نواز شریف کا مقدمہ

نواز شریف کا مقدمہ
 نواز شریف کا مقدمہ

  

نوازشریف کے مقدمے نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے، انہیں 10ستمبر تک اپنے آپ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پیش کرنا ہے وگرنہ عدالت عالیہ کی جانب سے انہیں مفرور قرار دینے کی کاروائی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ نواز شریف کی واپسی کے مطالبے کے ساتھ ہی مریم نواز شریف کی بھی واپسی شروع ہوگئی ہے، شہباز شریف بھی متحرک ہوگئے ہیں، کیا یہ سب کچھ نون لیگ کی واپسی پر منتج ہو سکتا ہے؟

اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیب، حکومت، عدلیہ اورمیڈیا نے بھی ایک ساتھ نون لیگ سے رجوع کرلیا ہے اور ان دنوں دن رات نواز شریف سے لے کر مریم نواز شریف اور ان دونوں سے لے کر شہباز شریف پر گفتگو ہوتی ہے۔ شریف قیادت فرنٹ پر جبکہ حکومت بیک گراؤنڈ میں جاتی نظر آرہی ہے۔

کہانی میں کوئی کردار  لمحے  بھر کو آتا ہے 

پھر اس کے بعد قصے کا فقط انجام ہوتا ہے

نواز شریف کو 29اکتوبر 2019کو اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے طبی بنیادوں پر العزیزیہ ریفرنس میں ضمانت دی تھی۔ تب تک انہیں Immunity System Disorderکی بیماری لاحق ہو چکی تھی جو کسی بھی جسم کے دفاعی نظام کی ناکامی پر منتج ہوسکتی ہے۔ جب نواز شریف کو نیب کی حراست سے اسپتال لایا گیا تو ان کے پلیٹ لیٹس 16000کی سطح پر آچکے تھے جو ایک صحت مند جسم میں لگ بھگ  150,000کے آس پاس ہوتے ہیں، اس وقت 69برس کے نواز شریف کو دل کا عارضہ، شوگر اور گردے کے مسائل علیحدہ سے لاحق تھے۔ چنانچہ بیرون ملک علاج کی غرض سے انہیں چار ہفتے کے لئے لندن جانے کی اجازت مل گئی تھی۔ 23دسمبر2019کو نواز شریف کی جانب سے پنجاب حکومت کو ایک درخواست دی گئی وہ ان کے خلاف ریفرنس میں سزا کی معطلی کو جاری رکھے کیونکہ تب تک ان کا علاج نہیں ہوپایا تھا۔ 9مارچ 2020کو پنجاب حکومت کی ایک خصوصی کمیٹی نے اس درخواست کو مسترد کردیا اور ان کی درخواست کے ساتھ لف ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس کے خط کو بھی خاطر میں نہ لایا گیا۔

پنجاب حکومت نے ان کی درخواست کو اس سپیشل میڈیکل بورڈ کی درخواست پر مسترد کیا تھا جس نے نواز شریف کے وکیل کی جانب سے داخل کی جانے والی میڈیکل رپورٹ کو ناکافی جانا تھا اور مزید ٹیسٹوں سمیت تازہ رپورٹ کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم نون لیگ نے پہلے سے داخل شدہ رپورٹوں پر انحصار ہی کافی جانا اور پنجاب حکومت سے فیصلے کی استدعا کی۔ چنانچہ پنجاب حکومت کے بورڈ کا خیال تھا کہ ریکارڈ پر ایسا کچھ بھی نہیں ہے جس سے قیافہ کیا جاسکے کہ نواز شریف لندن میں اپنے علاج یا اسپتال میں داخل ہونے میں سنجیدہ ہیں۔ اس کے برعکس وہ ہشاش بشاش پارٹی میٹنگوں اور فیملی کے ساتھ صحت مند سرگرمیاں کرتے پائے گئے تھے۔ یہ ہے وہ بیک گراؤنڈ جس کے تحت اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو 10ستمبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ 

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ پنجاب حکومت کو حکم دے چکی ہے کہ وہ نواز شریف کو علاج کی غرض سے چار ماہ کے لئے ملک سے باہر جانے دے اور اس دوران وہاں سے موصول ہونے والی رپورٹیں تسلسل کے ساتھ عدالت میں جمع کروائے۔ اس اثناء میں اگر نواز شریف اپنے مدت قیام میں توسیع چاہیں تو پنجاب حکومت سے رجوع کرسکتے ہیں جو کہ وہ کرچکے ہیں اور وہاں سے انکار ہوچکا ہے۔ تاہم اس سے قبل کہ لاہور ہائیکورٹ اس ضمن میں مزید کوئی کاروائی کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں العزیزیہ ریفرنس کی اپیل کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔ 

قانون کے مطابق نواز شریف اس ضمن میں ابھی بھی عدلیہ سے رجوع کرکے پنجاب حکومت کی جانب سے ضمانت میں توسیع نہ کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کا فورم بھی ان کے پاس موجود ہے جہاں علاج معالجے کی تمام تر صورت حال بیان کرکے حکم امتناعی لیا جا سکتا ہے۔ اس لئے فوری طور پر نواز شریف واپس پلٹتے دکھائی نہیں دیتے اور اس حوالے سے حکومت کو انہیں مفرور قرار دلوانے کے لئے ابھی بہت سے قانونی تقاضوں کے پل پار کرنے ہوں گے۔

مزید :

رائے -کالم -