نئی خارجہ پالیسی وقت کا اہم تقاضا

نئی خارجہ پالیسی وقت کا اہم تقاضا
نئی خارجہ پالیسی وقت کا اہم تقاضا

  

ہر خود مختار اورآزاد ملک اپنی خارجہ پالیسی ملکی وسائل، مسائل اورحالات کے پیش نظر ترتیب دیتا ہے اور بدلتے ہوئے حالات کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ملکی مفادات اور قومی سلامتی کے پیش نظر اس میں ردوبدل ہوتا رہتا ہے۔بانی ئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی رحلت کے بعد ہمارے ارباب اقتدار اس حوالے سے کوئی آزاد اور خودمختار پالیسی وضح نہ کر سکے اور بعض بڑی قوتیں اس پر اثر اندازرہیں جن میں امریکہ اور سعودی عرب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ بجا کہ آزادی کے بعد ہمارے کسی بھی سربراہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ ہو سکتا ہے کہ بہ ایں وجہ وہ وطن ِ عزیز کی خارجہ پالیسی ان خطوط پر استوار نہ  کر سکے، جس کی ملک کو ضرورت تھی اور انہوں نے یکے بعد دیگرے اپنے پیش رو کی ہی تقلید جاری رکھی، جس کے باعث ہم بڑی طاقتوں کے دست نگر بن کر رہ گئے اور ملک تعمیر و ترقی کی وہ منازل نہ طے کر سکا جس کا ملک متقاضی تھا جو ایک المیہ سے کم نہیں۔

یہاں اِس امر کا اظہار برمحل ہو گا کہ ہماری سیاسی قیادت ہمیں ایک قوم بنانے میں ناکام رہی، جبکہ تقسیم ہند سے قبل قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے ایک بھرپور اورمسلسل جدوجہد کے بعد مسلمانان ہند کو ایک قوم بنایا،جب قوم تشکیل پذیر ہوگئی تو دوسرامرحلہ اس کے لئے ایک ملک کا حصول تھا،جس کے لئے بانی ئ پاکستان نے اپنی ولولہ انگیز قیادت میں تحریک پاکستان کی جدوجہد کی اورقوم نے ان کی آواز پر لبیک کہا اور بے بہا قربانیاں دے کر خطہ پاک حاصل کیا۔ وہی قوم جس نے انگریز اور ہندو سے نبرد آزما ہو کر ملک حاصل کیا تھا قیام پاکستان کے بعد انتشار کا شکار ہوگئی، جس کی وجہ مخلص اورمحب وطن قیادت کا فقدان تھا۔ جن سیاسی لوگوں کو  قیادت ملی وہ  اس کے اہل نہ تھے اور ذاتی مفادات میں گھر کر رہ گئے، جس کے باعث ایک طرف ملکی تعمیر وترقی کا پہیہ جام ہوگیا اوردوسری طرف فرقہ واریت کونشوونما پانے اورپھیلنے پھولنے کا موقعہ مل گیا اور ملک داخلی طور پردہشت گردی اور انتشارکی لپیٹ میں آ گیا اورہماری خارجہ پالیسی کا جھکاؤ بھی اس طرف ہوگیا،جو دہشت گردی میں ہماری اعانت کررہے تھے دراصل وہ اس طرح خود اپنا تحفظ کررہے تھے۔

آفرین ہے ہماری بہادر افواج کے کہ انہوں نے مشکل ترین اورنا مساعد حالات میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھی اوربیش قیمت قربانیاں دے کر اس ناسورکا خاتمہ کیا۔ جہاں تک خارجہ امورکا تعلق ہے تواس میں بھی فوج اپنا کردار با احسن نبھاتی رہی اورحال ہی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی عرب سمیت کئی ممالک کا دورہ کیا۔ ماضی کی صورتِ حال سے قطع نظریہ امرقوم کے لئے باعث تقویت ہے کہ افواج پاکستان اورموجودہ حکومت داخلی اورخارجی معاملات میں ایک صفحہ پر ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت آج کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے پیش نظر ملک کی خارجہ پالیسی ملکی اورقومی مفادات کے مطابق ترتیب دے اور اس حوالے سے قوم، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اورسینٹ کواعتماد میں لے اور باہمی مشاورت سے خارجہ پالیسی تشکیل دے اوراس سے پہلے ضروری ہے کہ وہ قوم کو متحدہ کرے اور دستیاب ذرائع ابلاغ کوبروئے کار لائے۔ جہاں تک پاکستانی قوم کا تعلق ہے وہ ملکی سلامتی کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے اوراس کا مظاہرہ وہ6ستمبر1965ء کی جنگ جو ہم پر اعلان کئے بغیربھارت نے مسلط کی تھی میں کر چکے ہیں۔

اس سترہ روزہ جنگ میں قوم سے فوج کو سرآنکھوں پربٹھایا جب بھی فوجی ٹرک میدان جنگ سے خوراک اور دوسری اشیاء ضرورت خریدنے کے لئے شہروں میں آتے  تو غریب ریڑھی والوں تک نے اپنے سارے سامان سے بلاقیمت فوجی ٹرکوں کو بھر دیااور ازاں بعد 3دسمبر 1971ء میں ہونے والی  پاک بھارت جنگ میں عوام نے فوج سے یک جہتی کے اس مظاہرے کا اعادہ کیا جو اس بات کی شہادت ہے کہ ہماری قوم میں جذبہ حب الوطنی بدرجہ اتم موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری موجودہ حکومت اورخصوصاً وزیر اعظم عمران خان اس سلسلے میں پہل کریں اوربلاتفریق اپوزیشن اورحکومت، ملک کے تمام سیاستدانوں سے مذاکرات کرکے انہیں متحد کریں اور انہیں اس بات متفق کریں کہ قوم کے اتحاد کی اس سے پہلے اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی اب ہے۔ ایک طرف امریکہ، بھارت اور اسرائیل عالم اسلام کے خلاف متحد ہیں اور دوسری طرف بعض عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں اورکچھ کرنے والے ہیں اور اس طرح یہ ایک انتہائی نازک اورحساس صورتِ حال ہے، جس میں ہمیں نہایت زیرک اوردانشمندانہ طور پر خارجہ پالیسی از سرنو تشکیل دینی چاہئے اگر بارخاطر نہ گزرے تو ہم وزیر اعظم عمران خان کو یہ باور کرانے میں حق بجانب ہیں کہ ابھی تک ہماری خارجہ پالیسی گو مگو کا شکار ہے۔

وزیر اعظم صاحب خارجہ پالیسی کوئی کمنٹری نہیں ہوتی، جو میسج کے ساتھ ہی پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے یہ ایک ایسا عمل ہے،جو ٹھوس بنیادوں پر قائم ہوتا ہے اوردیر پا ہوتاہے ملک کے تمام ادارے آپ کے ساتھ ہیں اوراپوزیشن بھی کوئی غیر ملکی نہیں، اپنے ہی ملک کی ہے اس کو بھی دوسروں کی طرح ملکی مفاد اورقومی سلامتی عزیز ہے۔ سیاست سے بالا تر ہوکر دیگر اداروں کی طرح اپوزیشن کو بھی اپنے ساتھ ایک پیج پر لائیں ان سے مل بیٹھ کر خارجہ پالیسی کا لائحہ عمل مرتب کریں اور پھر یک زبان ہوکر کشمیر، فلسطین اور دنیا بھر میں جہاں بھی مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہورہاہے نعرہ حق بلند کریں اورپھر آپ دیکھیں گے کہ آپ کی آواز دنیا بھر میں دورتک سنی جائے گی اورپراثر ہوگی۔ یہ بجا ہے کہ ملک ترقی یافتہ ہو یا ترقی پذیر، بڑی طاقت ہو یا اس کے برعکس کوئی بھی ملک تنہا کچھ نہیں کر سکتا۔ ملکوں کے اتحاد بنتے ہیں،جو باہمی مفادات سے منسلک ہوتے ہیں۔یہ عالمی تناظرمیں ایک اٹل حقیقت ہے کہ جس سے مفر نہیں۔ آگے بڑھئے ہم خیال اورمخلص دوست ممالک سے تعلقات کو وسعت دیں ایران، ترکی، ملائیشیا، قطر، چین اورچند عرب ممالک کو چھوڑ کر 57اسلامی ممالک کے ساتھ مل کرایک تنظیم قائم کریں اور چین کو اس میں بطور مبصر ملک شامل کریں۔اس اتحاد سے عالم اسلام کو تقویت ملے گی۔

مزید :

رائے -کالم -