ممکنہ، سیلاب دریائے چناب کے بیڈ میں رہائش پذیر افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونیکی وارننگ 

ممکنہ، سیلاب دریائے چناب کے بیڈ میں رہائش پذیر افراد کو محفوظ مقامات پر ...

  

  ملتان+ کوٹ ادو + گڑھ مہاراجہ  (سٹی رپورٹر‘ وقائع نگار‘ تحصیل رپورٹر‘ نامہ نگار) ممکنہ سیلاب کے پیش نظر ضلع ملتان میں فلڈ فائٹنگ کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں ہیں جب کہ ڈی سی آفس میں فلڈ کنٹرول روم بھی قائم کردیا گیا ہے۔دوسری طرف دریائے چناب کے بیڈ میں رہائش پذیر افراد کو ہر صورت محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے،ساتھ ہی ڈپٹی کمشنر عامر خٹک کی ہدایت پر ضلع میں 13 فلڈ ریلیف کیمپس بھی قائم کر دئیے گئے ہیں۔ملتان تحصیل صدر میں 3 اور ملتان تحصیل سٹی میں 1 شجاع آباد 6 اور جلالپور پیر والا میں 3 فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیئے گئے ہیں۔شجاع آباد میں بگڑیں اور خانپور قاضیاں میں طاہر پور، ماہڑہ،گردیز اور جلال پور کھاکھی میں جلالپور پیر والا میں کینال ریسٹ ہاؤس (بقیہ نمبر1صفحہ6پر)

بہلی میں فلڈ کیمپ قائم کر دئیے گئے ہیں۔شجاع آباد میں بہاراں اور خان بیلہ میں اور جلالپور پیروالا میں سرکاری سکولوں میں ریلیف کیمپس قائم کئے گئے ہیں اور ریلیف کیمپس کے لئے ریونیو سٹاف کا ڈیوٹی روسٹر جاری کر دیا گیا ہے۔ملتان میں لک والا،چناب چوک،محمد پور گھوٹہ اور شیر شاہ میں متعلقہ محکموں نے کیمپ لگا دیئے ہیں اور محکمہ لائیو سٹاک نے مویشیوں کی ویکسی نیشن شروع کر دی ہے۔ریسکیو 1122کی ٹیموں نے بھی مطلوبہ مشینری کے ہمراہ اپنے کیمپس لگالئے ہیں،فلڈ آنے کی صورت میں ضلع کے69مواضعات زیر آب آنے کا خدشہ ہے اور تحصیل ملتان سٹی کے12 اور تحصیل صدر کے بھی12 مواضعات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ممکنہ سیلاب کی صورت میں شجاع آباد کے27 اور جلاپورپیر والا کے18 مواضعات زیر آب آ سکتے ہیں۔ دریائے چناب میں ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لئے انتظامیہ متحرک ہے۔ڈپٹی کمشنر عامر خٹک اور سی پی او محمد حسن رضا خان نے گزشتہ روز دریائے چناب کے کنارے واقع مواضعات کا دورہ کا دورہ کیا۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد طیب خان،اے سی سٹی عابدہ فرید، اے سی صدر شہزاد محبوب،ریونیو آفیسر سہیل کھوکھر،محکمہ صحت،لائیو سٹاک،ریسکیو  کے افسران بھی انکے ہمراہ تھے۔ڈپٹی کمشنر اور سٹی پولیس آفیسر نے محمد پور گھوٹہ،قاسم بیلہ اور جلال آباد، چناب چوک اور شیر شاہ فلڈ میں قائم ریلیف کیمپس کا معائنہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لئے تمام متعلقہ محکمے الرٹ ہیں،فلڈ فائٹنگ کے لئے دو ماہ سے تیاری جاری ہے،انہوں نے بتایا کہ دریائے چناب میں پانی کی موجودہ صورتحال کے مطابق ضلع ملتان میں سیلاب کا خطرہ نہیں ہے،ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کی سطح کم ہورہی ہے جبکہ دریائے چناب میں ملتان کی حدود سے اس وقت ایک لاکھ55 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے،توقع ہے کل سے پانی کی سطح کم ہونا شروع ہو جائے گی،عامر خٹک نے بتایاکہ تمام محکموں کی تیاریاں مکمل ہیں اور ضلع میں 13 مقامات پرفلڈ ریلیف کیمپس لگا دئے گئے ہیں،کیمپس کے لئے ریونیو سٹاف کاڈیوٹی روسٹر جاری کردیا گیا ہے۔ریسکیو 1122دریائی علاقے میں رہنے والوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہا ہے،جانوروں کی ویکسینشن کا کام جاری ہے۔سٹی پولیس آفیسر محمد حسن رضا خان نے اس موقع پر بتایا کہ پولیس کو دریائی علاقوں میں پٹرولنگ کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔دریائی علاقوں میں لوگوں کے مال اور مویشیوں کی مکمل  حفاظت کی جائے گی۔دریائے چناب کے ساتھ اہم گزر گاہوں پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر ضرورت پڑی تو پولیس لوگوں کے انخلاء میں ضلعی انتظامیہ کو سپورٹ کرے گی۔ دریائے چناب میں پانی کا لیول بڑھنے اور قریبی علاقہ جات زیر آب آنے پر ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے ان علاقوں میں کیمپس کا انعقاد کرکے امدادی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔گزشتہ روز بھی ریسکیو نے محمد پور گھوٹہ اور دیگر علاقوں میں مکینوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کے ساتھ ان کے مال مویشیوں کو بھی ان کے حوالے کیا۔ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر کلیم کے مطابق امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ باہو برج کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا ہے،گزشتہ روز ہیڈ تریموں سے گزرنے والے سیلابی ریلے کی وجہ سے باہو برج کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے ہو رہا ہے جس سے دریائے چناب کے کنارے نشیبی علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہو گیا ہے۔سیلابی پانی سے 15موضعات سے زائد زیر آب آ چکے ہیں جبکہ سینکڑوں ایکٹر کھڑی فصلوں میں پانی داخل ہو چکا ہے جس سے فصلوں کو شدید نقصان کا اندیشہ ہے۔ سیلابی پانی سے متاثرہ دیہاتوں کے مکینوں کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی جاری ہے۔ ریسکیو 1122کی ٹیمیں امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ محکمہ لائیو سٹاک نے بھی کیمپ لگا کر جانوروں کا علاج معالجہ اور ویکسین شروع کر دی ہے۔  ریسکیو 1122 ملتان نے ملتان میں سیلاب کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر  ایمرجنسی پلان ترتیب دے دیا ہے۔کیونکہ ضلع میں موسم کی موجودہ صورتحال اور سیلاب کے حوالے سے متعلقہ محکموں سے ملنے والی معلومات کے پیش نظر دریائے چناب کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ موجود ہے اس لئے ڈپٹی کمشنر ملتان نے ایسی آبادی کیلئے فلڈ وارننگ جاری کی ہے فلڈ وارننگ کے جاری ہوتے ہی فلڈ کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے جو کہ 24گھنٹے کا م کر رہا ہے مزید ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ملتان ڈاکٹر کلیم اللہ نے دریا ئے چناب کے تمام نشیبی علاقوں کا دورہ کیا اور ساتھ ہی اپنی فلڈ فائٹنگ ٹیم کے کیمپس لگوادئیے ہیں اب تک تحصیل سٹی اور صدر ملتان میں ریسکیو 1122کے 5فعال کیمپس لگ چکے ہیں ہر ایک کیمپ میں 3کشتیاں بمعہ انجن اور 10 ریسکیورز کا عملہ تعینات کیا جا چکا ہے متاثرہ آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل شروع ہو چکاہے تحصیل شجاع آباد اور جلالپور پیر والہ میں بھی دریائے چناب کے نشیبی علاقوں میں ہر تحصیل میں ریسکیو 1122کے2 کیمپس لگا دئیے ہیں تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں آبادی کا فوری طور پر انخلاء  کیا جائے اور محفوظ علاقوں تک منتقل کیاجائے فلڈ فائٹنگ کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام ریسکیو رزکی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور اضافی ڈیوٹیاں لگادی گئی ہیں  محکمہ موسمیات کی رپوٹ کے مطابق جنوبی پنجاب میں بارشوں کو سلسلہ شروع ہوچکاہے جس سے اربن فلڈنگ اور سیلاب کے خدشات درپیش ہیں ریسکیو 1122 ملتان نے ڈسٹرکٹ ایمر جنسی آفیسر ریسکیو 1122 ملتان ڈاکٹر کلیم اللہ نے تمام ریسکیورز کو ہدایت دیں کہ وہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر تیار رکھیں۔متوقع بارشوں کے پیش نظر عوام الناس احتیاطی تدابیر اپنائیں اور اپنی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں انہوں نے کہا کہ موسم برسات میں عوام الناس کو احتیاطی تدابیراور حفاظتی اقدامات سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے انسانی جان ومال کو خطرات لاحق ہوتے ہیں انہوں نے عوام الناس سے درخواست کی کہ وہ برسات کے موسم میں مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات پر عمل پیرا ہوں۔ برسات سے پہلے بوسیدہ، کچے مکانات میں رہائش ترک کر دیں یا ان کی مناسب مرمت کا انتظام کریں۔ ملک کے سب سے بڑے دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤمیں اضافہ جاری،چشمہ کے مقام پربھی پانی کے بہاؤ بڑھ گیا،تونسہ بیراج کے مقام پر بدستور درمیانے درجے کا سیلاب ہے، حفاظتی اقدامات کے تحت مظفرگڑھ کنیال،ٹی پی لنک کنیال اور ڈی جی خان کنیال کو بند کردیا،گیا، حال ہی میں شمالی علاقہ جات وملک کے دیگر حصوں میں شدید بارشوں کے باعث ملکی دریاؤں میں دوبارہ شدید طغیانی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے جسکی وجہ سے دریاؤں اور بیراجوں پر پانی کے بہاؤ میں کئی روز سے اضافہ ہونا شروع ہو گیاہے،ملک کے سب سے بڑے دریائے سندھ میں بھی پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے،اس وقت،تونسہ بیراج کے مقام پر پانی کی آمد 379446کیوسک جبکہ اخراج 379046 کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا،چشمہ بیراج کے مقام پر پانی کی آمد 272639کیوسک جبکہ اخراج 273136کیوسک پانی کا بہاؤ ہے اور تونسہ بیراج کے مقام پر اس وقت درمیانے درجے کا سیلاب ہے، دوسری طرف محکمہ انہار نے حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے تونسہ بیراج سے نکلنے والی لنک نہروں مظفر گڑھ کینال،ٹی پی لنک کینال، ڈی جی خان کینال کو بند کر دیا گیا ہے اور کچھی کنیال میں 2سو کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے،دریائے سند ھ میں سیلابی صورت حال کے باعث تونسہ بیراج کے بیٹ کے کچے کے علاقوں سمیت دائرہ دین پناہ، احسانپور، پہاڑ پور کے بیٹ کے علاقوں نشان والا،خادم والی،لومڑ والا،فقیر والی سمیت دائرہ د ین پناہ، احسانپور، پہاڑ پور کے بیٹ کے علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہو گیا ہے،انتظامیہ کی طرف سے کوئی حفاظتی بدابیر نہیں کی گئی جسکی وجہ سے بیٹ کے علاقوں کے مکین اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی شروع کردی ہے، ادھرکسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر عباس والا بند سمیت تمام حفاظتی بندوں پشتوں کی مسلسل کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔

سیلاب

مزید :

ملتان صفحہ آخر -