان رکھا ہوتاہے اور امیش پکھیجااپنی دھرم پتنی سمیت رفیع بھگتوں کے ساتھ وہاں پوجا کرتے اور محمد رفیع کے نام کا پرشاد تقسیم کرتے ہیں ۔

”محمد رفیع مندر “میں وقت کے عظیم گلوکار کے چالیس ہزار سے زائد گانے ،نایاب چیزیں بھی موجود ہیں جو ان کے لئے مقدس درجہ رکھتی ہیں ۔محمد رفیع کے بچے بھی اس مندر کی یاترا کرچکے ہیں۔َکوئی حیرانی کی بات نہیں ہوگی کہ آنے والے وقت میں بھارت میں ”محمد رفیع بھگتو ں“ کی تعداد میں اضافہ ہوجائے تو رفیع بھگت نام کا مذہب بھی معرض وجود میں آجائے ۔ویسے تو ان کی پوجا پاٹ سے ہندوانہ فرقہ پیدا ہوچکا ہے ،کسی وقت اسکا باقاعدہ اعلان بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ کسی شخصیت سے دیوانگی کی حد تک لگاواور اسکی پوجا پاٹ سے ہی ایسے مشرکانہ مذہب تخلیق پاتے ہیں۔ (جاری ہے )

مزید : کتابیں /مقدر کا سکندر