مون سون کی طوفانی بارشیں  سندھ اور کراچی کی کیفیت سب سے بدتر

مون سون کی طوفانی بارشیں  سندھ اور کراچی کی کیفیت سب سے بدتر

  

ڈائری۔۔۔کراچی

مبشرمیر

مون سون کی طوفانی بارشوں نے پورے ملک میں جل تھل کردیا ہے اور سیلابی صورت حال کا سامنا ہے لیکن سندھ اور کراچی کی کیفیت سب سے بدتر دکھائی دے رہی ہے۔کراچی میں بارش سے سیوریج سسٹم کے نقائص کھل کر سامنے آئے۔بجلی کی سپلائی اور کچرے کے انبار کو اٹھانے کا عمل معطل ہوگیا۔شہریوں کی آہ و بکا نے سیاست کا رخ انہی مسائل کی طرف موڑ دیا۔سوشل میڈیا کے علاوہ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا نے گذشتہ تمام حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کی عدم توجہ اور سیاسی چپقلش کو مسائل کی وجہ قرار دیا جبکہ اداروں کا کردار بھی زیر بحث رہا۔اس وقت بھی شہر کراچی کے پوش علاقے پانی اور بجلی کے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ایک طرف اس شہر کے لوگوں کو صاف اور قابل استعمال پانی کے حصول کی دشواری ہے جبکہ دوسری جانب بارشوں اور سیوریج کے پانی کو ٹھکانے لگانے میں مشکلات درپیش ہیں۔اس کے ساتھ بجلی کی ترسیل کا عمل بھی ان کی زندگیوں کو اجیرن بنائے ہوئے ہے۔گوکہ پورے شہر کے حالات ناقابل بیان ہیں لیکن کلفٹن اور ڈیفنس کے علاقوں میں سیوریج کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا اوربجلی کا نظام بھی معطل ہوا۔اس پر ان علاقوں کے شہریوں نے کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے باہر شدید احتجاج کیا،یہی وہ حلقہ ہے جہاں سے ڈاکٹرعارف علوی کامیاب ہوئے تھے اور صدر مملکت منتخب ہونے کے بعد انہی کی خواہش پر آفتاب صدیقی کو پارٹی ٹکٹ دیا گیا تھا جو ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔احتجاج کرنے والے صدر ڈاکٹرعلوی کے ساتھ ساتھ،سندھ حکومت اور رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی کو بھی صلوٰ تیں سنارہے تھے۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک آرمی کی متعدد ٹیمیں شہر کے کئی علاقوں سے پانی نکالنے میں مصروف ہیں۔انہوں نے کئی اہم شاہراہوں کو کلیئر کردیا ہے۔کلفٹن کے علاقے میں بھی انڈر پاس پانی سے بھرے ہوئے تھے جس کی وجہ سے آمد و رفت میں شدید مشکلات تھیں۔اگر چہ کراچی کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے اور سندھ کے کئی اور اضلاع کو بھی آفت زدہ پہلے ہی قرار دیا جاچکا ہے لیکن اس کے بعد ریلیف کا کام بھی تیزی سے کرنے کی ضرورت ہے۔

بلدیاتی اداروں کی چار سالہ مدت ختم ہونے کا نوٹی فکیشن سندھ حکومت نے جاری کردیا ہے۔ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری ستمبر کے پہلے ہفتے میں مکمل ہوجائے گی۔سندھ کے بڑے شہروں خاص طور پر کراچی اور حیدرآباد میں ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری سب سے زیادہ زیر بحث رہی ہے۔ان دونوں شہروں میں ایم کیو ایم کے میئرز تھے۔بڑے شہر ہونے کے ناطے ان کے مسائل بھی زیادہ ہیں۔پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت ان شہروں میں کمشنرز پر انحصار کرتی رہی ہے۔اب اسے اپنی مرضی سے ایڈمنسٹریٹرز تعینات کرنے کا موقع میسر آیا ہے۔کراچی کے سیاسی اور سماجی حلقوں نے ایڈمنسٹریٹر کی تقرری پر سندھ حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیا ہوا ہے اسی دباؤ کی وجہ سے حتمی نام کو خفیہ رکھا جارہا تھا۔عوام کا مطالبہ ہے کہ کسی غیر سیاسی شخصیت کو یہ ذمہ داری دی جائے لیکن ایڈمنسٹریٹر کا تعلق ہر صورت کراچی شہر سے ہونا چاہیے۔موجودہ حالات کی وجہ سے سندھ حکومت مزید دباؤ میں آچکی ہے۔سبکدوش ہونے والے میئر وسیم اختر،میئر شپ کے آخری ایام میں سخت تنقید کی زد میں رہے اور اپنے لیے اچھی یادیں نہ سمیٹ سکے۔

