محرم الحرام کا پہلا عشرہ، پرامن طور پر اختتام پذیر 

محرم الحرام کا پہلا عشرہ، پرامن طور پر اختتام پذیر 

  

لاہور سے چودھری خادم حسین

الحمدللہ، محرم الحرام کا پہلا عشرہ پُرامن طور پر گزر گیا۔ اس عشرہ میں شہداء کربلا کی عظیم قربانیوں کا ذکر ہی اولیت اور ترجیح کا حامل تھا۔ ساتویں سے دسویں محرم تک اس حوالے سے ماتمی جلوس بھی نکلے اور سب ہی اپنے اپنے پروگرام کے مطابق منزلوں پر پہنچے۔ اس عرصہ میں مجالس بھی ہوئیں جواب بھی جاری ہیں، اسلامیان پاکستان نے اپنے اپنے مسلک کے مطابق خانوادہ رسولؐ کو زبردست خراج عقیدت اور سلام پیش کیا۔ 10محرم الحرام کو نیازیں تقسیم کی گئیں اور نویں، دسویں محرم کے روزے بھی رکھے گئے۔ لاہور میں بھی ماتمی جلوس نکالے گئے، دسویں محرم کا مرکزی جلوس پرانے شہر کی نثار حویلی سے نویں محرم کی شب برآمد ہوا، اور اگلے روز مغرب کے وقت کربلا گامے شاہ پر اختتام پذیر ہوا، انتظامیہ کی طرف سے بہت معقول حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بہتر انتظامات پر انتظامیہ اور پولیس حکام و جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

اگست کے اس مہینے میں اس مرتبہ آگاہی کے مطابق بارشیں ہوئیں، جو اب تک جاری ہیں۔ بالائی علاقوں میں بارشوں کی وجہ سے دریا بھی بپھر گئے۔ حتیٰ کہ راوی جو گندے نالے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ دریا بنا اور ستلج نے بھی انگڑائی لی کہ ہر دو دریاؤں کے دہانے سے بھارت نے سیلابی پانی چھوڑ دیا تھا۔ راوی اور ستلج نے لاہور اور قصور کے علاوہ بہاؤ والے علاقوں میں نقصان پہنچایا اور فصلیں بری طرح متاثر ہوئیں۔ اسی طرح چناب اور جہلم کے دریاؤں میں بھی طغیانی سے متعدد اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔ موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے شہری آبادیوں میں بھی پریشانی ہوئی۔ لاہور کے نشیبی علاقوں میں اب تک پانی موجود ہے، جبکہ جب بھی بارش ہوئی۔ شہر کے وہ تمام حصے ڈوبے جہاں ہمیشہ پانی جمع ہو جاتا ہے، اگرچہ پانی کی نکاسی ہوئی ہے، تاہم اب بھی متاثرہ علاقے میں موجود ہے جبکہ شہر کی علاقائی پارکوں اور گرین بیلٹوں میں پانی ہے جس سے گھاس سڑانڈ دے رہا ہے۔

لاہور میں دو ہفتے قبل ڈینگی کے ثبوت ملے تھے۔ تاہم انسداد ڈینگی شعبہ کی طرف سے اس طرف پوری توجہ نہیں دی گئی، سپرے شروع نہیں کیا جا سکا، پہلے ہی آبادیاں کرونا سے متاثر ہیں۔ حکومت کی طرف سے کرونا میں کمی کے باعث لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد شہریوں نے پابندیوں اور حفاظتی اقدامات کو ہوا میں اڑا دیا۔ گلیوں، بازاروں اور پارکوں میں ماسک بھی نظر نہیں آتے۔ اگر کوئی اکا دکا شہری خیال کرتے ہوئے ماسک پہن کر آتا ہے تو اسے عجیب نظروں سے دیکھاجاتا ہے۔ لوگ سماجی فاصلوں کا بھی خیال نہیں رکھتے۔ محرم کے تمام جلوسوں میں تمام تر ہدایات اور یقین دہانیوں کے باوجود کچھ خیال نہیں کیا گیا۔ ماسک کی پابندی ہوئی نہ سماجی فاصلے کا دھیان رکھا گیا۔ اب 7ستمبر کو حکومت نے تعلیمی اداروں کے کھولنے کا حتمی فیصلہ کرنا ہے۔ جو 15ستمبر سے کھولنا مقصود ہیں، یہ فیصلہ مشروط ہے کہ پابندیوں کی نرمی اور عشرہ محرم کے بعد کرونا کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا اور اسی روشنی میں یہ فیصلہ بھی ہوگا اس حوالے سے ایس او پیز بھی تیار کئے جا چکے ہیں۔

برسات کے اس موسم میں لیسکو والوں کی بھی شہر پر توجہ رہی اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ مرمت کے نام پر ہر روز سو سے زیادہ فیڈر7سے 8گھنٹے کے لئے بند کئے جاتے ہیں، جبکہ بار بار کی ٹرپنگ سے شہریوں کے برقی آلات بھی جل گئے ہیں، یہ سلسلہ تاحال جاری ہے، محرم الحرام اور برسات کی وجہ سے سیاسی سرگرمیاں بھی قریباً معطل رہیں۔ نیب نے بھی پھر سے مریم نواز کو نہیں بلایا، البتہ تمام تر حکومتی دعوؤں اور یقین دہانیوں کے باوجود چینی کے نرخ کم ہوئے اورنہ  آٹے کی قلت ختم ہو ئی، برساتی موسم کی آڑ میں سبزیاں پھر مزید مہنگی کر دی گئی ہیں۔

لاہور میں ایک سابق صوبائی وزیر ملک عبدالقیوم کا انتقال ہوا، ان کا تعلق جہلم سے تھا، تاہم اب وہ اسی شہر میں مقیم تھے۔ ملک عبدالقیوم پیپلزپارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی اور بھٹو دور میں صوبائی وزیر بنے۔ بعدازاں جب جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء آیا تو انہوں نے بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ اس دور کے بعد ان کا صوبائی عہدیداروں سے اختلاف ہوا اور وہ بتدریج جماعتی سرگرمیوں سے الگ ہوتے گئے اور پھر سیاست ہی چھوڑ دی۔ ملک عبدالقیوم سیاست دانوں کی اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جو  خدمت پر یقین رکھتی وہ نہائت شریف اور نفیس انسان تھے۔ مسکراہٹ چہرے پر جمی رہتی تھی۔ مرحوم نے اپنے پیچھے چاہنے والوں، دوستوں اور مداحوں کا وسیع حلقہ چھوڑا، اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -