وزیر اعلٰی پنجاب عثمان بزدار کی وزیر اعظم سے ملاقات، دو سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کی، گندم کی بڑی کھیپ پہنچ گئی، قیمتوں اور فراہمی کی نگرانی خود کرونگا: عمران خان 

      وزیر اعلٰی پنجاب عثمان بزدار کی وزیر اعظم سے ملاقات، دو سالہ کارکردگی ...

  

لاہور(جنرل رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے وزیراعظم سے ملاقات کرکے انھیں صوبائی حکومت کی 2 سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کر دی۔تفصیل کے مطابق لاہور میں وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ملاقات کرکے صوبے کے انتظامی اور سیاسی امور پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر بلدیاتی انتخابات اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ تعلقات پر بھی بات چیت کی گئی۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان خصوصی دورے پر لاہور پہنچے  جہاں  انہوں نے مختلف اجلاسوں کی صدارت کی۔  وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتی اقدامات کی بدولت تعمیرات کے شعبے کو حوصلہ افزا ء فروغ حاصل ہوا ہے،راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ منصوبہ لاہور کے رہائشیوں اور سمندر پار پاکستانیوں کے لئے ایک شاہکار منصوبہ ہو گا،منصوبے کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ اور اس ضمن میں کسی بھی انتظامی رکاوٹ کو فوری دور کیا جائے۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت راوی ریورفرنٹ اربن ڈویلپمنٹ منصوبے پر پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، مشیر وزیر اعظم بیرسٹر شہزاد اکبر، معاون خصوصی سید ذولفقار عباس بخاری، صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان، چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر)انور علی حیدر، چیئرمین راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ راشد عزیز اور سینئر سرکاری افسران شریک ہوئے۔چیئرمین راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ نے منصوبے کی ٹائم لائنز، منصوبے میں بیرونی سرمایہ کار کمپنیوں کی گہری دلچسپی، انفراسٹرکچر کے حوالے سے ریگولیشن اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔وزیراعظم عمران خان نے منصوبے کی تکمیل میں اعلی بین الاقوامی تعمیراتی معیار، ماحول کے تحفظ، لاہور میں پانی کی کمی اور آبی آلودگی کے مستقل حل کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ منصوبے کی جلد تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں حکومتی اقدامات کی بدولت تعمیرات کے شعبے کو حوصلہ افزا فروغ حاصل ہوا ہے۔وزیراعظم نے بیرونی سرمایہ کار کمپنیوں کی منصوبے میں دلچسپی کو سراہتے ہوئے کہا کہ لاہور کے رہائشیوں اور سمندر پار پاکستانیوں کے لئے یہ منصوبہ ایک شاہکار ہو گا۔وزیراعظم عمران خان نے منصوبے کی مانیٹرنگ روزانہ کی بنیاد پر کرنے اور اس ضمن میں کسی بھی انتظامی رکاوٹ کو فوری دور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کو منصوبے پر پیشرفت کے حوالے سے مسلسل آگاہ رکھا جائے۔

