میئر کراچی سے جان چھوٹنے پر شہری یوم تشکر منا رہے ہیں: مصطفی کمال 

        میئر کراچی سے جان چھوٹنے پر شہری یوم تشکر منا رہے ہیں: مصطفی کمال 

  

 کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفی کمال نے کہاہے کہ کراچی والوں کی میئر سے جان چھوٹ گئی لوگ یوم تشکر منا رہے ہیں، ایم کیوایم اورپیپلزپارٹی والے دونوں ایک ہیں،متحدہ صوبہ بنانے کانعرہ لگاتی ہے، جس کافائدہ پیپلزپارٹی کواندرون سندھ میں ووٹ ملنے کی صورت میں ہوتاہے،لسانیت کارنگ دیگر دونوں جماعتیں اپنی اپنی چوریاں چھپانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔پاکستان ہاؤس میں منگل کی صبح پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق میئر کراچی سیدمصطفی کمال نے کہا کہ شکر ہے شہر میں چار سال سے مسلط بلدیاتی نمائندوں کا خاتمہ ہوا ہے، میئر کے لیے جو ریمارکس سپریم کورٹ نے دیئے وہ میئر کے لیے شرم کا مقام ہے۔انہوں نے کہاکہ چار سالہ بلدیاتی نظام کے خاتمے سے نحوست ٹل گئی، شکر ہے کراچی والوں کا امتحان ختم ہوا۔ شروع دن سے شہر کے مسائل کا حل بتا رہے ہیں، سندھ حکومت نے بھی اپنے عمل سے بتا دیا وہ کراچی دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کچھ منحوس لوگوں کی وجہ سے رحمتیں بند ہو جاتی ہیں، کراچی سے بد کردار لوگوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا۔انہوں نے کہاکہ کراچی کے مسائل ہم نے 16 نکات پر مشتمل مطالبات میں 2017 میں سامنے رکھے تھے، میرے دور میں کراچی 12 ترقی کرنے والے شہروں میں شامل تھا، آج 10 سال بعد کراچی 4 خراب ترین شہروں میں شمار ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2008  میں پی پی کی حکومت آئی،، ایک پتھر ایسا نہیں رکھا گیا جس کی فیس منظور کا کا نے آصف زرداری کو نہ دی ہو،اسی لیئے، منظور کاکا کو ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ بنایا گیا۔چیئرمین پی ایس پی نے کہاکہ ایم کیو ایم اور پی پی کے چکر میں سندھی مہاجر ایک دوسرے کو گالی نہ دیں، ہم کراچی کے مسائل کے حل کے چھ نکات پیش کر رہے ہیں۔مصطفی کمال نے کہا کہ کنٹرول بلڈنگ اتھارٹی شروع سے صوبائی حکومت کے ماتحت تھی،کنٹرول  بلڈنگ اتھارٹی کبھی بھی میئر کے ماتحت نہیں رہی۔انہوں نے کہاکہ ملک میں صحیح بات کو صحیح وقت پر تسلیم کرنے کا رواج نہیں، ایسا لگتا ہے صوبائی حکومت یا شہری حکومت نیوز کاسٹر ہیں، حکومت کا کام مسائل کی نشاندہی کرنا نہیں، مسائل حل کرنا ہے۔اس موقع پر مصطفی کمال نے مطالبہ کیا کہ کراچی کی مردم شماری صحیح کی جائے، صوبائی خودمختاری کی طرح اضلاع اور یونین کونسلز کو خود مختاری دی جائے اور شہر کی تمام اتھارٹیز کو ایک میئر کے ماتحت ہونا چاہیے۔

مزید :

صفحہ آخر -