موسلادھار بارشیں، سیوریج نظام درہم برہم، فیڈ ر ز ٹرپ، کئی علاقوں کی بجلی بند 

      موسلادھار بارشیں، سیوریج نظام درہم برہم، فیڈ ر ز ٹرپ، کئی علاقوں کی ...

  

  ملتان،راجن پور، وہاڑی، چوٹی زیریں، لودھراں، جتوئی، باگڑ سرگانہ، صادق آباد، گڑھ مہاراجہ، خانیوال، جا م پور، عبدالحکیم، کوٹ سبزل، بٹہ کوٹ، بارہ میل(وقائع نگار، سٹی رپورٹر، بیور و رپورٹ، نامہ نگار، ڈسٹرکٹ رپورٹر، نمائندگان پاکستان) ملتان شہر میں موسلا دھار بارشوں کے باعث دو گھروں کی چھت گر گئی۔جس کے نتیجے میں خواتین سمیت دس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔پہلا واقعہ گزشتہ روز فاطمہ جناح ٹاؤن میں پیش آیا۔جب مسلسل  بارش کے باعث (بقیہ نمبر2صفحہ6پر)

ایک مکان کی چھت گر گئی۔جس کے ملبے تلے خاتون سمیت دو افراد دب گئے۔جن کو ریسکیو نے  زخمی حالت میں ملبے سے باہر نکالا۔اور انکو طبی امداد دیکر نشتر ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔دوسرا واقع پیراں غائب روڈ پر پیش آیا۔جہاں پر بھی بارش کی وجہ سے بوسیدہ کمرے  کی چھت گر گئی۔جس کے نتیجے میں 8 افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہوگئے۔اطلاع  ملتے ہی ریسکیو  کی ٹیمیں موقع پر  پہنچ گئیں۔جہنوں نے زخمیوں کو طبی امداد دی۔ چھ معمولی زخمیوں کو موقع سے فارغ کردیا گیا۔جبکہ دیگر دو زخمیوں کو تشویشں ناک  حالت میں نشتر ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ھہاں انکی حالت خطرے میں بتائی جارہی ہے۔ سوموار کے روز سے ملتان میں وقفے وقفے سے شروع ہونے والا بارش کا سلسلہ منگل کے روز بھی جاری رہنے پر  واسا میں بدستور ہائی الرٹ رہا تمام  سیوریج، ڈسپوزل اسٹیشن ڈویثرنوں کے افسران، سٹاف  اپنی اپنی حدود میں بارش کے پانی کی نکاسی  پر مامور رہے شہر بھر کے مختلف علاقوں  میں اربن فلڈنگ کے لیے شروع ہونے والا  آپریشن سوموار اور منگل کی درمیانی شب بلا تعطل جاری رہا اور منگل کی صبح سے  ڈے ٹیموں نے ذمداری سنبھال لیں واسا میں نئے تعینات ہونیوالے منیجنگ ڈائریکٹر واسا  ناصر اقبال نے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے نکاسی آب کے انتظامات کا جائزہ لیا اس دوران ایم ڈی واساکو سوموار صبح 8 بجے سے منگل صبح 8 بجیتک 24 گھنٹوں میں ریکارڈ کی جانے والی بارش سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق  چونگی نمبر 9 ڈسپوزل اسٹیشن پر 99 ملی میٹر،کڑی جمنداں ڈسپوزل اسٹیشن پر48 ملی میٹر، سمیجہ آباد ڈسپوزل اسٹیشن پر 43 ملی میٹر جبکہ پرانا شجاع آباد روڈ ڈسپوزل سٹیشن پر سب سے زیادہ زیادہ102 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جس پر ایم ڈی واسا نے نے ڈیوٹی پر مامور فیلڈ افسران اور سٹاف کی  حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی کارکردگی کی تعریف کی اور تمام سیوریج افسران کو  شاہراوں کے ساتھ ساتھ نشیبی علاقوں سے بھی بارش کے پانی کو بروقت نکالنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے، نکاسی آب کا آپریشن مکمل ہونے تک فیلڈ میں موجودگی یقینی بنانے اور آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیشگوئی پر ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی   راجن پو ر کے پہاڑی سلسلہ ماڑی پرموسلادھار بارش کے بعد کاہاسلطان، چھاچھڑ،زنگی، سوری جنوبی سے آنے والے تقریباً 70 ہزار کیوسک کاسیلابی ریلہ راجن پور کے زمینی علاقوں میں رواں دواں ہے تحصیل جام پور میں موضع سون واہ اور چک شہید میں دو جگہوں پرفلڈ بند میں کٹاؤ سے کئی ایکڑ رقبہ زیر آب آگیا ہے قطب ڈرین میں داخل سیلا بی پانی سے محمد پور گم والا کے قریب قدیم سیم نالہ پُل ٹوٹ گیا جس سے محمدپور گم والا، دھندی، چک شکاری چک دلیل سمیت کئی دیہات کازمینی رابطہ راجن پور شہر سے منقطع ہو گیا ہے علاقہ مکین محصور ہوکررہ گئے ہیں ادویات،خوراک سمیت دیگر اشیاء خوردو نوش کی ترسیل پانی کے مکمل خشک ہو نے تک معطل ہوگئی ہے تحصیل روجہان میں سیلابی پانی سے اوزمان روڈ پانی میں ڈوب گئی بارڈر ملٹری پولیس چوکی بھی سیلا بی پا نی میں گھر گئی جبکہ روجہان کے قرہیب سخی رندان قبرستان میں سیلاب کا پا نی داخل ہو گیا ہے شاہ والی کی سڑک سیلا ب کے باعث شدید متاثر ہوچکی ہے تاہم ضلعی انتظا میہ نے نزدیکی آبادیوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہو نے کے ساتھ ساتھ محکمہ انہار،ریو نیو، ریسکیوڈبل ون ڈبل ٹو کوالرٹ جاری کرتے ہوئے فیلڈ میں رہنے کی ہدایات جاری کردی ہیں ریسکیوڈبل ون ڈبل ٹو کے انچارج ڈاکٹر محمداسلم نے ریسکیو اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں ادھر کاہاسلطان نالے اور چھاچھڑ نالے میں پانی بالکل ہی ختم ہو چکا ہے کاہا نالے سے اخراج تین ہزار کیوسک رہ گیا ہے ضلعی انتظا میہ کے مطا بق حالیہ رودکوہی سیلاب سے راجن پور میں اس وقت کسی قسم کا جا نی ومالی نقصان نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کہیں فصلات زیر آب آئی ہیں۔ شہر اور گردونواح میں دوسرے روز بھی گہرے بادلوں کا راج رہا دن بھر وقفہ وقفہ سے بارش کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا نشیبی علاقوں میں بارش کے پانی کے باعث مکینوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا جبکہ شہر میں بارش کے باعث بازار ویران نظر آئے اکا دکا لوگ ہی خریداری کرنے کیلئے گھروں سے نکلے بارش کے باعث بجلی کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا متعدد فیڈرز ٹرپ کرنے کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہی جس سے مکین پریشانی کا شکار رہے بارش برسنے سے کء علاقوں میں سیوریج کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا بارش کے پانی کے ساتھ ہی سیوریج کا پانی سڑکوں پر اکٹھا ہوگیا ماہرین کے مطابق بارش کا سلسلہ آئندہ چند روز تک جاری رہے گا چوٹی زیرین میں گزشتہ صبح سے شام تک مسلسل بارش کا سلسلہ جاری رہا جس سے موسم خوشگوار ہوگیا خانیوال میں دوسرے روز بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث شہر بھر کی گلیاں سٹرکیں اور بازار تلاب کا منظر پیش کررہی ہیں جبکہ نشیبی علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا۔شہریوں نے انتظامیہ کی ناقص کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ بارشوں کی پیشگی اطلاعات کے باوجود نالیوں کی صفائی نہ ہونے اور سیوریج چوک ہونے کے باعث کچہری بازار،چوک سنگلاں والا،اسلام پارک،لکڑ منڈی،مڈو والا چوک،اولڈ خانیوال چوک جسونت نگر فاروق اعظم چوک،کالونی نمبر1تا 3،طارق آباد،بلاک نمبر1تا16،پیپلز کالونی سول لائن چک شہانہ روڈ،اعوان چوک،کوٹ آلہ سنگھ،گرین ٹاون،فضل پارک روڈ شہر اور گرد و نواح کے متعدد علاقوں بارش کا پانی جمع ہوگیا ہے جبکہ کئی علاقوں میں بجلی کی بندش اور بارش کے باعث بجلی کے میٹر جل جانے سے عوا م کو مشکلات کا سامنا ہے عوامی سماجی تجارتی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی سے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ہلکی  سی بارش نے میونسپل  کمیٹی جتوئی انتظامات کے پول کھول دیے نکاسی آب نہ ہونے کی وجہ سے شہر کے مین سٹرکیں اور گلیاں تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں اور بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو چکا ہے اور پیدل چلنا بھی محال ہو چکا ہے  شہریوں  نے یہ بھی کہا کہ میونسپل کمیٹی جتوئی میں ہر ماہ ڈیزل پٹرول کی مد لاکھوں روپے کے بل نکلوائے جاتے ہیں مگر آج تک کسی نے نے بھی مقامی  ایم این اے ایم پی اے نے آج تک جتوئی شہر کی عوام پر توجہ نہیں دی  ملک بھر کی طرح باگڑ سرگانہ میں بھی آج دوسرے روز وقفے وقفے سے بارش کا جوسلسلہ شروع ہوا تھااس سے نظام زندگی بُر ی طرح متاثر ہوا اندرون شہر کئی سالوں سے ٹوٹ پھوٹ کاشکار نالیاں اورگلیاں تالابوں کامنظر پیش کرنے لگیں ہیں گھروں میں پانی داخل ہونے سے لوگ خاصے پریشان نظر آئے

 گلیوں میں پانی ہونے سے خواتین مردبچے عام شہری اورنمازیوں کوانتہائی دشواری کا سامنا کرنا پڑاہے اس کے ساتھ ساتھ کئی غریبوں کی چھتیں اور دیواریں بھی زمین بوس ہوچکی ہیں۔  گزشتہ دنوں سے ہونے والی طوفانی بارشوں کے باعث احمد پورلمہ،صادق آباد سمیت ودیگر علاقے بارش کے پانی سے بھر جو تالابوں کا منظر پیش کرنے لگے جس سے متعدد علاقوں میں درخت،بجلی پولز،اور سیوریج سسٹم کا نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگے احمدپورلمہ اور محلہ ہاشمی کالونی کے قریب اور کشمور روڈ پر درخت گرنے کے واقیعات پیش آئے جبکہ ہاشمی کالونی گلی نمبر2 میں طوفانی بارش کیوجہ سے  مین گلی کے سیوریج سسٹم بہہ جانے سے گلی کا فرش بھی زمین بوس ہوگیا جو کسی بھی وقت جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے جبکہ صادق آباد شہر کی شاہرائیں بازار اور گلی محلے بارش کے پانی سے بھر گئے نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا طوفانی بارش کا پانی درجنوں کالونیوں اور ٹاؤنز کے مکینوں کے گھروں میں داخل ہوگیا گڑھ مہاراجہ کے علاقہ کچا پکا روڈ آبادی ملکی شریف میں شدید بارش کے باعث مکان کی چھت گر گئی۔ چھت گرنے سے خواتین بچوں سمیت 6  افراد ملبے تلے دب گئے حادثہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122موقع پر پہنچ گئی اور امدادی کاروائی کرتے ہوئے تمام افراد کو ملبے سے نکال کر طبی امداد فراہم کی تاہم زخمیوں میں تمام کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے ملبے تلے دب کر زخمی ہونے والوں میں ساجد عباس، نوید عباس، نعلین عباس، ظفر مائی،شہناز مائی اورفرہا شامل ہیں تیز بارش کے باعث چھت گرنے کے 5 مختلف حادثات میں 8 افراد زخمی جبکہ 05 جانور بھی ہلاک ھوگئے ر یسکیو ذ رائع کے مطابق رات گئے سے تیز بارش کے باعث چھتیں اور دیوار گرنے کے مختلف حادثات رونما ہوئے اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئی ریسکیو ٹیم نے ریسکیو آپریشن کرکے متاثرین کو ملبے سے نکالا ریسکیو ٹیم نے حادثات کے دو زخمیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی حادثات کے چھ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ھسپتال منتقل کیالودھراں پبلک سکول کے قریب جانوروں کا شیڈ گرنے سے پانچ جانور بھی ہلاک ھوئے ریسکیو ٹیم نے جانوروں کو ملبے سے نکالا اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر سید ماجد  ا حمد  نے کہا کہ شہری مخدوش عمارتوں سے دور رھیں تاکہ عمارت گرنے کی صورت میں جانی نقصان نہ ھو شہری بارش کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔وزیر علی پنجاب کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر راجن پور   نے مون سون کی بارشوں کی وجہ سے کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے تمام افسران کی چھٹیاں منسوغ کر دی ہیں۔ تمام افسران اور این ڈی ایم کو سیلاب سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی وضع کرنے کا حکم دیا ہے۔ ہیلتھ اور تعلیم اور ریسکو کے شعبوں کو پلان ترتیب دینے کی ہدایت کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر راجن پور نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر مون سون کی بارشوں اور متوقع سیلاب سے نمٹنے کے لیے تمام محکموں کے سربرہان کی چھٹیاں منسوغ کر تے ہوئے پلان ترتیب دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ کوئی افسر اجازت کے بغیر اسٹیشن نہیں چھوڑ سکیں گے۔  ملک کے دیگر علاقوں کی طرح عبدالحکیم میں بھی کئی ماہ کی انتظار کے بعد بالآخر ساون کی جھڑی لگ گئی ہے دو روزکی مسلسل بارش کے باعث شدید گرمی کی لہر ٹوٹ گئی ہے موسم خوش گوار ہوگیا ہے بارش کو ترسے لوگوں نے بارش کو خوب انجوائے کیا اور شکرانے کے نوافل ادا کیئے۔مسلسل بارش کے سبب اندرون بازارملتان روڈ،کچاکھوہ روڈ پر بارش کا پانی جمع ہوگیا ہے راہگیروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،محکمہ موسمایات کی پیشین گوئی کے مطابق بارش کا متذکرہ سلسلہ اگلے تین روز تک جاری ہے گا  حالیہ بارشوں کی وجہ سے کوٹ سبزل شہر میں  نکاسی آب نہ ہونے کی وجہ سے شہر کے مین سٹرکیں اور گلیاں تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں اور بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو چکا ہے اور پیدل چلنا بھی محال ہو چکا ہے  شہریوں  نے یہ بھی کہا اس وقت ایڈمنسٹریٹر اسسٹنٹ کمشنر صادق آباد ہیں جنہوں نے کوٹ سبزل کو لاوارث سمجھا ہوا ہے بنیادی مرکز صحت کے سامنے ڈھنڈی روڈ پر بارشوں کا پانی تالاب کی شکل میں موجود ہے روڈ پر تجاوزات اور نکاسی بند ہے حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی کسی کو کوئی ڈر نہیں کہ تجاوزات کرنا یا سڑک کی توڑ پھوڑ یا سڑک کی نکاسی آب کو بند کرنا کوئی جرم نہیں سمجھا جاتا اہلیان کوٹ سبزل عبدالواسع، سلیمان خان،شکیل خان جونا، حاجی گل حسن جونا، سیٹھ عبدالعزیز جونا،حاجی ریاض علی،چوہدری اویس مقصود اور دیگر نے ڈی سی رحیم یار خان کمشنر بہاولپور پور اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے کوٹ سبزل شہر کی حالت زار پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ”عملہ بلدیہ حسب معمول غائب“چو دہ گھنٹے کی بارش نے شہر اور ملحقہ علاقوں میں جل تھل کردی، ڈسپو زل ورکس کی بھاری بھر کم قیمتی موٹر یں بند، گلی محلے،تجارتی مراکز پانی میں ڈوب گئے،انتظامیہ غائب، گزشتہ شام شروع ہو نے والی تیز رفتار با ر ش سے مخدوم پوروڈ، مین بازار، شارٹ بازار، اولڈ کچہری روڈ، خانیوال روڈ، سٹی گیٹ، شہرموڑ، محلہ پیر کبیرؒ، محلہ سعید آبا د،کینال روڈ،نواں شہر سیداں سمیت شہر اور دیگر ملحقہ علاقوں میں گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا ہو گیا جس سے نظام زند گی فلوج ہو کررہ گیا، میو نسپل کمیٹی حکا م حسب ِمعمول کان لپیٹ کر سوئے رہے، نکاسی آب سسٹم مکمل طور فلا پ ہونے کے ناجود انتظامیہ کے ذمہ دار آفیسر صبح گئے دفاتر سے غائب پائے گئے، شہریوں،سماجی حلقوں نے نکاسی آب سسٹم کی ناکامی پر شدید احتجاج کرتے ہو ئے ایڈ منسٹریٹر بلدیہ اور دیگر ذمہ داران سے برساتی پانی سے ہنگامی بنیادوں پر نمٹنے کامطالبہ کیا ہے۔ 

بارش

مزید :

ملتان صفحہ آخر -