وزیر اعظم  عمران خان

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گندم کی بڑی کھیپ پہنچ گئی جبکہ چینی بھی درآمد کی جا رہی ہے، عوام کو گندم، چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو خود مانیٹر کروں گا۔ گندم اور چینی کی ملک میں سپلائی پاکستان ریلویز کے ذریعے کی جائے۔وزیراعظم عمران خان نے یہ بات وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کراچی کی صورتحال اور امدادی کاموں پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں  کراچی جا رہا ہوں، وہاں حالات کا خود جائزہ لوں گا۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ اورسیوریج سمیت تمام مسائل کو حل کریں گے۔ مجھے کراچی کے شہریوں کی مشکلات کا ادراک ہے۔ وفاقی حکومت کراچی کے مسائل کے حل کے لیے تمام وسائل مہیا کرے گی۔اجلاس میں کابینہ کی منظوری کے بغیر ہونے والی تعیناتیوں، مارگلہ روڈ پر قائم تجاوزات اور ملک کے بڑے ایئرپورٹس کو آؤٹ سورس کرنے سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اس کے علاوہ نیپرا اور سٹیٹ آف انڈسٹری کی سالانہ رپورٹ پیش کی گئی جبکہ بڑے شہروں میں کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کی منظوری دی گئی۔شرکا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے پر وزیراعظم کے فیصلہ کی تعریف کی جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اضافی بوجھ حکومت برداشت کرے گی۔اجلاس کے بعد کابینہ کے فیصلوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے  وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم جمعہ کے روز کراچی جائیں گے،کراچی کے عوام مشکل سے گزر رہے ہیں،صوبائی حکومت کراچی کے مسائل حل نہیں کرنا چاہتی،کراچی کے مسائل کے حل کیلئے بڑا پلان لارہے ہیں،بھارت ہمارا ازلی دشمن،ایف اے ٹی ایف بارے پروپیگنڈا کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔نوازشریف تین بار وزیراعظم منتخب ہوئے قانون کا سامنا نہ کرنے پر انہیں دوگنی سزا ہونی چاہئے شبلی فراز نے کہا کہ کراچی کے عوام مشکل صورتحال سے گزر رہے ہیں،ہماری تمام تر ہمدردیاں کراچی کے عوام کے ساتھ ہیں،وفاقی حکومت کراچی کے عوام کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گی،صوبائی حکومت کراچی کے مسائل کو سنجیدہ نہیں لے رہی،لگتا ہے کہ صوبائی حکومت کراچی کے مسائل حل نہیں کرنا چاہتی،وزیراعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ کراچی کے مسائل سے چھٹکارا حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں صاف پانی کی فراہمی بہت بڑا مسئلہ ہے،نکاسی آب،ویسٹ مینجمنٹ اور ٹرانسپورٹ کے مسائل بھی درپیش ہیں،کراچی کے مسائل کے حل کیلئے بڑا پلان لارہے ہیں،صوبہ سندھ اور کراچی کے مسائل کے حل کیلئے صوبائی حکومت کی معاونت درکار ہے،وزیراعظم عمران خان جمعہ کو کراچی جارہے ہیں،این ڈی ایم اے اور صوبائی حکومت کی مشاورت سے منصوبوں کا اعلان کیا جائے گا،وفاق نے این ڈی ایم اے کے ساتھ ملکر کراچی کے مسائل کے حل کیلئے پلان تیار کیا ہے۔شبلی فراز نے کہا کہ ڈاکٹر ثانیہ نشر کو احساس پروگرام کا دوسرا فیز شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،کورونا وباء کے بعد پاکستانی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے،حکومتی اقدامات کی بدولت معاشی ترقی کی شرح تیزی سے اوپر آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ(ن) کی تاریخ سے واقف نہیں ہیں،انہیں خواتین کے بارے میں اپنی جماعت کی تاریخ سے آگاہ ہونا چاہئے،مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ کے ساتھ جو سلوک روا رکھا عوام اسے بھولی نہیں ہے۔وفاقی وزیر شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی توجہ کا مرکز اس وقت کراچی اور اس کے مسائل ہیں،وفاق چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی کے ساتھ رابطے میں ہیں،خیبرپختونخواہ کے عوام نے تحریک انصاف پر دوبارہ اعتماد کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے وہ ہمیں نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا،بھارت کو ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے کامیاب نہیں ہونے دیں گے،سی پیک قومی مفاد کا منصوبہ ہے اس کی حفاظت کریں گے۔سابق وزیراعظم نوازشریف کی سزا کے خلاف اپیلوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں شبلی فراز نے کہا کہ نوازشریف تین بار ملک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں،انہیں قانون کا سامنا کرنا چاہئے،عدالت نے بھی نوازشریف کی واپسی کا حکم دے دیا ہے،تین بار منتخب ہونے والے وزیراعظم کو قانون کا احترام کرنا چاہئے،نوازشریف جیسے شخص کو تو دوگنی سزا ہونی چاہئے۔شبلی فراز نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) میں تقسیم کی وجہ سے نوازشریف نے لندن سے تصویر جاری کی،نوازشریف کو قانون کے سامنے پیش ہوکر سوالوں کے جواب دینا ہوں گے،انہیں پاکستان آکر پہلے گرفتاری دینا ہوگی اس کے بعد ان کی ضمانت کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے۔

شبلی فراز

مزید :

صفحہ اول -