اگرچہ وزیراعظم عمران خان نے دورہ کراچی کا اعلان کیا ہے لیکن ابھی ان کی زیر صدارت اسلام آباد میں کراچی کے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ہوا،جس میں گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔کراچی کی دگرگوں صورت حال نے تحریک انصاف کو بھی شدید دباؤ کا شکار کردیا ہے۔ ایک عام اندازے کے مطابق حالیہ بارشوں سے مختلف واقعات میں 80افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ان میں کرنٹ لگنے کے علاوہ پانی میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے افراد بھی شامل ہیں۔حیرت اس بات کی ہے کہ شہر کراچی کا انفرااسٹرکچر اس حد تک ناقص ہوچکا ہے کہ بارش کے پانی سے لوگ ڈوب کر مررہے ہیں۔سندھ بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی اور دیگر ادارے اس کے قصور وار ہیں جن کی اجازت سے ایسی بلڈنگز تعمیر ہوئیں جس سے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹیں آگئیں۔سندھ بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی میں بیٹھ کر کرپشن سے اربوں روپے کمانے والے ملک سے فرار ہیں لیکن کئی بلدیاتی وزراء اور صوبائی سیکرٹریز یہیں موجود ہیں ان سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیے۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی،ایم ڈی پی ایس او تقرری کیس کے سلسلے میں سندھ ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تو ان کی ضمانت میں توسیع کردی گئی۔کراچی کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر یہ شہر تباہ ہوا ہے تو اس کا اثر پورے پاکستان پر پڑے گا۔یہ بات پاکستان کا ہر سیاستدان جانتا ہے لیکن اس شہر کو بہتر کرنے کے عمل کا حصہ بننا اس کے لیے دشوار کیوں ہے۔مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف نے بھی کراچی کا دورہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔شہباز شریف نے کراچی سے 2018میں الیکشن بھی لڑا تھا۔فیصل واوڈا ان کے مقابلے میں کامیاب قرار پائے تھے۔اس حوالے سے ایک کیس بھی عدالت میں ہے۔حیرت اس بات کی ہے کہ الیکشن دو سال پہلے ہوئے لیکن انتخابی عذرداری کا کیس ابھی تک فیصلہ کن مرحلے تک نہیں پہنچا ہے۔کیا اعلیٰ عدالت کو اس کا نوٹس نہیں لینا چاہیے کہ انتخابی عذرداری کا مقدمہ کم سے کم وقت میں نمٹادیا جائے۔ویسے شہباز شریف 2008میں وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے پر حکم امتناعی کے ذریعے بحال ہوئے اور پانچ سالہ مدت گزرنے کے بعد بھی فیصلہ نہ ہوسکا۔

محرم الحرام،تمام تر خطرات کے ساتھ یوم عاشور کا دن امن و امان سے گزرا۔کراچی میں بھی مجالس اور جلوس میں کورونا وائرس کی وجہ سے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔بعض مقامات پر بارش کی وجہ سے حاضری کم رہی لیکن کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔اس موقع پر سندھ حکومت کے وزراء اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ بھی متحرک نظرآئے جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں میں پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال زیادہ متحرک اور فعال دکھائی دیئے۔ایام محرم کے بعد شہر کی اقتصادی سرگرمیاں بارش کے نقصانات کے باوجود تیزی سے شروع ہوئیں اور اسٹاک ایکس چینج میں مثبت رجحان نمایاں رہا۔دیگر کاروباری ادارے بھی متحرک ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔شہر کا انفرااسٹرکچر جس انداز سے بنا ہوا ہے اس کی بحالی ایک چیلنج ہوگا۔وفاقی حکومت کا تعمیرات پیکج اسی صورت میں کامیاب ہوسکے گا اگر سڑکوں،سیوریج،پانی اور بجلی کا نظام موثر انداز سے بحال ہوجائے ورنہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -