ڈاکٹر عبدالقدیر الزامات کی تردید کریں ورنہ عدالت جاؤنگا، صدیق الفاروق

    ڈاکٹر عبدالقدیر الزامات کی تردید کریں ورنہ عدالت جاؤنگا، صدیق الفاروق

  

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) متروکہ وقف املاک بورڈ کے سابق چیئرمین صدیق الفاروق نے کہا ہے کہ وہ بوجھل دل کے ساتھ ڈاکٹر اے کیو خان سے درخواست کرتے ہیں کہ انہوں نے تمام حقائق کو فراموش کرتے ہوئے مجھ پر بلیک میلنگ کے ذریعے 2 کروڑ  روپے لینے کا جو الزام لگایا ہے اور ”چوروں کا سردار“ کہا ہے  اس پر تین دن کے اندر باضابطہ تردید الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر میں شائع کروائیں ورنہ میں اپنی عزت کے تحفظ کیلئے مجبوراً عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اے کیو خان نے میری داڑھی کی توہین کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ وہ اسلامی تعلیمات کی تبلیغ تو بہت کرتے ہیں لیکن عملاً انہوں نے اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کی ہے۔ کاش انہوں نے کم از کم سورۃالحجرات کا گہرا مطالعہ کیا ہوتا اور اسوہ رسولؐ کو سامنے رکھا ہوتا۔ صدیق الفاروق نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو 5 سال  بعدالزام عائد کرنے کی سوجھی۔ یہ باتیں صدیق الفاروق نے منگل کو یہاں ایک نیوز کانفرنس میں ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال ٹرسٹ لاہور کے بارے میں حقائق نامہ جاری کرتے ہوئے کہیں۔ متروکہ وقف املاک کے سابق چیئرمین نے کہا کہ انہیں وزراعظم  نوازشریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف  نے الگ الگ ٹیلیفون کرکے قانون کے مطابق  ڈاکٹر صاحب کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنے کی ہدایت کی۔ جس پر وہ یہ معاملہ متروکہ وقف املاک کے بورڈ کی 7اکتوبر 2015ء کو ہونے والی میٹنگ نمبر 293 میں لے گئے۔ بورڈ نے ایک کمیٹی  بنا دی جس نے اپنی سفارشات 7جنوری 2017ء کو جمع کروا دیں اوران سفارشات سے ڈاکٹر اے کیو خان نے اتفاق کیا جس کی اطلاع ہسپتال کے جنرل سیکرٹری نے متروکہ وقف املاک بورڈ کو باقاعدہ پہچائی۔ 15کنال 3مرلے کے اس پلاٹ کی لیز 4 کروڑ  روپے ناقابل واپسی زرضمانت لیز کی رقم اور ماہانہ کرائے کا باقاعدہ معاہدہ لاہور میں ہوا اوراس پر ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال ٹرسٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے اور متروکہ وقف  املاک بورڈ کے چیئرمین محمد صدیق الفاروق نے 21 دسمبر 2017ء کو 22 زمان پارک لاہور میں باقاعدہ دستخط کئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے معروف صحافی، کالم نگار اور مصنف جبار مرزا لیز سے متعلق تمام مراحل میں پیش پیش رہے اور متروکہ وقف املاک بورڈ کیلئے 2کروڑ  روپے کا ڈرافٹ انہوں نے ہی اداکر اکاؤنٹ برانچ کے حوالے کیا۔ صدیق الفاروق نے یہ بھی بتایا کہ ہسپتال کی سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں بطور مہمان  اعزاز نہ صرف تقریر کی بلکہ 2لاکھ روپے چندہ بھی پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا احمدعلی روڈ لاہور (بستی بیلارام) پر واقع 15کنال 3مرلے کے اس پلاٹ کے ایک حصے میں پہلے احباب ہسپتال قائم تھا جنہوں نے یہاں ناجائز  قبضہ کر رکھا تھا اور متعلقہ ایڈمنسٹریٹر کی رپورٹ پر میں نے اس بلڈنگ کر گرانے کی منظوری دے دی تھی۔ درمیانی عرصے میں ان لوگوں نے ڈاکٹر اے کیو خان کو تجویز پیش کرکے شوکت بابر درک اور فاروق بلوچ کے ذریعے معاملات طے کرلئے اور بلڈنگ ان کے حوالے کرکے خود نکل گئے۔ شاید ڈاکٹرصاحب کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ زمین متروکہ وقف بورڈ کی ملکیت ہے۔  اس لئے وہ مطمئن ہوگئے لیکن جب متروکہ وقف بورڈ کے ایڈمنسٹریٹر لاہور نے ان پر یہ صورتحال واضح کی اور میں نے قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا کہا تو ڈاکصر صاحب نے کچھ سینئر اخبارنویسوں سے شکایت کے علاوہ وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف کو الگ الگ خط لکھ کر مدد مانگی۔ محترم جبار مرزا، حکیم بابر اور کچھ دوسرے احباب کے ذریعے ڈاکٹر صاحب کو بتایا گیا کہ قانون سے ہٹ کر کوئی اقدام نہیں کیا جاسکتا۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے حکم کے مطابق ان کے ساتھ قانون کی روشنی میں زیادہ سے زیادہ تعاون کیا جائے گا۔ بالاخر یہ معاملات قانون کے مطابق سلجھ گئے۔ تاہم اگر اس پلاٹ کی کھلی نیلامی کی جاتی تو ناقابل واپسی زرضمانت (NRS) کی صورت میں 10 کروڑ روپے تک متروکہ وقف املاک بورڈ کو ملنے کی توقع تھی جبک کرایہ موجودہ کرائے سے شاید 10گنا زیادہ ہوتا۔ لیکن چونکہ قانون میں فلاحی ادارے کیلئے گنجائش موجود تھی اور بوڈ کی کمیٹی کی سفارشات بورڈ نے منظور کیں اس لئے یہ سب ممکن ہوا۔  انہوں نے  یاد دلایا کہ جب میرا بیٹا محمد علی فاروق فوت ہوا تو ڈاکٹر اے کیو خان نے ہسپتال کی ایک وارڈ اس کے نام منسوب کی اور اس کی تصویر بھی مجھے بھیجی۔ اس کے علاوہ  علی فارق کیلئے ٹرسٹ ہسپتال میں قرآن خوانی بھی کرائی گئی اور جنرل سیکرٹری شوکت ورک نے اس کی تصویریں بھی مجھے بھیجیں۔ اس کے بعد ایک طویل عرصے تک ڈاکٹر اے کیو خان مجھے روزانہ صبح بخیر کا پیغام بھیجتے رہے اور میں جواب بھی دیتا رہا۔ صدیق الفاروق نے بتایا کہ معاہدے کے مطابق جب ٹرسٹ ہسپتال کی انتظامیہ نے بار بار کی یاددہانی کے باوجود بقایا 2کروڑ روپے اور کرائے کی ادائیگی نہ کی بلکہ پہلے سے جمع شدہ 2 کروڑ  روپے کی واپسی اور بقایا  رقم معاف کرنے کی درخواست دی تو متروکہ وقف املاک بورڈ کی انتظامیہ یہ معاملہ بالاخیر بورڈ کے پاس لے گئی جس نے لیز منسوخ کردی۔ اس کے بعد ٹرسٹ ہسپتال بورڈ کے جنرل سیکرٹری شوکت بابر ورک نے اپنے وکیل سید ذوالفقار علی شاہ کے ذریعے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر لاہور کی عدالت میں پٹیشن فائل کی۔ بالاخر اے کیو خان ہسپتال انتظامیہ نے تمام واجبات ادا کردیئے۔

صدیق الفارووق

مزید :

صفحہ اول -