شہباز شریف کی پیش کش سے فائدہ اٹھائیں 

شہباز شریف کی پیش کش سے فائدہ اٹھائیں 

  

مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کو ریلیف دینے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر کام کریں، ہنگامی حالات سے دوچار پاکستانیوں کی مدد ہم سب کا فرض ہے، اِس سلسلے میں اپوزیشن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ہر طرح کے تعاون کے لئے تیار ہے،انہوں نے پارٹی عہدیداروں، منتخب نمائندوں اور کارکنوں سے کہا کہ وہ پورے خلوص کے ساتھ متاثرین کی مدد کے لئے پیش پیش رہیں،شہباز شریف خود بھی آج(بدھ) کراچی پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ بنفس ِ نفیس صورتِ حال کا جائزہ لیں گے اور متاثرین سے ملاقات بھی کریں گے،انہوں نے ان تمام اداروں اور رضا کاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا، جو صورتِ حال سے نپٹنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اہل ِ پاکستان جہاں جہاں اور جس جس طرح متاثر ہوئے ہیں اُن سے ہمدردی ہے۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ سیلابی صورتِ حال سے نجات کے لئے خصوصی دُعائیں کی جائیں اور نوافل ادا کئے جائیں۔

بارشوں سے ملک بھر کے بہت سے شہر متاثر ہوئے ہیں،حیرت ہے کہ اسلام آباد جیسے جدید اور سہولتوں سے مزین شہر کے بعض پوش علاقے بھی بارشی پانی سے متاثر ہیں، ان علاقوں کا سیوریج سسٹم شدید بارشوں کا مقابلہ نہیں کر سکا اور پانی گھروں میں داخل ہو گیا، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کئی کئی گھنٹے لگا کر کسی نہ کسی طرح یہ بارشی پانی نکال رہے ہیں،لیکن بارشوں نے کراچی کو سب سے زیادہ متاثر کیا،اِس لئے اِس شہر پر فوکس بھی زیادہ ہے، وزیراعظم نے بھی کہا ہے کہ کراچی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی کے مصائب اور مشکلات کو حل کرنے کے لئے ہر کسی کے پاس اپنی ہی تجاویز ہیں، کوئی ان کا حل گورنر راج میں تلاش کرتا ہے، اور کسی کا خیال ہے کہ جب تک کراچی کو وفاق کے سپرد نہیں کیا جائے گا اس کے مسائل حل نہیں ہوں گے، پچھلے دِنوں کراچی کے مسئلے کے  حل کے لئے جو مشاورتی کمیٹی بنی تھی اس نے کام شروع کیا یا نہیں، لیکن لگتا ہے کہ گورنر راج کے مطالبے کرنے والے اس کمیٹی کو مسئلے کا حل نہیں سمجھتے۔سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا تھا کہ کراچی کے مسائل حل کرنے کے لئے10ارب ڈالر درکار ہیں،جس کا جواب وزیر اطلاعات کی جانب سے یہ آیا ہے کہ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں، اگر ہوتے بھی تو ہم سندھ کو نہ دیتے،کیونکہ یہ رقم ”اومنی اکاؤنٹ“ میں پہنچ جانی تھی، ایسے بیانات سے واضح ہو جاتا ہے کہ کراچی کے مسائل کا حل ترجیحات میں بہت نیچے ہے، اصل اہمیت اِس امر کو حاصل ہو گئی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے نمائندے ایک دوسرے کو نیچا کیسے دکھا سکتے ہیں۔ اِن حالات میں شہباز شریف کی تعاون کی پیش کش تو خوش آئند ہے،لیکن اہم بات یہ ہے کہ اِس کا جواب کس انداز سے آتا ہے،کیونکہ شہباز شریف نے ماضی ئ  قریب میں کئی مسائل پر حکومت کو جو دست ِ تعاون پیش کیا تھا اس کا مثبت جواب نہیں دیا گیا۔

کراچی کو اِس وقت جو مسائل درپیش ہیں وہ اتنے زیادہ اور اتنے گو ناگوں ہیں کہ اِن کے حل کے لئے ایک طویل مدت درکار ہے، ویسے بھی جو مسائل کئی عشروں کی پیداوار ہوں وہ کسی ٹھوس منصوبہ بندی کے بغیر حل نہیں ہو سکتے۔البتہ مسائل کی نوعیت کے حساب سے ان کی ترجیحات کا تعین کیا جا سکتا ہے اور جو مسائل فوری توجہ چاہتے ہیں ان پر پہلے توجہ کی جا سکتی ہے اور جن مسئلوں  کا طویل المدتی حل درکار ہے اُن کے حل کا منصوبہ بھی بنایا جا سکتا ہے، کراچی کو اِس وقت جو مسائل درپیش ہیں وہ بنیادی طور پر قبضے کی نفسیات کا شاخسانہ ہیں، جب سرکاری اور غیر سرکاری زمینوں پر قبضے کر کے ان پر پلازے بنائے جا رہے تھے تو کسی نے نہیں سوچا تھا کہ ان کے نتائج کیا ہوں گے۔

شہباز شریف سندھ کے دورے پر جا رہے ہیں تو انہیں سندھ کی حکومت کے ساتھ مل کر یہ طے کرنا چاہئے کہ اسے کس قسم کا تعاون درکار ہے اور اس کی عملی شکل کیا ہو گی، جو کام حکومت کے کرنے والے ہیں اور جن کے لئے وسائل درکار ہیں وہ تو شہباز شریف نہیں کر سکتے،لیکن انہوں نے اپنے دورِ حکمرانی میں لاہور میں نکاسی ئ آب اور شہر کی صفائی کے لئے جو انتظامات کئے عام طور پر انہیں  سراہا گیا تھا۔

اگرچہ بارش کے دوران لانگ بوٹ پہن کر پانی میں کھڑے ہو کر ہدایات دینے کے اُن کے انداز کو مخالفین شو بازی سے تعبیر کرتے ہیں،لیکن امرِ واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں انتظامی افسروں کو متحرک رکھا اور شکایات کی صورت میں انضباطی کارروائیاں بھی کیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے دور میں شہری منصوبے تیز رفتاری سے مکمل ہوئے، اب تو خیر بارشیں ہیں جن کی وجہ سے مسائل ہیں،لیکن معمول کے حالات میں بھی کراچی میں کچرے کے ڈھیر لگے رہتے ہیں اور بار بار توجہ دلانے کے باوجود صفائی کے انتظامات نہیں کئے جاتے۔اگرچہ بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ نے بھی اس سلسلے میں معاونت کی تھی اور بہت سی سڑکوں سے ہزاروں ٹن کچرا اُٹھا کر ٹھکانے لگایا تھا۔ صوبائی حکومت چاہے تو اب بھی بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ سے تعاون مل سکتا ہے۔ شہباز شریف بھی صوبائی حکومت کو اپنے تجربات میں شریک کر سکتے ہیں۔اگرچہ وہ کراچی سے قومی اسمبلی کی نشست پر ہار گئے تھے اور اُن کے مقابلے میں جو صاحب منتخب ہوئے وہ کہتے رہے ہیں کہ وہ اپنے ذاتی خرچ سے نو کریوں کا بندوبست کریں گے، عملاً اس جانب کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا،لیکن کراچی سے منتخب ہونے کی وجہ سے اُن کی اتنی ذمے داری تو ہے کہ وہ زیادہ نہیں تو اپنے حلقے کے مسائل کے حل کے لئے آگے بڑھیں، کراچی میں تحریک انصاف کے 14ارکانِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں اِس لئے ان سب حضرات کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں شہریوں کے ساتھ کھڑے ہوں یہ حضرات ٹی وی پر تو بھاشن دیتے رہتے ہیں اور ہر روز صوبائی حکومت کی کارکردگی کو ہدفِ ملامت بھی بناتے ہیں،لیکن خود انہوں نے اس شہر کی کیا خدمت کی جہاں سے انہوں نے قومی اسمبلی کا انتخاب جیتا یہ کسی کو معلوم نہیں،کراچی کے حالات زبانی جمع خرچ سے ٹھیک نہیں ہوں گے،اس کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے اور تمام سٹیک ہولڈر مل کر ہی یہ مسائل حل کر سکتے ہیں،شہباز شریف کی جانب سے تعاون کی پیشکش بھی بروقت ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -