بارانِ رحمت یا بارانِ زحمت (2)

بارانِ رحمت یا بارانِ زحمت (2)
بارانِ رحمت یا بارانِ زحمت (2)

  

کراچی کا دوسرا مسئلہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہے۔ بدقسمتی سے کراچی کی آبادی جس تیزی سے بڑھی اسی تیزی سے زیر زمین پانی نیچے چلا گیا۔ اور سیوریج کا پانی اس میں مل کر بے شمار عوارض کا سبب بنا۔ اس مرض کا بنیادی علاج تو یہ ہے کہ کراچی کی آبادی کو مزید بڑھنے سے روکا جائے۔ فیملی پلاننگ کی چینی روایات اپنائی جائیں …… لیکن ایسا کرنا اس لئے ممکن نہیں کہ یہ مسئلہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ اور وزارت منصوبہ بندی، وزارت عدم منصوبہ بندی بنی ہوئی ہے۔

پاکستان کو اللہ کریم نے دنیا کے تین بڑے اور بلند ترین کوہستانی سلسلوں سے نوازا ہوا ہے۔ ہمالہ، ہندوکش اور قراقرم برف پوش ہیں۔ قطبِ شمالی اور قطبِ جنوبی کے باہر ہمارے پاکستان کو خدا نے دنیا کے سب سے بڑے گلیشیئروں سے ہمکنار کر رکھا ہے لیکن پھر بھی ہم پانی کی افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ہر سال سیلاب آتے ہیں، ندی نالے بپھرتے ہیں، دیہات ڈوبتے ہیں، کھڑی فصلیں برباد ہوتی ہیں، پل اور کلورٹ طوفانی بارشوں میں ٹوٹ کر بہہ جاتے ہیں، سڑکیں، شاہرائیں اور ریلوے لائن ٹوٹتی یا متاثر ہوتی ہیں لیکن ہم ہر سال ان کو آفاتِ سماوی اور رضائے الٰہی سمجھ کر جھیلتے ہیں، خاموش رہتے ہیں اور اگلے برس پھر اسی صورتِ حال کا انتظار کرتے ہیں! 

کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہمارے نیوز چینل ملک کے ماہرینِ آفاتِ ارضی و سماوی، بین الاقوامی شہرت کے حامل ہائیڈروبیالوجی کے علوم و فنون کے انجینئرز اور آبی وسائل پر عبور رکھنے والے سائنس دانوں اور ماہرین کو دعوت دیں۔ ان کو ویبی نار Webinar پر شریکِ گفتگو کریں (سیمینار کو انٹرنیٹ پر کنڈکٹ کرنے کو webinarکہا جاتا ہے اور آج کل ان کا بڑا شہرہ ہے) ٹی وی چینلوں کے کرتا دھرتا حکومت سے رابطہ کریں اور پرائم ٹائم ٹاک شوز کی بجائے webinars کا انعقاد ممکن بنائیں۔ جتنا خرچ ایک ٹاک شو پر آتا ہے اس سے آدھا بھی ایک ویبی نار پر نہیں آتا۔ بیرونِِ ملک بہت سے پاکستانی ان سیلابوں، آبی طوفانوں اور موسمی تغیرات کی وجوہات اور ان کے علاج پر دسترس رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں متعلقہ شعبوں اور وزارتوں میں بیٹھے بیورو کریٹس کو اس جانب بالخصوص توجہ دینی چاہیے اور اپنے اپنے متعلقہ وزراء کو ان موضوعات پر بریف کرنا چاہیے۔ ہر سال ہمارے ڈیم پانی سے بھرتے ہیں اور ان کے فلڈ گیٹ کھولنے پڑتے ہیں جس سے نقصانات ہوتے ہیں یا پھر یہ ہوتا ہے کہ ہر سال ان ڈیموں میں پانی کی سطح اتنی گر جاتی ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کرنی پڑتی ہے۔ اس لوڈشیڈنگ پر ہمارے تمام چینل با جماعت ٹاک شوز کا وہ سلسلہ شروع کرتے ہیں جو اب  ایک دیرینہ مرض اور معمول بن چکا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا اس بحرانِ آب کا کوئی مستقل حل بھی ہے یا ہم ہر سال یہی رَٹ لگاتے رہیں گے:

کوئی پتہ تو دے کسی حاذق طبیب کا

ہر سال پیدا ہوتا ہے بچہ غریب کا

میں اپنے ایک عزیز سے کل رات بارانِ رحمت اور بارانِ زحمت کے موضوع پر بات کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رحمت اور زحمت دونوں معروضی حقائق ہیں۔ ہم جس کیفیت کو آج زحمت سمجھ رہے ہیں وہ کل کی رحمت بھی ہو سکتی ہے۔ پھر انہوں نے اپنا ایک واقعہ سنایا اور بتایا کہ وہ چند برس پہلے میلسی میں ایک ائر ڈیفنس بریگیڈ کی کمانڈ کر رہے تھے۔ یہی موسم تھا اور یونٹیں فائرنگ پریکٹس کے لئے باہر فیلڈ میں تھیں۔ وہ جب میلسی سے ٹامیوالی فائرنگ رینج کی طرف نکلے تو اچانک موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ جب آگے بڑھے تو راستے میں کپاس کی فصلوں میں دو دو فٹ پانی کھڑا تھا۔ 

یہ علاقہ کپاس کی کاشت کے لئے پاکستان بھر میں مشہور ہے۔ بارش تھمی تو راستے میں کپاس کے کھیتوں میں کھڑے کسانوں کو مغموم اور افسردہ پایا۔جیپ روک کر ان کے تاثرات معلوم کئے تو بہت دکھ ہوا۔ ان کی سال بھر کی محنت رائیگاں جا رہی تھی۔ انہوں نے آسماں کی طرف نگاہیں اٹھائیں اور کہا: ”اللہ مالک ہے!“…… کچھ آگے بڑھے تو ریگستانی علاقہ شروع ہو گیا۔ وہاں لوگ ڈھول کی تھاپ پر ناچ رہے تھے اور بارشوں کی کثرت پر خوشی کا اظہار کررہے تھے۔ ان سے پوچھا گیا تو کہنے لگے:”اللہ کی رحمت ہے۔ ہماری بارانی فصلوں کو پانی مل گیا ہے اور اب ہم سارا سال ’عیش‘ کریں گے“…… لہٰذا بارانِ رحمت اور بارانِ زحمت دونوں معروضی اصطلاحات ہیں …… پنجابی محاورے کے مطابق کسی کو ماش موافق، کسی کو ماش بادی!……

فلیش فلڈ (Flash Flood) ہمیشہ آبی بحرانوں کا باعث بنتے ہیں۔ صوبہ سندھ، دریائے سندھ کا ڈیلٹا ہے اور کراچی اس ڈیلٹا کے دہانے پر واقع ہے۔ سارا علاقہ ہموار ہے، کہیں نشیب و فراز نہیں۔ کوئی ٹیلے، ٹیکریاں یا پہاڑیاں نہیں اور زمین کا بہاؤ شمال سے جنوب کی طرف ہے۔ بارشیں صرف موسم برسات میں ہوتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ بھلے وقتوں میں کراچی میں بارشی نالوں کی نصف درجن تعداد تعمیر کی گئی تھی کہ مون سون میں جب بارشیں برسیں تو پانی ان نالوں میں بہہ کر سمندر میں چلا جائے اور کراچی کے رہائشی علاقے محفوظ رہیں۔ لیکن گزشتہ دو تین عشروں سے نہ تو ان نالوں کی صفائی کی گئی اور نہ ان تجاوزات کو روکا گیا جو صوبائی حکومتوں نے ان نالوں کے کناروں پر تعمیر کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ فلیش فلڈ کا سماں، اچانک پیدا ہو گیا ہے اور لوگوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا…… صوبائی حکومت کا یہ دعویٰ غلط نہیں کہ فلڈ کی وارننگ دے دی گئی تھی لیکن لوگوں نے کوئی انتظام نہ کیا اور اب رو رہے ہیں۔ حکومت سے پوچھا جا سکتا ہے کہ یہ غریب لوگ جو سیلاب کی زد میں آنے والے تھے کیا ان کے لئے کسی علیحدہ خیمہ بستی کا انتظام بھی کیا گیا تھا؟…… 

یہ غریب لوگ کچی پکی آبادیوں سے نکل کر کہاں جاتے؟ ان کا تو روزگار ہی ان علاقوں کے آس پاس تھا۔ حکومت کا فرض تھا کہ وہ موسمِ گرما (اپریل تا جون) میں ان نالوں کی صفائی کرواتی اور بوقت ضرورت ہنگامی حالات میں لوگوں کو خیمہ بستیوں میں منتقل کرتی۔ سیلاب کی صرف وارننگ جاری کرنا ہی حکومت کا کام نہیں تھا…… اور پھر سپریم کورٹ کے فاضل چیف جسٹس نے اپنے حالیہ دورے میں کراچی کی انتظامی اور انصرامی (Logistical) صورتِ حال پر جو تبصرہ کیا تھا، اس کا بھی قطعاً کوئی نوٹس نہ لیا گیا۔ سپریم کورٹ نے سرکلر ریلوے کے احیاء کے لئے بھی گزشتہ ریلوے لائن کے نواح میں تعمیر کی گئی تجاوزات کو ہٹانے کا جو حکم دیا تھا، اس کی تعمیل بھی ہنوز نہیں کی گئی۔

سیاسی مصلحتوں نے اس شہر کا بیڑا غرق کر رکھا ہے۔ بعض ٹی وی چینل بھی صوبائی حکومت کی توجہ اس طرف دلا رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ مرکزی حکومت کیا کر رہی ہے؟ اس کے 16 پی ٹی آئی اراکینِ قومی اسمبلی کو کراچی نے ووٹ دیا تھا۔ وزیراعظم اور صدر عارف علوی کو بھی 2018ء کے الیکشنوں میں فتح سے ہمکنار کیا تھا۔ اب یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟

میں اگلے روز بلاول بھٹو کا ایک انوکھا بیان میڈیا پر دیکھ رہا تھا۔ فرما رہے تھے کہ PPP کے اراکینِ اسمبلی اس وقت تک کراچی کی سڑکوں پر رہیں جب تک ان سڑکوں اور گلیوں سے نکاسیء آب کا کام مکمل نہ ہو جائے۔…… بندہ پوچھے گلیوں اور سڑکوں پر ان حضرات کے کھڑا ہونی سے کیا ان میں کھڑا پانی اتر جائے گا؟

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

جیسا کہ اوپر کہا گیا فلیش فلڈ دنیا بھر میں آبی بحرانوں کا سبب بنتے ہیں۔ سارا یورپ ایک وسیع و عریض اور ہموار میدان ہے۔ یوکرائن، سوئٹزرلینڈ اور اٹلی کے علاوہ کہیں بھی کوہستانی علاقے موجود نہیں۔ اس لئے گرین گیسوں کے سبب تقریباً ہر سال سیلاب آتے ہیں، امریکہ کے دونوں سواحل پر بھی آئے روز سائیکلونوں کا میلہ لگا ہوتا ہے۔ جانی اور مالی نقصانات بے اندازہ ہوتے ہیں۔ یہی حال چین کا بھی ہے اور آسٹریلیا کے چاروں طرف سمندر کے ساحلوں پر جو آبادیاں ہیں ان میں بھی سیلاب آتے رہتے ہیں اور آج بھی وہاں کے جنگلوں میں آگ بھڑک رہی ہے۔ کروڑوں جانور مر چکے ہیں اور انتقالِ آبادی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ لیکن میں نے آج تک وہاں کے کسی ٹی وی چینل پر ان آفاتِ ارضی کی ویسی مسلسل کوریج نہیں دیکھی جو ہمارے پاکستان میں دکھائی جا رہی ہے۔ انڈیا میں بھی یہی صورتِ حال ہے بلکہ وہاں کے آبی مسائل تو اتنے گھمبیر ہیں کہ ان پر ایک الگ کالم / آرٹیکل کی ضرورت ہے۔

آج ہم جسے بارانِ زحمت کہہ رہے ہیں وہ کراچی اور ملک کے دوسرے صوبوں میں تو شائد باعثِ زحمت ہو لیکن اس شر میں خیر کی بھی ایک صورت پنہاں ہے…… خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ ملک کے دو بڑے ڈیم پانی سے بھر گئے ہیں، اس لئے ان کے فلڈ گیٹ کھول دیئے گئے ہیں جبکہ اصل صورتِ حال یہ ہے کہ منگلا ڈیم میں پانی بھرنے کی گنجائش 1242فٹ ہے۔ یہ ڈیم چار سال بعد اب پانی سے مکمل بھرا گیا ہے۔ حال ہی میں اس کی تہہ کی صفائی کی گئی تھی اور اب نہ صرف خریف کے لئے اس ڈیم میں پانی کا ذخیرہ ہے بلکہ فصلِ ربیع (ہاڑی) کے لئے بھی پانی دستیاب ہو گا۔ یہ پانی نہ صرف دونوں فصلوں کے لئے قابلِ استعمال ہوگا بلکہ اس میں مچھلیوں کی افزائش بھی خاطر خواہ ہو گی۔ پہلے گرمیوں کے آتے آتے پانی کی سطح کم ہو جانے کی وجہ سے بجلی گھروں میں کیچڑ سے آلودہ پانی داخل ہو جاتا تھا، جس سے مشینری کو نقصان پہنچتا تھا اور پاور ہاؤس بند کرنے پڑتے تھے۔ نتیجتاً گرمیوں میں لوڈشیڈنگ کی مصیبت ہوتی تھی یا تھرمل بجلی کا سہارا لینا پڑتا تھا جن کے IPPیونٹ کی مہنگائی کا شہرہ سنتے سنتے خلقِ خدا تنگ آ گئی ہے۔ تربیلا ڈیم بھی بھر چکا ہے اور اس زاویئے سے دیکھا جائے تو یہ بارشیں، بارانِ زحمت کم اور بارانِ رحمت زیادہ ہیں!(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -